آزاد جموں و کشمیر، صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات برفیلی چوٹیوں، بُلند و بالا سرسبز پہاڑوں، بہتے جھرنوں،گرتے آبشاروں، پُرسکون جھیلوں، ہموار سبزہ زاروں اور حیاتیاتی تنوع کی دولت سے مالا مال کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں آباد ہیں۔ ان علاقوں کی بُلند برفیلی چوٹیوں سے بہہ کر آنے والے پانیوں سے ملک کے کھیت سیراب ہوتے ہیں اور انہی کے جنگلات کی لکڑی ملک بھر میں تعمیراتی لکڑی کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ خشک میوہ جات اور تازہ پھلوں کی بڑی مقدار بھی یہیں سے آتی ہے۔ہمارے ماحولیاتی منظر نامے میں شمالی علاقوں کی نہایت اہمیت ہے، لیکن گذشتہ دہائیوں سے قدرتی وسائل پر پڑنے والے بے تحاشہ دباؤ کے سبب ان علاقوں کے فطری ماحول میں وسیع پیمانے پر انحطاط دیکھنے میں آیا۔

زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے اورشمالی پاکستان میں اس سے ہونے والی اموات کاایک بڑا سبب پہاڑوں سے مٹی کے تودوں اور چٹانی ٹکڑوں کے لڑھکنے کا عمل رہا ہے۔ فِکر انگیز لمحہ یہ ہے کہ پہاڑوں سے مٹی کے تودوں اور چٹانی ٹکڑوں کے گرنے کا عمل وہاں سب سے شدید رہا ہے، جہاں کبھی جنگلات بڑی تعداد میں موجود تھے، لیکن ان پر حضرتِ انساں کے کلہاڑے اتنی تیز رفتاری سے چلے کہ صرف چٹیل پہاڑ ہی باقی بچے اور جب زلزلہ نے زمین کو ہلایا تو ان پر جمی مٹی اورپتھروں سے جو قیامت برپا ہوئی، وہ سب پر عیاں ہے۔یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جن علاقوں میں جنگلات گھنے تھے، وہاں مٹی کے تودوں کے گرنے کے واقعات بہت ہی کم رونما ہوئے، یوں ان کے سبب اموات کی شرح بھی کم رہی۔

زلزلے کے بعد جہاں متاثرہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی، وہیں ماحولیاتی مسائل نے بھی سراٹھایا۔ پہاڑوں سے مٹی کے تودوں کے گرنے کا عمل اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے سبب آبی گزرگاہوں اور ان میں بہنے والے پانی میں بڑے پیمانے پر مٹی اور ریت کی آمیزش ہوچکی ہے۔ اس صورتِحال سے دریائے کنہار، نیلم ، جہلم اور ان کی معاون آبی گزرگاہیں بُری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ یہ دریا پانی کے ساتھ مٹی اور ریت کی بڑی مقدار کو نشیب میں واقع منگلا ڈیم تک لے جارہے ہیں، جو کہ پہلے ہی بھل کی زیادتی کا شکار ہے اور یہ صورتِحال اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو مزید کم کردے گی۔ علاوہ ازیں زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں ٹھوس فضلہ و ملبے کو ٹھکانے لگانا، قدرتی وسائل خصوصاً انحطاط پذیر جنگلات کا تحفظ ، متاثرین کی معاشی بحالی، ماحول دوست تعمیرِ نو اور مجموعی طور پر تحفظِ ماحول کے اہم سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس وقت جب کہ متاثرین کی بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل کا آغاز کیا جاچکا ہے، یہ سوالات اس لیے بھی اہمیت اختیار کرچکے ہیں کہ ان علاقوں میں بقائے ماحول کا انحصار بڑی حد تک ان کے جوابات پر منحصر ہے۔

'جریدہ' کا زیرِ نظر شمارہ زلزلے کے حوالے سے خصوصی طور پر مرتب کیا گیا ہے۔اگرچہ زلزلے کے بعد قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس موضوع پر بہت کچھ لکھا، کہا اور دکھایا جاچکا ہے، لیکن ہم نے ماحول کو درپیش صورتِحال اور انسانوں پر اس کے اثرات کو موضوع بنایا، جس کے بارے میں ذرائع ابلاغ نے کم توجہ دی ہے۔ زلزلے کے بعد بقائے ماحول اور پائیدار بحالی کے حوالے سے پیدا شدہ صورتِحال کے بارے میں 'جریدہ' کا یہ خصوصی شمارہ قارئین کی معلومات اور منصوبہ سازوں کے لیے فیصلہ سازی میں یقیناً مفید ثابت ہوگا۔

مختار آزاد