دریاؤں کے ہمساۓ پہاڑوں سے گرنے والی مٹی کے تودے نے پانی میں ریت کی آمیزش بڑھادی ہے- (مختار آزاد)

25دسمبر2005ء کی ایک سرد شام تھی۔ جزائر انڈمان کے قبائل کرسمس کی خوشیاں منانے کے لیے ساحلِ سمندر پر اکھٹے ہورہے تھے۔ ہر طرف ساز و آواز اور رقص و سرور کے سامان سجائے جارہے تھے۔ اسی دوران شام پانچ بجے کے لگ بھگ بعض لوگوں نے جیٹی پر لیٹے ہوئے ایک سانپ کا مشاہدہ کیا۔ بات آئی گئی ہوگئی، لیکن ابھی ایک گھنٹہ ہی گذرا ہوگا کہ مزید کچھ اور سانپ بھی ساحل پر آلیٹے۔ اس بار معاملہ نذر انداز کیے جانے کے دائرے سے باہر تھا۔ لوگوں کے ماتھے ٹھنکے اور چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ دوسری طرف کرسمس کی رنگ و نور سے بھرپور محفل کی تیاریاں بدستور جاری تھیں۔جوں جوں وقت گذرتا جارہا تھا، ماحول میں غیر محسوس طور پر تبدیلی کے آثار نمایاں ہوتے جارہے تھے۔ قریب قریب نو بجے شب تک جزیرے کی چھوٹی سی خستہ حال بندرگاہ کا پورا احاطہ کیکڑوں، سانپوں، مینڈکوں اور پانی وخشکی، دونوں جگہوں پر زندہ رہنے والی مختلف بحری حیاتیاتی انواع سے اَٹ چکا تھا۔ آہستہ آہستہ اس صورتِحال نے مقامی قبائلیوں میں سراسمیگی پھیلادی۔ کرسمس کی تقریبات کا رنگ پھیکا پڑنے لگا اور لوگ کسی نادیدہ خوف کے شکنجے میں جکڑنے لگے۔ ایسا لگتا تھا کہ انڈامان کے قدیم طرزِ معاشرت میں زندگی بسر کرنے والوں نے اپنے پُرکھوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والے علم کی بدولت آفت کی آمد کا خطرہ بھانپ لیا تھا۔ دھیرے دھیرے لوگ ساحل سے دور ہونے لگے۔ اب وہ جلد از جلد یہاں سے بہت دور کسی ایسے مقام تک پہنچنا چاہتے کہ جہاں ساحل اور آفت دونوں بہت پیچھے رہ جائیں۔ ان قبائلی باشندوں کی تعداد کچھ زیادہ نہ تھی، اس لیے راتوں رات ہی نقل مکانی کا عمل مکمل ہوگیا۔

رات ڈھل گئی اور جب دن نکلا تو سونامی کہ منہ زور قاتل لہروں نے سیکڑوں میل کی رفتار سے بحرِ ہند کے اطراف میں واقع درجن بھر ممالک کے ساحلوں کا رُخ کیا۔ پھر جو تباہی پھیلی تو املاک تو املاک تین لاکھ کے لگ بھگ انسان موت کی وادی میں جا بسے، مگر جزائر انڈامان کے رموزِ فطرت سے آشنا خوش قسمت قبائل جو جانوروں کی بڑی تعداد اور ان کی بے چینی کے اسباب سے واقف تھے، ہلاکت خیز سونامی کی لہروں میں پھنس کر موت کے منہ میں جانے سے محفوظ رہے۔

کم و بیش پون سال بعد 8اکتوبر2005ء کی صبح کا منظر ہے۔ جنت نظیر وادیِ کشمیر اور ملحقہ ہزارہ ڈویژن کے پہاڑی علاقوں کے مکین حسبِ معمول اپنے روز مرہ معمولات میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب گاؤں کی گلیوں میں کتے مسلسل بھونک رہے ہیں۔ بلیاں آسمان کی طرف منہ اٹھائے رورہی ہیں۔صحن میں کھونٹے سے بندھے مویشی بے چینی سے دائرے میں گھومتے ہوئے رسیاں تڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔فضا میں منڈلانے والے پرندوں کی تعداد میں بھی اچانک اضافہ ہونے لگتا ہے۔ محکمئہ موسمیات کی رسد گاہ میں لگی گھڑی صبح کے آٹھ بج کر پچاس منٹ کا اعلان کرنے والی ہے کہ اچانک لمحہ بھر میں بے قرار چرند پرند اور کتے بلیوں کو جیسے کہ قرار آگیا، لیکن صرف لمحے بھر کا، اور پھر اگلے ہی لمحے زمین زور سے تھرتھرائی اور ڈگمگانے لگی، پہاڑ لرز نے لگے، ارضیاتی شکست و ریخت کی گڑگڑاہٹ اور عمارتوں کے زمیں بوس ہونے کی خوفناک آوازیں فضا میں گونجنے لگیں۔ لمحے بھر میں حیات سے موت کی منزل کا سفر شروع ہوگیا۔ کاش کسی عقلمند نے ان بے زبان جانوروں کی بے چینی کو محسوس کرلیا ہوتا، کرب میں ڈوبے ان کے اشاروں پر کان دھرلیے ہوتے اور ان کی معمول سے ہٹی ہوئی حرکتوں پر توجہ دی ہوتی تو شاید انڈامان کے قدیم طرزِ معاشرت میں زندگی بسر کرنے والے سادہ لیکن عقلمند قبائل کی طرح بہت سے لوگ اپنی زندگی بچانے میں کامیاب ہوسکتے تھے۔

باور کیا جاتا ہے کہ جانوروں کی مختلف انواع اپنی مخصوص حسیاتی خصوصیات کی بنا پر زمین یا فضا کے درجئہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی کے اثرات اور آمدہ قدرتی سانحات مثلاً زلزلے جیسی تباہ کن قدرتی آفت کے آثار کئی گھنٹوں پہلے محسوس کرلیتے ہیںاور پھر اپنی غیر معمولی بے چینی سے اس کا اظہار کرتے ہیں ۔ ایسے متعدد ثبوت ہماری قدیم اور عصری تاریخ کا حصہ ہیں۔یہی وجہ ہے آج ماہرین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیوں نہ تصویر کے اس رُخ پر بھی تحقیق کے نئے در کھولے جائیں۔ یاد رہے کہ373قبل مسیح میں یونان کے تاریخ دانوں نے پیلس شہر میں آنے والے تباہ کُن زلزلے سے صرف ایک دن پہلے نیولوں، سانپوں، چوہوں اوردیگر حشرات الارض و آوار جانوروں کی نقل مکانی کو اپنی خصوصی دلچسپی کا موضوع بنایا تھا۔ ہزاروں سال بعد1975ء میں چین کے شہر ہیچنگ میں ایک دانا شخص نے جانوروں کی بدلی ہوئی روش کے پیشِ نظر شہریوں کو انخلا پر آمادہ کیا اور پھر اگلے ہی روز واقعتاً لاکھوں نفوس والا یہ شہرزلزلہ پیما پر سات اعشاریہ تین کی شدت والے تباہ کن زلزلے سے لرز اٹھا، تاہم جانوروں کے اشارے سمجھ لینے کی بدولت جانی نقصان بہت ہی کم رہا۔

ماضی میں ماہرینِ ارضیات زلزلے کے حوالے سے جانوروں کے خاص کردار کے بارے میں بہت زیادہ پُراعتماد نہیں تھے۔ اُن کے خیال میں یہ محض ضعیف الاعتقادی یا پھر اتفاق کا معاملہ ہے، تاہم تسلسل کے ساتھ ایسی اطلاعات نے انہیں اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اب ماہرینِ ارضیات، ماہرینِ حیوانات کے ساتھ مل کر زلزلے سے متعلق قبل از وقت آگاہی کے نظام کی کوششوں میں اس پہلو پر بھی اپنی پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے آئندہ برسوں میں جانوروں کی یہ حسِ خاص کسی حد تک انسانی جانوں کے بچاؤ کاذریعہ ثابت ہوجائے۔

عبد المناف قائم خانی