ماحولیاتی مسائل کے سبب ہر برس لاکھوں افراد بے گھر ہورہے ہیں- اندازہ ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں ان کی تعداد پـچاس ملین کے قریب پہنچ سکتی ہے-

 

تحريروتصاوير: مختار آزاد

 


قدرتی آفات ارضی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے، جو ہر دور میں دُہرایا جاتا رہا ہے، لیکن گزشتہ دہائیوں میں ان کے وقوع پذیر ہونے میں وقفہ تیزی سے کم ہوتا جارہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے شعبہ انسدادِ مسائل و بحالی کی رپورٹ کے مطابق ''دنیا کی75فیصد آبادی ان علاقوں میں رہتی ہے جو1980ء سے لے کر2000ء کے دوران کم از کم ایک بار زلزلہ، سمندری طوفان، سیلاب اور خشک سالی کے سبب قحط جیسی قدرتی آفات کا سامنا کرچکے ہیں۔''

اگرچہ قدرتی آفات زمین کے فطری ماحول کو متاثر کرتی ہیں، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ صحتمند قدرتی ماحول ان سانحات کے سامنے ڈھال بھی بنتا ہے، جس کی سب سے بڑی مثال2004ء کے آخر میں سونامی کے دوران دیکھنے میں آئی، جب تِمر کے ساحلی جنگلات منہ زور لہروں کے آگے مضبوط رکاوٹ ثابت ہوئے اور جہاں جہاں یہ ساحلی جنگل موجود تھے، وہاں سونامی کی لہریں زیادہ شدت کا نقصان نہ پہنچاسکیں۔مگر گزشتہ عشروں کے دوران انسانی سرگرمیوں کے سبب کرئہ ارض کے قدرتی ماحول کو تیزی سے پہنچنے والے نقصانات نے اس ڈھال کو کمزور بنادیا ہے۔ کیا قدرتی آفات ماحولیاتی مسائل کے سبب جنم لیتی ہیں یا ماحول کا انحطاط قدرتی آفات کو جنم دیتا ہے؟ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہر بشریات اور اقوام متحدہ کے لیے خدمات انجام دینے والے پروفیسر اولیور اسمتھ اس حوالے سے اپنی رائے دیتے ہیں!

''لوگ سمجھتے ہیں کہ تقریباً تمام ماحولیاتی سانحات قدرتی آفات کا نتیجہ ہیں، لیکن درحقیقت یہ انسانی سرگرمیوں مثلاً قدرتی وسائل کا ناپائیدار استعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں، جو رفتہ رفتہ ایک بڑے سانحے کی شکل میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔''

پروفیسر آلیور کی رائے سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے، لیکن اس کو یکسر مسترد کرنا شاید آسان نہیں۔کون کون سی قدرتی آفات 'ماحولیاتی سانحات' ہیں اور کون سی نہیں، یا یہ کہ کس سانحے کے وقع پذیر ہونے میں انسانی سرگرمیوں اور قدرتی وسائل کے ناپائیدار استعمال کا تعلق موجود ہے، اس سے قطع نظر ایک بات بالکل درست ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران قدرتی آفات کے نتیجے میں جہاں ایک طرف انحطاط پذیر قدرتی ماحول مزید کمزور ہوا، وہیں متاثرہ ملکوں کی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔سب سے بڑھ کر ان قدرتی آفات نے جس سب سے بڑے مسئلے کو جنم دیا وہ' انسانی مسئلہ' ہے۔

پاکستان میں ماحولیاتی ہجرت

سلیم ملاح کی عمر چالیس سال سے زائد ہے اور اس کا کنبہ بیوی، تین بچوں اور بوڑھی ماں پر مشتمل ہے۔ اس کا آبائی پیشہ زراعت اور ماہی گیری رہا ہے۔ سلیم کا گوٹھ بدین کے قریب اس ساحلی مقام پر واقع تھا کہ جسے زیرو پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران سمندر رفتہ رفتہ آگے کی جانب بڑھتا رہا اور یوں اس کی زمینیں اور گوٹھ دونوں زیرِ آب آگئے۔ اب وہ ٹھٹہ کے قریب واقع ہالیجی جھیل کے کنارے غیر آباد زمین پر جھونپڑی ڈال کر رہتا ہے اور جھیل کے کنارے لگی ہوئی رمزی گھاس کاٹ کر اس سے چٹائیاں بناتا ہے۔ اس کام میں بیوی، ماں اور بچے سب اس کی مدد کرتے ہیں۔ سلیم ملاح کا کہنا ہے '' دن بھر میں ہم سب مل کر تین چٹائیاں بنالیتے ہیں اور دکاندار فی چٹائی 25روپے کے حساب سے خریدلیتا ہے۔''

بات یہاں رکتی نہیں۔ سلیم کو دیکھتے ہوئے دیگر متاثرین نے بھی یہاں کا رُخ کیا اور اب وہ بھی یہی کام کرتے ہیں۔ گزشتہ عشرے میں منچھر جھیل میں زہر آلود پانی چھوڑے جانے کے سبب بڑی تعداد میں یہاں آباد ماہی گیروں نے ہجرت کی۔دریائے سندھ سے زیریں کوٹری بیراج دریائی پانی نہ چھوڑے جانے کے سبب انڈس ڈیلٹا کے علاقے میں معاشی ابتری اور سمندر کے آگے بڑھنے کے باعث سلیم اور اس جیسے ہزاروں لوگ معاشی اور ثقافتی طور پر بُری طرح متاثر ہوئے، لیکن ماحولیاتی مسئلے کے سبب کی جانے والی ہجرت کے باوجود ان کے سامنے نہ تو پائیدار مستقبل ہے اور نہ ہی ان جیسوں کی بحالی کے لیے باقاعدہ کوئی ادارہ۔ فِکر کی بات یہ ہے کہ سمندر آگے بڑھ آنے کی وجوہات میں ماحولیاتی پہلو بھی ہے ، لیکن اس طرح کے متاثرین کی باقاعدہ بحالی کے منصوبوں کی عدم موجودگی بچے کچھے قدرتی وسیلے پر مزید دباؤڈال رہی ہے۔ غیر دانشمندانہ استعمال یا قدرتی وسائل کی قوت سے زیادہ اُن پر انحصار اِن وسائل کو تیزی سے ختم کردے گا تو پھر کیا کریں۔یہ سوال جب میں نے سلیم ملاح سے کیا تو انہوں نے کہا!

'' در بدر تو ہو ہی چکے ہیں۔ جب تک روزی لکھی ہے، یہاں سے ملے گی، ورنہ کہیں اور چلے جائیں گے۔ کیا کریں اب تو یہی اپنی قسمت ہے۔''

کیا ماحولیاتی انحطاط کے سبب ہجرت کر کے بے یارو مدگار ہوجانے والے اس طرح کے لوگوں کی بحالی کرکے ہم اپنے انحطاط پذیر ماحول کو مزید تباہ ہونے سے بچائیں گے، یا پھر ان مہاجرین اور قدرتی وسائل، دونوں کو قدرت کے حوالے کرکے اپنی قسمت کے فیصلے کے ظہور میں آنے کے منتظر رہیں گے؟

مختار آزاد


گزشتہ ایک برس کے دوران ہم بحرِ ہند میں اٹھنے والی سونامی اور حال ہی میںپاکستان میں آنے والے زلزلے جیسی شدید ترین قدرتی آفات کا مشاہدہ کرچکے ہیں۔ سونامی سے12ممالک میں ڈھائی سے تین لاکھ کے درمیان افراد لقمئہ اجل بنے تو موخرالذکر زلزلہ بھی ایک لاکھ کے لگ بھگ انسانی جانوں کو نگل گیا۔ ان آفات کے نتیجے میں ماحول پر کیا اثرات مرتب ہوئے، یہ الگ موضوع ہے، البتہ ان کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر اور ذرائع معاش سے محروم ہوئے، جو آئندہ برسوں تک نہ صرف ملکوں کی معیشت پر اثر انداز ہوںگے، بلکہ متاثرہ ممالک میں غربت میںکمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ انحطاط پذیر قدرتی وسائل کو بھی مزید خطرات کے قریب تر کردیں گے۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں ماحولیات کے حوالے سے سرگرم محققین کا اتفاق ہے کہ قدرتی آفات کے نتیجے میں متاثرین کی بڑی تعداد غربت کی لکیر یا اس کے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی ہوتی ہے، جو زندگی بسر کرنے کے لیے'قدرتی وسائل' پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں۔ 2004ء میں سونامی پر اقوام متحدہ کی جاری کی گئیThe UN's Rapid Environmental Assesment رپورٹ بھی مذکورہ بالادلیل کو تقویت بخشتی ہے، جس میں کہا گیا ہے!

'' اس سانحے کے متاثرین کی بڑی تعداد ان غریب لوگوں پر مشتمل ہے جو ذرائع معاش کے لیے قدرتی ماحول کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں اور زندگی بسر کرنے کے لیے قدرتی وسائل پرانحصار کرتے ہیں۔''

اگرچہ احتیاطی تدابیر کے باعث گزشتہ دو دہائیوں میںقدرتی سانحات کے سبب ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، لیکن دوسری طرف متاثرہ افراد کی تعداد اور معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کی شرح میں تیز رفتار اضافہ ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق''1990ء کی دہائی میں دنیا بھر میں قدرتی آفات سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد8لاکھ رہی ہے، جبکہ1970ء کی دہائی میں 20لاکھ افرادہلاک ہوئے تھے، لیکن ہلاکتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہواہے، جس کے اثرات طویل المدت ہیں ۔ ''

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز ہر سال اپنے محقیقن کی مرتب کردہWorld Disasters Reportجاری کرتی ہیں۔ 2004ء میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق1994ء سے1998ء کے درمیان قدرتی آفات کی اوسط تعداد428سالانہ رہی،لیکن1999ء سے 2003ء کے درمیانی عرصے میںاس تعداد میںاچانک دو تہائی کا اضافہ ہوا اور سالانہ اوسط کی یہ شرح بڑھ کر 707تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں ہوا، جہاں اس سے متاثرہ افراد کی شرح میں142فیصد کا اضافہ ہوا۔'' رپورٹ میں مزیدکہا گیا ہے کہ'' ہر سال قدرتی آفات کے نتیجے میںدنیا بھر میں 211ملین افراد برائہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ یہ تعداد جنگوں، خانہ جنگی اور بین الملک تنازعات کے باعث متاثر ہونے والے افراد کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔'' رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ''گزشتہ ایک دہائی میں دنیا بھر میں ساڑھے چھ لاکھ افراد قدرتی آفات کے باعث ہلاکت کا شکار ہوئے۔ اس تعداد کے90فیصد کوقحط، آندھی و طوفان اور سیلابوں کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔'' مذکورہ بالا تعداد میں بحرِ ہند سے اٹھنے والے سونامی سے متاثرہ بارہ ممالک کے لاکھوں ہلاک و لاپتہ ہونے والے افراد شامل نہیں ہیں۔

'عالمی قدرتی آفات2004ئ' نامی رپورٹ کے مطابق'' دنیا بھر میں تیزی سے اس تباہی کی بڑھتی ہوئی شرح عالمی معیشت کو بھی بُری طرح متاثر کرنے کا سبب ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران قدرتی سانحات کے سبب معیشت کو پہنچنے والے مالی نقصان میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے اور 2003ء تک یہ نقصان مجموعی طور پر629ارب امریکی ڈالر کے مساوی ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں صرف موسم کی شدت کے سبب معیشت کو پہنچنے والے سالانہ نقصانات کا جائزہ لیا جائے تو1950ء کی دہائی میں اس کی شرح3.9ارب ڈالر سالانہ تھی جو2003ء میں بڑھ کر63ارب امریکی ڈالر سالانہ ہوچکی ہے۔'' عالمی شہرت یافتہ بیمہ کمپنی 'میونخ رے' کی 2004ء میں مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق ''صرف 2003ء میں تقریباً 700 قدرتی سانحات وقوع پذیر ہوئے، جس کے باعث70ہزار افراد موت کا نوالہ بنے اور ان سانحات کے سبب65ارب امریکی ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔

قدرتی آفات اوران کے نقصانات پر کی جانے والی اس بحث میںدیے گئے حوالے بالعموم اُن بڑی تباہیوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جن کا کہ حال ہی میں ہم گہرائی سے مشاہدہ اور تجزیہ کرچکے ہیں جیسا کہ سونامی، لیکن یہاں یہ سمجھ لینا درست نہ ہوگا کہ قدرتی آفات کا رُخ یہی ہوتا ہے۔ ہاں زلزلہ ، طوفان، سونامی اور سیلاب بھی قدرتی آفات ہیں، لیکن ان تیز رفتار تباہیوں کے ساتھ ساتھ بعض وہ آفات بھی ہیں کہ جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ماحولیاتی انحطاط سے مربوط ہیں اور ان کے ظہور پذیر ہونے کا عمل بتدریج انتہائی سنگینی کی طرف پہنچتا ہے ،لیکن اس سست رو عمل کے دوران انتہائی سنگینی کے نکتے تک پہنچنے سے بہت پہلے ہی وہ انسانی زندگیوں اور معیشت پر اپنے منفی اثرات واضح انداز میں مرتب کرنا شروع کردیتے ہیں، جیسا کہ صحرا زدگی، زمینی کٹاؤ، آبی کٹاؤ، زمین بُردگی،بارشوں میں کمی، قحط، زمین سے سبزہ ناپید ہونے کے سبب چراگاہوں کا خاتمہ، قدرتی وسائل سمیت زراعت، غلہ بانی اور ان پر انحصار کرنے والے لوگوں کا تلاشِ معاش کے لیے کسی اور مقام پر ہجرت کرجانا۔

اگر بیسویں صدی میں زمینی ماحول میں تبدیلی یا قدرتی سانحات کے سبب لوگوں کا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرجانے کی مثال ڈھونڈنا ہوتو اس کے لیے امریکا میں1930ء کی دہائی میں اٹھنے والے گرد و غبار کے طوفان ، جسےDust Bowl کا نام دیا گیا،کی مثال ہی کافی ہوگی۔ تاہم بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں ماحولیاتی مسائل کی شدت اور قدرتی آفات کے باعث لاکھوں افراد نے گھر بار چھوڑا اور ان مقامات کی راہ لی کہ جہاں انہیں معاشی آسانیاں میسر آسکتی تھیں۔ اسی وجہ سے دو اصطلاحیں بنیں۔ ایک 'معاشی مہاجرین' اور دوسرا 'ماحولیاتی مہاجرین'۔ اگرچہ دونوں اصطلاحیں اور ان کی تعریف کسی حد تک جدا جدا ہیں ،لیکن ماحولیاتی مسائل کے سبب ہجرت کرنے والے' معاشی ہجرت' کی تعریف کے دامن کی وسعت میں بھی خود کو سمالیتے ہیں۔ یاد رہے کہ' معاشی ہجرت' کا سبب ماحولیاتی مسائل نہیں ہوسکتے، البتہ ماحولیاتی مسائل کے سبب ہجرت کرنے والوں پر 'معاشی ہجرت' کا بھی اطلاق ہوجاتا یا کیا جاسکتا ہے۔ جنگوں اور بین الملک تنازعات کے سبب زندگی بچانے کے لیے ہجرت کرنے والے دنیاکی فوری توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوکرعبوری ہی سہی لیکن کسی حد تک اپنی بحالی کے لیے امدادحاصل کرہی لیتے ہیں، مگرسست رو ماحولیاتی مسائل کے شکار افراد کا انخلا عموماً 'بڑی تعداد' میں اور' بیک وقت 'نہیں ہوتا، اس لیے ان کے مسائل اجاگر نہیں ہوپاتے، یوں ان کے مسائل زیادہ سنگین نوعیت اختیار کرجاتے ہیں، تاوقتیکہ سونامی ، زلزلے یا طوفان جیسی حادثاتی اور شدید نوعیت کی قدرتی آفت وقوع پذیر ہو اور اس کے باعث لوگ بڑی تعداد میں متاثر یا بے گھر نہ ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں ایسے افراد موجود ہیں کہ جنہیں ماحولیاتی مہاجرین کہا جاسکتا ہے۔ اس صورتِحال کی سنگینی کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے دنیا کے ممالک کی توجہ اس مسئلے کی جانب دلاتے ہوئے2005ء میں خبردار کیا ہے کہ''2010ء تک دنیا بھر میں ایسے لوگوں کی تعداد50ملین تک پہنچ سکتی ہے کہ جو اپنے گھروں اور زمین کو ماحولیاتی مسائل کے سبب چھوڑکر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔''

عالمی سطح پر دیکھا جائے تو دنیا کے متعدد ممالک ایسے ماحولیاتی مسائل کا شکار ہیں کہ جس کے سبب آئندہ برسوں میں ماحولیاتی مہاجرین کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کا خدشہ بجا نظر آتا ہے۔ ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق یمن کے دارالحکومت صنعاء کی آبادی1972ء کے بعد سے اوسطاً ہر چھ سال بعددُگنی ہوجاتی ہے۔ اس وقت نو لاکھ سے زائد آبادی والا یہ شہر زیرِ زمین پانی پر انحصار کرتا ہے۔ بے تحاشہ استعمال، طلب میں روز افزوں اضافہ اور صحرائی ماحول کے سبب بارشوں کے تناسب میں کمی کی سے زیرِ زمین پانی کا ری چارج نہ ہونے کے برابر ہے۔ یوں ہر سال اس کی سطح چھ فٹ گرتی چلی جارہی ہے۔ خدشہ ہے کہ2010ء تک زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ ختم ہوجائے گا اور اس پر انحصار کرنے والوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

چین کے صحرائے گوبی کا رقبہ ہرسال10ہزار مربع کلومیٹر کی شرح سے پھیل رہا، جس سے کہ متعدد انسانی بستیوں اور ان کے ذرائع معاش کا مستقبل خطرے میں ہے۔ آکسفورڈ میں مقیم ماہرِ ارضیات نارمن مائرز کا کہنا ہے ''صحرا زدگی کے سبب مراکش، تیونس اور لیبیا میں ہر سال اوسطاً ایک ہزار مربع کلومیٹر زرخیز زمین صحرا میں تبدیل ہورہی ہے اوراسی شرح سے اس پر انحصار کرنے والے در بدر ہورہے ہیں۔''

اسی طرح مصر میں قابلِ کاشت زمین کا نصف سیم کا شکار ہے اور ترکی میں1لاکھ،60ہزار مربع کلومیٹر زرعی رقبہ زمین بُردگی کا شکار ہوچکا ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں بتدریج ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اورزمین کے بڑھتے ہوئے درجئہ حرارت کے سبب سمندروں کی سطح میں بُلندی بھی ماہرین کی تشویش کا سبب ہے۔ ایک غیر حتمی اندازے کے مطابق دنیا بھر میں مجموعی طور پر 100ملین سے زائد افراد سطحِ سمندر سے نیچے واقع زمین پر سکونت رکھتے ہیں ، یوں انہیں آئندہ برسوں میں بتدریج سنگین ہوتی ہوئی صورتِحال کے باعث شدید سمندری طوفانوں کے خطرات لاحق ہیں اور تباہی ان کی جانب منہ کھولے ہوئے بڑھ رہی ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ ان خطرات کا اِدراک نہیں ہے بہت سے ایسے ممالک ہیں جو کہ پیش بینی کے تحت مستقبل کے لیے لائحہ عمل تیار کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر زیریں بحرالکاہل کی جزیرہ ریاستTuvaluنے ہمسایہ ملک نیوزی لینڈ سے ایک معاہدہ کیا ہے کہ اگر سطحِ سمندر کی بُلندی کے نتیجے میں اِس جزیرہ ریاست کا غرقاب ہونا یقینی ہوچلے تو وہ اس کے 11ہزار، 600باشندوں کو بطور شہری قبول کرلے گا۔

دنیا بھر میں بین الملک تنازعات اور جنگوں کے باعث ہجرت کرنے والوں کی بحالی کے لیے عالمی طے شدہ طریقہ کار موجود ہے، لیکن یہاںسوال پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیاتی مسائل کے سبب بے گھر ہونے والے لوگوں کا مستقبل کیا ہے؟ اس بارے میںاقوامِ متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل ہینس وین جنکل کہتے ہیں:

'' یہ ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ ہے۔1951ء میں 'مہاجرین' کی روایتی اور طے شدہ تعریف اور ان کی مدد کا واضح طریقئہ کار موجود ہے، لیکن ماحولیاتی مہاجرین اس پرپورا نہیں اترتے۔ مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اب ہمیں اس جانب سنجیدہ توجہ دینی ہوگی اور طے کرنا ہوگا کہ ہم کس طرح انہیں عالمی سطح پر مدد فراہم کرسکتے ہیں۔''

عالمی سطح پر ماحولیاتی مہاجرین کے لیے اقدامات کیے جانے کی بات اپنی جگہ، تاہم حالیہ زلزلے اور پاکستان کے انحطاط پذیر قدرتی ماحول و ماحولیاتی مسائل کے سبب ہونے والی ہجرت کے موضوع پر تحقیق کر کے مستقبلِ قریب میںایک بڑے انسانی بحران سے بچنے کے لیے ہمیں ابھی سے تحقیقی بنیادوں پر ٹھو س قدامات کرنا ہوں گے۔

 

 

 

مختار آزاد ’جریدہ‘ کے مدیر ہیں۔