بڑھتی ہوئ آبادی صحرازدگی، روائتی چولوں سے پھیلنے والی آلودگی کو جانچنے اور بارانی جنگل کٹنے تک --- تازہ ترین عالمی حقائق

 

انتخاب: ناصر پنہور       ترجمہ: ذيشان حيدر

 

 

خلائی تحقیق کے امریکی ادارے 'ناسا' نے انکشاف کیا ہے کہ کرئہ ارض پر صحرا زدگی کا عمل تیز ہوگیا ہے اور زمین تیزی سے ریگستان میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ سائنسدانوں نے فضائی جائزوں کے تجزیے کے بعد یہ انکشاف کیا ہے۔ سائنسدانوں کے لیے یہ بات ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ سائنسی بنیادوں پر یہ معلوم کریں کہ صحرؤں کے پھیلاؤ سے ماحول میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ یہ تجزیہ صحراؤں کے پھیلاؤ کے پس پردہ عوامل کو سمجھنے میں ماہرینِ ماحول کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔

زمین کا ایک بڑا استعمال چراگاہوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں خشک، نیم بنجر اور نیم مرطوب علاقوں میں چراگاہیں پائی جاتی ہیں، لیکن ان میں سے بعض علاقے اتنی تیز ی سے صحرا میں تبدیل ہورہے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کو یہ مسئلہ اپنے ماحولیاتی ایجنڈے میں سرِ فہرست لانا پڑا ہے۔

سائنسدانوں نے تحقیق کے دوران اس بات کا بھی پتہ چلایا ہے کہ جب کوئی علاقہ صحرا زدگی کا شکار ہوتا ہے تو وہاں پائی جانے والی نباتات میں بھی تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں ۔صحرائی علاقوں کا پھیلاؤ کرئہ ارض کو درپیش سنگین ماحولیاتی مسائل میں سے ایک ہے۔ صحرا زدگی کا مسئلہ بھی آب و ہوا، نباتات اور انسانی سرگرمیوں کے درمیان قائم پیچیدہ تعلق پر مشتمل ہے۔ اس تعلق کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ اور صحرا زدگی کو روکنے کےلئے دنیا بھر میں سائنسدان مشاہدے اور تحقیق میں مصروف ہیں۔

 

 

 

 
ماہرین نے روایتی چولہوں سے خارج ہونے والے مادوں میں آلودگی جانچنے کے لیے بیٹری کی مدد سے چلنے والا ایک چھوٹا سا موبائل آلہ تیار کیا ہے۔ اس آلے کی مدد سے چولہوں سے خارج ہونے والے دھویںکے نمونے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کیا جاسکے گا۔ منصوبے پر اٹھنے والے اخراجات امریکا کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور' پارٹنر شپ فار کلین انڈور ائیر' نامی اداروں نے فراہم کیے تھے۔ جنوبی ایشیا، افریقہ اور دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح خود وسطی امریکا میں بھی لکڑی جلا کر گرم کیے جانے والے چولہوں کا استعمال نہایت عام ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے ان چولہوں سے پھیلنے والی آلودگی اور اہلِ خانہ میں امراضِ تنفس کی بڑھتی ہوئی شرح نے سائنسدانوں کو اس ضرورت کا احساس دلایا تھا کہ ایسا آلہ ایجاد کیا جائے جو کم وزن، سستا اور آلودگی کی مقدار جاننے میں سائنسدانوں کی مدد کرسکے۔ ماہرین نے اس آلے کو ہنڈراس میں لکڑی سے گرم ہونے والے چولہوں سے خارج ہونے والے دھویںکی آلودگی جانچنے کے لیے استعمال کیا۔اب ماہرین اس آلودگی کا انسانی صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

آلودگی کی شرح جانچنے کے لیے اس آلے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ کو ناپنے، ذرات کا رنگ معلوم کرنے اور ان کی کثافت کا پتا چلانے کے لیے آلات نصب ہیں۔ اس آلے میں تجزیے کے وقت دو فلٹر نصب کیے جاتے ہیں، جن میں آلودہ ذرات کو جمع کیا جاتا ہے۔ یہ آلہ نہایت کم قیمت ہے اور اسے ایک بیٹری کی مدد سے درکار توانائی فراہم کی جاتی ہے۔

 

 

 

 

 

''امیزون کے بارانی جنگل تیزی سے گھٹتے جارہے ہیں جو کہ ماحول کے حوالے سے نہایت تشویشناک بات ہے۔ ان جنگلات کے رقبے میں ہونے والی کمی پہلے لگائے گئے تخمینوں سے دو گنا زائد ہوچکی ہے۔'' یہ بات حال ہی میں 'سائنس جرنل' میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہی گئی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ان بارانی جنگلات کے رقبے میں کمی سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھے گی اور جنگل میں لگنے والی آگ کی شرح بھی بڑھ جائے گی۔ برازیل کے علاقے میں واقع امیزون جنگل کی خلائی سیارے کی مدد سے لی گئی تصاویر اور جائزوں سے پتا چلا ہے کہ یہاں سالانہ تقریباً ساڑھے پندرہ سو مربع کلومیٹر پر واقع درختوںکاٹ ڈالا جاتا ہے، یوں دنیا کے گھنے ترین بارانی جنگل کا مستقبل خطرے سے دوچار ہے۔

 

 

 

 

ناصر علی پنہور آئی یو سی این، سندھ پروگرام آفس سے بطورِ کوآرڈینیٹر وابستہ ہیں۔
ذیشان حیدر شعبئہ طب سے وابستہ ہیں۔ صحت و ماحول کے حوالے سے مختلف رسائل میں اکثر مضامین لکھتے ہیں۔