ایک دوست نے میرے مطالعہ کے شوق کو دیکھتے ہوئے 'جریدہ' پڑھنے کے لیے دیا۔ پہلی بار پڑھا۔ سرورق کی کہانی 'ماحولیاتی تعلیم اور ابلاغ' نہایت اعلیٰ پائے کی تحقیقی و علمی کاوش تھی۔ خصوصی رپورٹ 'زندگی کوئلے کی کان میں' اور 'تنہا قلعہ دار کیا کرے' اثر انگیز تحریریں تھیں۔ عکسی کہانی 'تال می رقصم' اس شمارے کی جان تھی۔
خالد سعید ایڈوکیٹ، میانوالی
٭٭٭
'جریدہ' نہایت معلوماتی رسالہ ہے۔اس کا مطالعہ ہمیں ماحول و ثقافت اور سائنسی اقدامات کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ ملک میں اس طرح کے مزید رسائل کے اشاعت کی ضرورت ہے، تاکہ لوگوں میں غور و فِکر کی عادت پروان چڑھ سکے۔
وقار احمد، جیکب آباد
٭٭٭
ایک دوست کے ذریعے 'جریدہ' پڑھنے کا موقع ملا۔ میں حیران ہواکہ ماحول کے موضوع پر پاکستان میں اتنا اچھا رسالہ اتنے برسوں سے شائع ہورہا ہے۔
آزاد عطا محمد، سانگھڑ
٭٭٭
'جریدہ' کا باقاعدہ قاری ہوں، اس کا سبب آپ کی جانب سے اس کا باقاعدگی سے ارسال کیے جانا ہے۔ رسالے کے مضامین کی افادیت اور اس کی اثر انگیزی سے انکار ممکن نہیں۔ بقائے ماحول کے لیے عوامی آگاہی کے ضمن میں اس کا کردار نہایت اہم ہے۔
محسن صدیقی، فیصل آباد
٭٭٭
ظویل عرصے سے 'جریدہ' کا قاری ہو۔ ماحول کے موضوع پر اس کے ہر شمارے میں ایک نئی دنیا آباد ہوتی ہے۔ ماحول میرے مطالعے اور پیشہ ورانہ زندگی کا مرکزی موضوع ہے۔ اس حوالے سے متعدد ماحولیاتی منصوبوں پر تحقیق کرچکا ہوں۔ اپنی علمی تشنگی کو سیراب کرنے کے لیے 'جریدہ' کا مطالعہ ناگزیر سمجھتا ہوں۔
انوار حسین حقی، میانوالی
٭٭٭
ٹھٹّہ میں واقع کینجھر جھیل سخت ماحولیاتی آلودگی کی لپیٹ میں ہے۔ یہاں ہر ہفتے کراچی ، حیدرآباد سمیت مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میںلوگ تفریح کے لیے آتے ہیں، لیکن صفائی کا نہ تو خاص انتظام ہے اور نہ ہی خود سیاح صفائی کا خیال رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جھیل کا پانی آلودہ ہورہا ہے اور اس میں پلنے والی آبی حیات کی بقا کو بھی خطرات لاحق ہورہے ہیں۔ اگر اس جانب توجہ دی جائے تو تھوڑی سی کوشش سے نہ صرف تفریح کا معیار مزید بہتر کیا جاسکتا ہے بلکہ لوگوں کی سہولت کے ساتھ ہی آبی آلودگی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس جانب متعلقہ محکموں کی توجہ کی ضرورت ہے۔
نفیس علی میمن، میرپور بھٹورو، ٹھٹّہ
٭٭٭
پائیدار ترقی اور بقائے ماحول کے حوالے سے 'جریدہ' کا علمی کردار نہایت اہم ہے۔ یہ اس موضوع پر ملک کا واحد رسالہ ہے جو اپنے قاری کو بھرپور معلومات فراہم کرتا ہے۔ ایسے رسالے کی اشاعت بلا تعطل جاری رہنا چاہیے۔
الھڈنو راہو، دولت پور
٭٭٭
پنجگور میں کجھور کے درختوں کو ایک وائرس لاحق ہوگیا ہے، جسے مقامی زبان میں 'شیر گو' کہتے ہیں۔اس کی وجہ سے درخت سوکھ رہے ہیں اور لوگ انہیں کاٹنے پر مجبور ہیں۔ کجھور کے یہ درخت مقامی آبادی کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو لوگ جب اپنے ذریعہ معاش سے محروم ہوں گے تو زندہ رہنے کے لیے ان کا قدرتی وسائل پر انحصار بڑھ جائے، لہٰذا بقائے ماحول کے لیے اس مسئلے کی جانب توجہ دی جائے۔
نیاز احمد بلوچ، سفیر احمد بلوچ، پنجگور
٭٭٭
اپنے ایک ماحول دوست ساتھی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، وہاں پہلی بار 'جریدہ' دیکھا۔ میں ایک طالب علم ہوں اور ماحول میرا موضوع ہے۔ اس حوالے سے ٹی وی اور اشاعتی ذرائع سے ماحول کے موضوع پر چیزیں نظروں سے گزرتی رہتی ہیں، لیکن سچ پوچھیے تو اس رسالے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ میری لاعلمی کہ 'جریدہ' سے تعارف بہت دیر سے ہوا، لیکن چلیں 'دیر آید، درست آید'۔
فتح محمد ، میانوالی
٭٭٭
مائہ نومبر میں زرعی یونیورسٹی، ٹنڈو جام میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس کے دوران آپ کے اسٹال سے 'جریدہ' تحفتاً ملا۔ واقعی بقائے ماحول کے لیے آپ کی کوششیں لائقِ قدر ہیں۔
محمد امین کلہوڑو، ٹنڈو جام
٭٭٭
ہم آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہیں، لیکن ایسا کرنا ممکن نہیں۔ 'جریدہ' کے گزشتہ شمارے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ جب آپ کراچی تشریف لائیں، تو دفتر کی لائبریری میں آپ کے لیے اس سے استفادہ کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔
(مدیرِ جریدہ)
٭٭٭
ضلع بہاولپور کے اکثر تعلیمی اداروں میں 'ماحولیاتی کلب' بنائے گئے ہیں، جن کے ارکان کے لیے 'جریدہ' گرانقدر تحفے سے کم نہیں۔
محمد سلیم خالد، بہاولپور
٭٭٭
کتب خانے کے لیے اس بار بھی 'جریدہ' موصول ہوا۔ ہمارے یہاں بہت سے محققین اور قارئین کے لیے یہ رسالہ ماحول سے تعلق کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
محمد انور سرور، منتظمِ مطالعہ گاہ، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد
٭٭٭
'جریدہ' کا پرانا شمارہ ایک دوست کے ذریعے ملا۔ پڑھنے سے ایک نئی دنیا میں ہونے کا احساس پیدا ہوا۔ایسا لگا کہ جو کچھ رسالے مین بیان کیا گیاوہ میرے دل میں ہے۔ میں ایک نجی اسکول کا مہتمم ہوں۔ برائے مہربانی 'جریدہ' باقاعدگی سے ارسال کرنے کی نوازش کردیں تاکہ اسکول کی لائبریری میں اسے بچوں کے مطالعے کے لیے رکھا جاسکے۔
ایاز محمود، ایبٹ آباد
آپ کا نام و پتہ فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔ (مدیرِ جریدہ)
٭٭٭
پاکستان میں بقائے ماحول کے لیے حکومت، عالمی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے بہت عرصے سے بڑے پیمانے پر کوششیں کی جارہی ہیں۔ اگرچہ اس طرح کی کوششیں نتائج کے حوالے سے وقت کی طلبگارہوتی ہیں، لیکن اب خوشی کی بات یہ ہے کہ عمومی سطح پر صحت مند ماحول کی اہمیت کو سمجھا جارہا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ تیرہ برس قبل جب 'جریدہ' شائع ہونا شروع ہوا، تو اس وقت ماحول، اردو صحافت میں نسبتاً ایک نیا موضوع تھا، مگر آج صورتِحال مختلف ہے، البتہ اردو زبان میںماحول کے موضوع پربصری و مطبوعہ ذرائع ابلا غ میں مصدقہ معلومات سے بھرپور دستاویزی فلموں اور تحقیقی رپورٹوں کی شمولیت اب بھی بہت کم ہے۔ پالیسی سازوں کواس جانب سوچنا چاہیے۔
حسن علی، کراچی