|
1998ء میں حکومتِ
پاکستان کے 'گھر شماری' کے نتائج کے مطابق اکتوبر کے زلزلے میں آزاد جموں
و کشمیر اور صوبہ سرحد کے بُری طرح متاثرہ بارہ اضلاع میں اُس وقت گھروں
کی تعداد 807,605 تھی۔ غیر حتمی تجزیہ کے مطابق ان گھروں کا پچاس فیصد زلزلے
کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن گیا، جبکہ بیس فیصد بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ مستقبلِ قریب میں ان گھروں کے مکینوں کی دوبارہ سکونت کے
لیے پانچ لاکھ سے زائد گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا اور متاثرہ گھروں
کی بہت زیادہ مرمت کرکے انہیں اُس طرح رہنے کے قابل بنانا ہوگا کہ کسی اور
زلزلے کی صورت میں وہ برقرار رہ سکیں۔ بات صرف گھروں تک ہی محدود نہیں ،
خیال ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بارہ ہزار سے زائد رسمی اور غیر رسمی
اسکول و تعلیمی ادارے یا تو منہدم ہوچکے ہیں یا وہ اس قابل نہیں ہیں کہ مرمت
کے بعد دوبارہ استعمال ہو سکیں۔
 |
|
ملبے
کی صفائ، ان کو ٹھکانے لگایا جانا، زمین کی ساخت کا تجزیہ اور زلزلے
سے مدافعتی قوت رکھنے والی عمارتوں کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے
|
متاثر ہ لوگوںکی معاشی زندگی کاانحصار بڑی حد تک بارانی زراعت اور غلّہ بانی
پر ہے، لیکن تباہی کے سبب نہ تو یہاں اس برس مکئی کاشت ہوسکی اور نہ ہی موسمِ
سرما کے دوران گندم کی بوائی کی جاسکے گی۔ علاوہ ازیں زلزلے کے سبب بڑی تعداد
میں پالتو مویشی بھی مارے گئے ۔زندہ بچ گئے مویشیوں کی بقا بھی دشواری سے
دوچار ہے۔گھروں کے انہدام سے مویشیوں کے لیے ذخیرہ کیا گیا چارہ تلف ہوا
ہے تو فصلوں کی عدم کاشت کے باعث اس موسمِ سرما میں ان مویشیوں کے زندہ رہنے
کے لیے چارے کی فراہمی پربھی سوالیہ نشان لگا ہواہے۔
اگرچہ متاثرین کی دوبارہ بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاہم متاثرہ علاقے
کے مکینوں کی از خود آبادکاری کرنے کے بجائے اگر ان کی مدد کی جائے کہ
وہ اپنی بحالی کا عمل خود اپنے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچائیں تو یہ اقدام
کہیں
زیادہ مناسب ہوگا۔متاثرہ علاقوں کا ایک بہت بڑا حصہ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں
پر مشتمل ہے اور ان کے مکین یا تو ایک بہت بڑے خاندان پر مشتمل ہیں یا
پھر ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 'باہمی اشتراک' کی بنیاد پر کاموں
کی انجام
دہی اور کھٹن وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرنا ان لوگوں کی قدیم اور مضبوط
روایت ہے۔ہر گاؤں کے مکینوں میں بڑھئی بھی ہیں اور راج مستری بھی۔ انہی
میں بعض افراد بجلی کا کام بھی جانتے ہیں۔عام حالات میں کسی بھی گاؤں کے
مکین
کو گھر کی تعمیر کے واسطے ہُنر مندوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے بیرونی
لوگوں کی مدد حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ علاوہ ازیں غیر ہنر مند
انہ خدمات
مثلاً گھر کی تعمیر یا مرمت کے لیے راج مستری کی مدد کے لیے 'مدد گارمزدور
' خود خاندان کے لوگ بن جاتے۔صرف یہی نہیں،بلدیاتی نظام میں اجتماعی
سہولتوں کے حصول مثلاً پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لائنوں
کی تنصیب اور
ان کے لیے
کی جانے والی کھدائی میں بھی دیہی علاقے کے مکین بنا اُجرت صرف اجتماعیت
کے جذبے کے تحت بلا معاوضہ خدمات فراہم کرتے رہے ہیں ، جو کہ شاید ملک
میں اشتراکی تعمیر participatory development کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔ایسے
میں
حکومتی مالی تعاون اورماہرینِ تعمیرات کی نگرانی کے ساتھ ان لوگوں کی اجتماعی
خدمات اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے تو متاثرہ لوگوںکی بحالی کا عمل
بہتر انداز میں مکمل کامیابی کے ساتھ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
متاثرین کی فوری آباد کاری حکومت کے سامنے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، تاہم
یہ حقیقت ہے کہ سردیوں کے اختتام سے قبل ان کی آباد کاری ممکن نہیں۔ بحالی
کا
یہ مرحلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ متاثرین کے لیے اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ
کر کسی اور جگہ بسنا گوارا نہیں۔ ان کی شدید خواہش ہے کہ ملبے کی صفائی
کے بعد وہیں دوبارہ اپنے گھر بنائیں۔ تعمیرِ نو کا عمل اس وقت تک ممکن
نہیں
جب تک منہدم عمارتوں کا ملبہ اٹھا نہیں لیا جاتا، لیکن اتنی بڑی تعداد
میں ملبے کو ہٹانا اور مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا آسان کام نہیں۔ساتھ
ہی لازم
ہے کہ ملبے کو اس طرح اٹھایا جائے کہ ان میں دبی ہوئی لوہے کی چادریں،
دروازے ، کھڑکیاں اور لکڑی کے شہتیر منہدم مکانات کی ازسرِ نو تعمیر میں
کام آسکیں۔
نیز ملبے کے ڈھیر میں موجود پتھر وں کو بھی دوبارہ کام میں لایا جاسکے،
تاکہ ملبہ ٹھکانے لگانے کے حوالے سے ماحول کو جن امکانی خطرات کا سامنا
ہے، ان
کا بڑی حد تک تدارک کیا جاسکے۔ ملبہ ٹھکانے لگانے کے حوالے سے موسمِ سرما
کے ایام مہلت کی طرح ہیں۔ بہتر ہے کہ اس دوران ملبہ اٹھانے کا کام مکمل
کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں تجویز ہے کہ ملبہ اٹھانے کے لیے 'رقم
برائے
کام' cash-for-work
کا نظام متعارف کروایا جائے ۔ اس ضمن میں متعلقہ ادارے اُس گھر کے مالک
کو، جس کا ملبہ اٹھایا جانے والا ہو، ضروری آلات مثلاً بیلچے، پھاوڑے،
کلہاڑیاں
اور ڈائنامائٹ وغیرہ فراہم کریں اور بطور مزدور کمیونٹی کے لوگوں کی خدمات
حاصل کی جائیں، جنہیں بحالی کے کام پر معمور سرکاری ادارے اُجرت کی ادائیگیاں
کریں۔
مقامی لوگوں کے لیے گھروں کی دوبارہ بحالی کے لیے ملبے کی صفائی باقاعدہ
ایک پروگرام کے تحت کی جانی چاہیے، جس کے لیے انہیں فنی، مالی اور انتظامی
رہنمائی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔زلزلے نے ان علاقوں کی زمین کو بھی
متاثر کیا ہے، جہاں پر عمارتیں یا رہائشی گھر تعمیر تھے۔ اگرچہ متاثرین
انہی مقامات
پر دوبارہ آباد ہونے کے خواہشمند ہیں کہ جہاں وہ 8 اکتوبر2005ء کی صبح
تک مقیم تھے، لیکن یہ خواہشات اپنی جگہ اور حفاظتی اقدامات اپنی جگہ۔ اس
لیے
تعمیراتی انجینئروں پر مشتمل ایسی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو رہائشی علاقوں
کا دورہ کریں اور زمینی تجزیے کے بعد لوگوں کی رہنمائی کرسکیں کہ آیا وہ
مقامات دوبارہ تعمیرات کے لیے مناسب ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو وہ ٹیمیں
مناسب مقامات کی نشاندہی کے لیے کمیونٹی کی رہنمائی کریں۔ ان جائزوں کے
دوران کمیونٹی
کے منتخب اور تعلیم یافتہ لوگوں کو ساتھ رکھا جائے اور 'تجزیہ ارض'کے ابتدائی
اصول سے انہیں آگاہ کریں، تاکہ وہ استعداد سازی کرکے اپنی صلاحیتوں سے
مزید دوسرے لوگوں کی رہنمائی کرسکیں۔ غیر سرکاری تنظیمیں یہ معلومات
پوسٹراورکتابچوں کی صورت میں تیار کرکے مقامی لوگوں تک بھی پہنچاسکتی ہیں۔
ان معلومات کو
کمیونٹی
کی دوبارہ بحالی کے عمل کا حصہ بنایا جائے ۔ نیزوہ متاثرہ علاقے کہ جہاں
موسمِ سرما کی شدت دوسرے علاقوں کی نسبت کم ہیں ، وہاں تجزیہ ارض کا عمل
جاری موسمِ سرما میں ہی شروع کیا جاسکتا ہے۔
دوسرے مرحلے میں مقامی دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے زلزلے سے مدافعتی
قوت رکھنے والی تعمیراتی تکنیک کے استعمال کورواج دیا جائے۔ یہ تکنیک بہت
معروف ہے اور سادہ اصولوں پر استوار ہونے کے ساتھ ساتھ کم خرچ بھی ہے۔
یہ تکنیک ایران، یمن اورریاست مہاراشٹر (بھارت ) میں وسیع پیمانے پر استعمال
ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں آغا خان پلاننگ، بلڈنگز اینڈ ایجوکیشن سروسز کے زیرِ
انتظام پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں 'اپنی مدد آپ' کے تحت تعمیر کیے
جانے
والے اسکولوں میں بھی اس تکنیک کواستعمال کیا جارہا ہے۔ اس ضرورت کے پیشِ
نظر کہ اس تکنیک کو اور بھی سادہ بنایا جائے، نیز یہ کہ زلزلے سے متاثرہ
علاقوں میں کمیونٹی از خوداس تکنیک کو استعمال کرسکیں، اورنگی پائلٹ پراجیکٹ
ریسرچ اینڈٹریننگ انسٹیٹیوٹ اور اربن ریسورس سینٹر، کراچی تجربہ کار ماہرینِ
تعمیرات کے اشتراک سے ایک مینول بھی ترتیب دے رہا ہے۔ ضروری ہے کہ غیر
سرکاری تنظیمیں زلزلے سے عمارتوں کے بچاؤ کی اس تکنیک کوزیرِ استعمال لاتے
ہوئے
اپنی نگرانی میں چند مکانات تعمیر کروائیں۔ بعد میں ان گھروں کو تعمیر
کرنے والے راج مستریوں پر مشتمل موبائل ٹیمیں تشکیل دی جائیں، جو دوسرے
علاقوں
میں بھی ایسے ہی
مکانات تعمیر کریں اوراس تکنیک سے نا آشنا راج مستریوں کو اپنے ساتھ ملا
کر ان کی استعداد سازی کریں۔ یہی طریقہ ہسپتالوں اور اسکولوں کی دوبارہ
تعمیر میں استعمال کیا جائے۔ یوں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں محفوظ تعمیراتی
طریقے
کورواج بخشاجاسکتا ہے۔
زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی معیشت بھی تباہ ہوچکی ہے اورمقامی لوگوں کے روایتی
و غیر روایتی ذرائع معاش بھی لگ بھگ ختم ہوچکے ہیں۔یہ علاقے قدرتی وسائل
سے مالا مال ہیں، تاہم بے دریغ استعمال کے سبب یہ وسائل بھی نہایت دگرگوںحالت
کا شکارہیں۔ اگر بحالی کے عمل میں مقامی لوگوں کے ذرائع معاش کو اہمیت نہ
دی گئی تو یقیناً قدرتی وسائل مزید انحطاط کا شکار ہوں۔
بحالی کے عمل میں ضروری ہے کہ حکومت تعمیرِ نو کے عمل میں متاثرہ لوگوں کی
معاشی بحالی (جس کا انحصار بڑی حد تک زراعت پر ہے) کے لیے بھی آسان قرضے
فراہم کرے۔ یہ قرضے ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے قائم فنڈ Pakistan Poverty
Alleviation Fund، نیشنل رورل سپورٹ پروگرام، اورنگی پائلٹ پراجیکٹ اور نہایت
نچلی سطح پر قرض فراہم کرنے والے اداروں (مائیکرو فائنانس بنک) کی مدد سے
جاری کیے جاسکتے ہیں، جو کہ اس طرح کے قرضوں کی فراہمی،قرض کے حصول کے لیے
درخواست دہندہ/ دہندگان کی ضرورت کا اندازہ لگانے اور رقم کے استعمال کے
عمل کی نگرانی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
جیسا کہ متاثرین کی بحالی کے لیے 'رقم برائے کام' اور تعمیراتی تکنیک کو
استعمال میں لانے کے حوالے سے میں اوپر تفصیلی ذکر کرچکا ہوں، لیکن یہاں
سوال کیا جاسکتاہے کہ منصوبہ بنانا تو آسان ہے لیکن عمل اکثر سوالیہ نشان
بن جاتا ہے۔اسی لیے واضح کرتا چلوں کہ اس منصوبے پر عمل دشوار کام نہیں۔
منصوبے پر عمل کاآسان حل یہ ہے کہ ہر یونین کونسل ( اوسطاً ایک یونین کونسل35ہزار
کے لگ بھگ افراد پر مشتمل ہے) کی سطح پر ایک سول ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کیا
جائے، جو سرکردہ مقامی شخصیات اور سرگرمِ عمل مقامی غیر سرکاری تنظیموں پر
مشتمل ایک مشاورتی ٹیم تشکیل دے۔ یہ ادارہ ایک طرف کمیونٹیز کو متحد کرے،
تو دوسری طرف متعلقہ مرکزی اداروں سے رابطے میں رہے اور پھر مقامی سطح پر
پروگرام کو چلائے اور اس عمل کی نگرانی کرے۔
سفر کیسا ہی ہو، آخرِ کار کٹ جاتا ہے، البتہ راہ کی درست رہنمائی اور سفر
کی رفتار منزل کے حصول کا وقت متعین کرتی ہیں۔ متاثرین کی بحالی کا عمل بھی
انہی اصولوں سے مشروط ہے۔
اس مضمون کی اشاعت کے لیے مصنف اور روزنامہ 'ڈان' کے شکر گذار
ہیں۔
|