|
فارسی کے شاعر
رومی کے افکار صرف فارس تک ہی محدود نہیں، ان کا کلام دنیا کی تقریباً تمام
بڑی زبانوں میں کیا جاچکا ہے۔ رومی کی شاعری میں حیات کے عناصرِ تراکیبی
مٹی، پانی، ہوا اور آگ کی اہمیت واضح نظر آتی ہے۔ اگرچہ ان کا کلام روح کو
بالیدگی عطا کرتا ہے، مگر نادر خلیلی نے اپنی مادری زبان میں رومی کی شاعری
کا مطالعہ کیا تو وہ ان کے لیے رہنما بن گئی اور انہوں نے حاصلِ مطالعہ کو
اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں استعمال کرکے حیرت انگیزنتائج حاصل کیے۔
 |
|
مٹّی
کا مکان --- تیاری کے مراحل
|
|
نادر
خلیلی کے ڈیزائن کردہ مکان کی تیاری کے لیے جگہ کا تعین کرکے بنیاد
کے لیے دو فٹ چوڑائی میں اتنی گہری کھدائی کی جاتی ہے کہ جس میں
مٹی اور دس فیصد سیمنٹ کی آمیزش والے مسالے سے بھرے سیمنٹ یا مصنوعی
ریشوں کے عام حجم والے تھیلے اوپر تلے بہ آسانی سماسکیں۔ دو تھیلوں
کے درمیان میںخاردار آہنی تاروں کو دُہرا بٹ کر رکھا جاتا ہے، جس
کے باعث ان کی باہمی گرفت مضبوط تر ہوجاتی ہے۔ اس طرح زمین سے کچھ
بلندی کے بعدگولائی میںتعمیر کی جانے والی دیوار کو اس طر ح خم
دیا جاتا ہے کہ مطلوبہ بُلندی پر پہنچنے کے بعد ان میںگنبد کی شکل
نمودار ہوجاتی ہے، لیکن اسے گول گنبد کی شکل دینے کے بجائے جب چند
فٹ کا خلا رہتا ہے تو اس پرچھت ڈالی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی مرکب
بھی مٹی اور سیمنٹ کی آمیزش سے بھرے تھیلے ہوتے ہیں۔ لیجیے! مکان
کا ڈھانچہ مکمل ہوگیا۔اب اس کے بعد بھوسا ملے گارے سے دیواروںکی
اندرونی اور بیرونی سطح کو لیپ دیا جاتا ہے۔ جب گارے کا
لیپ خشک ہوجائے توچونا اور جپسم میں من پسند رنگ ملا کر گھرکو پینٹ
کرلیا جاتا ہے۔ مکان تیار کرتے ہوئے ضرورت کے مطابق کھڑکیاں، روشندان
اور طاقچے بھی بنائے جاسکتے ہیں، جس کے لیے کم مقدار میں لکڑی کی
ضرورت ہوتی ہے۔ نیز بجلی کی وائرنگ اور پانی کی فراہمی کے لیے پائپ
لائن بھی ڈالی جاسکتی ہے۔ خاردار تاروں کا استعمال دو تھیلوں کی
باہمی گرفت کو مضبوط اور مکان کی دیواروں کو زلزلے کے جھٹکوں سے
محفوظ بنادیتاہے ، جبکہ تھیلے اسے سیلاب کے پانی سے نقصان نہیں
پہنچنے دیتے ہیں۔
اس مکان میں مٹی کا استعمال ہوتاہے ، جس کی بدولت یہ اندر سے سردیوں میں
گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈے رہتے ہیں۔جدید دور کے فنِ تعمیر میں چھتیں ہموار
اور دیواریں صرف چند انچ موٹی ہی ہوتی ہیں، اور ان پر دن میں چھ تا بارہ
گھنٹے دھوپ پڑتی ہے، اس لیے یہ اپنے اندر تمازت و ٹھنڈک کو جذب کر کے عمارت
کے اندرونی حصوں میں منتقل کردیتی ہیں۔ یوں باہر کا موسم اندر کے درجئہ
حرارت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خلیلی کے ڈیزائن میں چھت ترچھی اور گنبد نما
ہے، اس لیے دھوپ بھی ایک وقت میںایک ہی جانب پڑتی ہے اور دوسری طرف چھاؤں
رہتی ہے۔ چونکہ دیواریں دو فٹ سے زیادہ موٹی ہوتی ہیں، اس لیے کمرے کے اندرونی
درجئہ حرارت پر بیرونی موسم کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا ۔
|
نادر خلیلی کا تعلق ایران سے ہے۔ یہ1961ء کی بات ہے کہ جب وہ علمِ تعمیرات
کے ایک طالب علم کی حیثیت سے امریکا کے ایک شہر کیلیفورنیا پہنچے اور پھر
فنِ تعمیرات کی سند لے کر انہوں نے ایک ماہر کی حیثیت سے اپنی زندگی کے پندرہ
برس یہیں گزار دیے۔ بُلند و بالا اور دورِ جدید کی ضرورتوں سے مزین عمارت
گری کا یہ دورانیہ انہیں تسکین نہ بخش سکا۔ ان پر رومی کی فکرغالب تھی۔ مٹی،
پانی، ہوا اور حدت ان کی جستجو کا محور تھے۔ جستجو کے اس محور نے ان کے ہنر
کو ایک مختلف تخلیقی رُخ بخشا۔ خلیلی کہتے ہیں! ''کثیرالمنزلہ عمارتیں بنانا
انوکھی بات نہیں، یہ تو کوئی بھی بناسکتا ہے۔ بات تو تب ہے کہ حیات کے بنیادی
عناصرِ تراکیبی کو استعمال کرتے ہوئے زمین دوست گھر بنائے جائیں، جنہیں قدرتی
آفات بھی نقصان نہ پہنچاسکیں۔''
زمین سے دوستی اور مٹی کی محبت میں خلیلی طویل محنت کے بعد ایسے کم قیمت،
محفوظ گھروں کا ڈیزائن بنانے اور پھر اسے عملی شکل دینے میں کامیاب ہوگئے،
جنہیں آج 'گنبد والے مٹی کے گھر' کے نام سے عالمی شہرت حاصل ہوچکی ہے۔زلزلے،
سیلاب، طوفانوں اور آگ کی حدت سے محفوظ ان گھروں کی اہمیت کا عملی مظاہرہ
خلیلی نے80ء کی دہائی میں اقوامِ متحدہ کے دو ذیلی اداروں( یونائیٹڈ
نیشنز ہائی کمیشن فار ریفیوجیز اور یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام
)کے ساتھ کام
کرتے ہوئے کیا۔ اس ماحول دوست کام کے اعتراف میں انہیں آغا خان ایوارڈ
برائے تعمیرات سے بھی نوازا گیا۔اب اقوامِ متحدہ کے انہی دو مذکورہ
اداروں نے خلیلی
کے ڈیزائن کردہ گھر کو عراق سے ایران میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں
کی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔1987ء
کو اقوامِ متحدہ نے 'بے گھروں کے لیے رہائشی سہولتوں کا سال' کے طور
پر منایا۔
اس مناسبت سے خلیلی کو نہ صرف اقوامِ متحدہ کی طرف سے خصوصی سند برائے
پذیرائی عطا ہوئی، بلکہ امریکا کے شہری ترقی
کے محکمے نے بھی انہیں اعزاز سے نوازا۔
نادر خلیلی نے امریکا میں سکونت کے دوران تعمیرات کے حوالے سے ایک غیر
نفع بخش ادارہ 'کال ارتھ انسٹی ٹیوٹ' کے نام سے1986ء میں قائم کیا۔ انہوں
نے
کیلیفورنیا کے صحرائے موجاوی میں اپنی تعیناتی کے دوران اپنی تخلیق پر
کام جاری رکھا اور 'کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ارتھ اینڈ آرکیٹکچر' میں
تقریباً
دو عشروں تک 'گنبد نما مٹی کے گھر' کے ماڈل پر تحقیق جاری رکھی۔ بالآخر
جب ہر طرح کی آزمائش کے بعد اس گھر کی کامیابی کا یقین ہوگیا تو انہوں
نے اپنی
تکینک کو امریکی تعمیراتی قواعد و ضوابط سے منظورکروانے کے لیے پیش کیا۔
انہیں اپنی اس ایجاد کو باضابطہ طور پرتعمیر کرنے اور وسیع پیمانے پر
اس کے استعمال کی منظوری حاصل کرنے کے لیے چھ برس لگے۔ امریکی اداروں
نے بھی
اسے ہر لحاظ سے مکمل پایا اور اب کیلیفورنیا کے علاقے ہسپیریا Hesperiaمیں
خلیلی کے تعمیر کردہ ڈیزائن پر مبنی گھروں کی تیاری جاری ہے۔ واضح رہے
کہ اس صحرائی علاقے میں تعمیراتی قواعد و ضوابط نہایت سخت ہیں، جس کی
وجہ اس
کا زلزلے کی فالٹ
لائن پر واقع ہونا ہے ۔ نیز تیز بارشوں کے سبب یہاں سیلاب اور طوفان
بھی آتے رہتے ہیں اور صحرائی ماحول کے باعث گرمیوں میں شدید
ترین گرمی اور سردیوں میں درجئہ
حرارت نکتئہ انجماد سے نیچے گرجاتا ہے۔ تاہم مقامی محکمہ تعمیر و شہری
سہولتوں کے مطابق خلیلی کے ڈیزائن کردہ گھر اس علاقے میں آنے والے قدرتی
آفات اور
موسم، دونوں سے ہر لحاظ سے مطابقت رکھتے ہیں اور محفوظ بھی ہیں۔
خلیلی کہتے ہیں!
''پانچ آدمی مل کر آٹھ فٹ قطر کے ایک گھر کا بنیادی ڈھانچہ (دیوار تا گنبد)
دس سے بارہ گھنٹے میں بنا سکتے ہیں۔ اس گھر کی عمر تقریباً دو ہزار برس تک
ہوسکتی ہے، جبکہ تیاری پر لاگت بھی صرف80امریکی ڈالر یا پانچ ہزار پاکستانی
روپے آتی ہے۔ گنبدوں اور محرابوں کی پائیداری کو فنِ تعمیر میں بارہا آزمایا
جاچکا ہے اور تمام موجودہ تعمیراتی اشکال میں یہ قدیم اندازِ تعمیر سب سے
زیادہ مضبوط اورپائیدار پایا گیا ہے۔ تعمیر کے لیے بنیادی تعمیراتی مسالہ
آپ کے قدموں میں موجود مٹی ہی ہے۔ ''
خلیلی کا مزید کہنا ہے کہ ''صرف یہی بات نہیں ہے۔ فنِ تعمیر کی
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب سے بنی نوع انسان نے
تعمیرات کی
ابتدا کی، تب سے اب تک دنیا کے ہر بّرِاعظم میںمٹی سے عمارتیں بنانے کا
طریقہ مروج ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ زلزلوں کے مقابل سب سے زیادہ قوتِ مدافعت
مٹی
سے بنی عمارتوں میں ہی پائی گئی ہے۔ زلزلے کی پٹیوں پر واقع علاقوں کے
آثار کا مطالعہ کیا جائے توپتا چلتا ہے کہ وہاں دو ہزار سال قبلِ مسیح
میں بھی
مٹی کے گھر بنائے جاتے تھے۔یہ گھر نہ صرف قدرتی آفات سے محفوظ بلکہ ماحول
دوست بھی تھے۔''
سنیگال کے شمالی صوبے اکثر سیلابوں کی تباہ کاریوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔
اب اس ملک کے صدر، خلیلی کے ڈیزائن کردہ بیس ہزار مکانات اپنے متاثرہ شہریوں
کے لیے تعمیر کروانا چاہتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی
پی کے عہدیدار جیمنیز ڈی لوئی کا کہنا ہے'' گنبد نما گھروں کی تعمیر نہایت
آسان ہے ۔ یہ کسی بھی علاقے کے قدرتی ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں۔''
کیلیفورنیا میں مقیم پاکستانی خاتون شہناز، نادر خلیلی کے ساتھ کام کرچکی
ہیں۔ وہ پاکستانی ماہرِ تعمیرات زینب کھوکر کے ہمراہ مل کر خلیلی کے ڈیزائن
کو پاکستانی رہن سہن کے انداز سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کام کررہی ہیں۔ شہناز
کا کہنا ہے کہ ''ہمارے یہاں تین سو مربع فٹ کے رقبے پر تعمیر مٹی کے گھر
میںسات افراد پر مشتمل کنبہ بہ آسانی زندگی بسر سکتا ہے، بشرطیکہ وہاں سونے
کے لیے چارپائی کے بجائے فرشی نشست استعمال کی جائے۔ ایسے مکان میں ایک چھوٹاسا
باورچی خانہ، غسلخانہ بھی بنایا جاسکتاہے۔ڈیزائن میںگنجائش تلاش کی جارہی
ہے کہ مکینوں کے پالتو مویشیوں کی بھی جگہ بن سکے۔''
عالمی سطح پر نادر خلیلی کی ایجاد کو شرفِ قبولیت مل چکاہے۔ایسے میں کہ جب
پاکستان میں حالیہ زلزلے کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں، اگر خلیلی
کے ڈیزائن کردہ کم قیمت ، ماحول دوست اور قدرتی آفات کے نتیجے میں محفوظ
رہنے والے ان گھروں کو رواج دے لیاجائے تو نہ صرف بہت کم عرصے میں متاثرین
کی دوبارہ آباد کاری ہوسکتی ہے، بلکہ ملبے کے ڈھیر کو بھی درست طریقے سے
ٹھکانے لگا کرایک بڑے ماحولیاتی مسئلے سے نمٹا جاسکتا ہے۔شمالی پاکستان میں
روایتی طور پر تعمیر ہونے والے گھروں میںبڑے پیمانے پر لکڑی استعمال ہوتی
ہے اور تعمیرِ نو کے دوران ملک کے پہلے سے ہی بہت کم رقبے پر موجود جنگلات
کو جو ایک اور بڑاخطرہ لاحق ہے، اس سے بھی بچا جاسکتا ہے۔
مضمون کی تیاری و تصاویر کے لیے ویب سائٹ http://www.calearth.org سے مدد
لی گئی ہے۔
علی عمران آفاقی شعبہ تعلیم سے وابستہ رہے ہیں- |