8اکتوبر کے زلزلے نے ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں کے وسیع رقبے پر، جہاں ماحولیاتی
بگاڑ کے نمایاں آثار پہلے سے ہی موجود تھے، اپنی پوری قوت کے ساتھ حملہ کیا۔
اس علاقے میں واقع اُجڑے ہوئے جنگلات، شدید دباؤ کا شکار چراگاہیں، غیر متوازن
ڈھلوانیں اور چند ایک محفوظ علاقے شامل ہیں، بُری طرح پامال ہوئے۔ اس کے برعکس
ابتدائی جائزوں کے مطابق وہ علاقے بڑی حد تک تباہی سے محفوظ رہے، جہاں اب
بھی جنگلات موجود ہیں اور درختوں کی جڑوں نے مٹی اور پہاڑی چٹانوں کو مضبوطی
سے تھام رکھا ہے، نیزیہ علاقے کسی حد تک انسانی مداخلت سے محفوظ ہیں۔ ان مقامات
کا نظارہ آزاد جموں و کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔
 |
|
آزاد
کشمیر کی بنجوسہ جھیل، یہ بھی محفوظ علاقوں میں شامل ہے-(مختار
آزاد)
|
اگرچہ ابھی زلزلے کو گزرے ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں۔دوسرے یہ کہ متاثرہ
علاقوں میں ہونے والی ماحولیاتی تباہی کا تخمینہ اور تجزیہ کرنے کے لیے غالباً
ایسا کوئی تیز رفتار طریقہ کار موجود نہیں، جس کے ذریعے فوری تجزیہ کرکے حتمی
تخمینہ لگایا جاسکے اور تباہی کی تفصیلات جاری کی جاسکیں۔ یہ کام ایک تفصیلی
جائزے کے بغیر ممکن نہیں،البتہ ابتدائی طور پرماحولیاتی تباہی کی تشخیص کے
لیے بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان سمیت متعلقہ سرکاری
ادارے و غیر سرکاری تنظیمیں جائزہ لے رہی ہیں، تاہم تفصیلی حقائق اور حتمی
اعدا وشمارجاننے میں وقت لگ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ زلزلے کے کچھ ہی دنوں بعدماحولیاتی
تباہی کے بارے میں آئی یو سی این کی 'ابتدائی تجزیہ رپورٹ آچکی ہے، جبکہ بقائے
ماحول کے لیے سرگرم کئیر انٹرنیشنل نے بھی زلزلے کے فوراً بعد ہنگامی بنیادوں
پرآئی یو سی این اور بلیو ڈبلیو ایف کے اشتراک سے ماحولیاتی تجزیہ کیا ہے۔
ماحولیاتی امور پر گہری نظر رکھنے والے ملکی ماہرین پوری طرح سے اس بات پر
متفق ہیں کہ کشمیر اور ملحقہ علاقے جو قیامِ پاکستان کے وقت اپنے بیش بہا
جنگلاتی ورثے کی بدولت پورے ملک میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اورجن
کا وجود صاف پانی، قدرتی وسائل و حیاتیاتی تنوع کی افزائش کے لیے سازگار ماحول
، صاف آب و ہوا اور دریاؤں میں پانی کی روانی کی ضمانت تھا، آج بڑی ابتر اور
مشکل صورتِحال سے دوچار ہیں۔
 |
|
شمالی
پاکستان میں ایندھن کے لیے لکڑی کا استمعال اور جنگلات کی کٹائ
عام ہے- (مختار آزاد)
|
ذرا اندازہ کریں کہ1947ء میں تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام موجودہ
آزاد جمو ں و کشمیر کا 42 فیصد رقبہ جنگلات سے ڈھکا ہوا تھا، جو اب بتدریج
انحطاط کا شکار ہے۔ منفی طرزِ فکر، لالچ اور غیر مربوط سرگرمیوں کی وجہ سے
ہم اپنے انمول قدرتی وسائل کا مول لگا لگا کر خود کو اس سے محروم کیے چلے
جارہے ہیں۔ زمین آہستہ آہستہ پیروں تلے سے کھسکتی جارہی ہے، لیکن ہمیں اس
کا اِدراک نہیں۔
گزشتہ کئی عشروں سے شمالی پاکستان کا خطّہ قدرتی وسائل سے بڑی حد تک محروم
ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی مسائل کے گرداب میں بھی پھنستا چلا جارہا ہے۔
ایک طرف تو ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی آبادی میں اضافے کا رجحان ہے
، تو دوسری جانب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور محدود ذرائع معاش ان لوگوں کے لیے
معاشی خود کفالت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔اسی لیے پہاڑی علاقوں
کے مکینوں کازندگی بسر کرنے کے لیے قدرتی وسائل پر انحصار روز بہ روز تیز
تر ہوتا جارہا ہے۔
کئی دہائیوں سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی، پہاڑوں کی حساس ڈھلوانوں
کی زمین ہموار کرکے اس کا زرعی مقاصد کے لیے استعمال، معاشی فوائد کے لیے
گلّہ بانی کا بڑھتا ہوا رجحان اور چارے کے لیے چراگاہوں کی استعداد سے کہیں
زیادہ اُن کا استعمال، غیر پائیدار بنیادوں پر سیاحت کا فروغ اور نکاسیِ آب
کے درست نظام کی عدم موجودگی کے باعث آبی گذر گاہوں میں بڑھتی ہوئی آلودگی
سمیت بہت سے ایسے عوامل ہیں کہ جو اکتوبر زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی
اور ماحولیاتی تنزلی کے اسباب کو کئی گنا زیادہ بڑھاوا دینے کا سبب بنے ہیں۔
|