اگرچہ زلزلے کے بعد سب سے بڑی توجہ کے مستحق متاثرہ لوگ اور ان کی بحالی کا
عمل ہے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں انسانوں کے ساتھ ہی
پہلے سے انحطاط پذیر ماحول کو بھی شدید نقصانات پہنچے ہیں ۔ آزاد جموں و کشمیر
اور صوبہ سرحد کے چند ایک محفوظ علاقےProtected Areas بھی زلزلے کی تباہ کاری
سے بچنے میں پوری طرح ناکام رہے ہیں، خصوصاً مچیارہ نیشنل پارک سب سے زیادہ
اس آفت کا شکار ہوا ہے، جبکہ تولی پیر نیشنل پارک، گموٹ نیشنل پارک، سلخیلہ،
موجی، قاضی ناگ اور بنجوسہ گیم ریزرو (آزاد جموں و کشمیر) سیف الملوک اور
ایوبیہ نیشنل پارک (صوبہ سرحد) جزوی طور پر متاثرہ' محفوظ علاقوں' میں شامل
ہیں۔ ضرورت ہے کہ موسم سازگار ہوتے ہی متاثرہ علاقوں میں واقع محفوظ علاقوں
کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ان کی بھی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
 |
|
زلزلے
نے کتنے ہی معصوم خوابوں کو کچل دیا اور کتنے ہی بچے اپنے پاؤں
پر کھڑے ہونے سے محتاج ہو گۓ-(مختار آزاد)
|
متاثرہ علاقوں
کے عمومی فطری ماحول کو اگرچہ زلزلے کے سبب بھی نقصان پہنچا ہے لیکن بعد
از زلزلہ ماحولیاتی اعتبار سے یہاں ایک اور سنگین صورتِحال یہ
جنم لے رہی ہے کہ مربوط انتظامات کے فقدان کے سبب انفرادی سطح پر ملبہ صاف
کرنے کا عمل شروع ہوچکاہے۔ اتنی بڑی مقدار میں ملبہ ٹھکانے لگانے کے لیے
اگرچہ پہاڑی علاقوں میں ہموار جگہ بہت کم موجود ہے، لہٰذا بنا سوچے سمجھے
منہدم
عمارتوں کا ملبہ نزدیکی ندی نالوں اور آبی گذرگاہوں میں پھینکا جارہا ہے۔
اس طرح ایک طرف تو آبی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف پانی کے
بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں، جس کے سبب اس وقت متاثرہ علاقوں کا عمومی
فطری
ماحول بڑا ہی بھدا دکھائی دینے لگا ہے۔واضح رہے کہ ماہرین نے ناکارہ ملبے
کا ابتدائی تخمینہ دو سو ملین ٹن سے زائد لگایا ہے۔عمارتی ملبہ کس طرح ٹھکانے
لگایا جائے؟ اگرچہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور و فکر
جاری ہے، تاہم موجودہ ناکافی انتظامات کے حوالے سے دور رس منفی اثرات کا
خوف ایک اٹل حقیقت ہے۔ علاوہ ازیں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ زیرِ
زمین ٹینکوں میں موجود ہزاروں لِٹر ذخیرہ شدہ تیل کا رساؤ بھی ہوا ہے، جس کے باعث
مٹی کی
ساخت اور آبی ذخائر کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی
ادارے برائے ماحول 'یو این ای پی' اور وفاقی وزارتِ ماحولیات، پاکستان کے
ابتدائی جائزے کے مطابق اس صورتِحال کو کسی حد تک بہتر بنانے کے لیے اگلے
ڈیڑھ دو برس کے دوران اس مد میں بائیس ملین ڈالر درکار ہوں گے۔
زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے بارے میں ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک
کی مشترکہ طور پر تیار کردہ ابتدائی رپورٹ میں ماحول کے حوالے سے زور دیتے
ہوئے تجویز کیا گیا ہے کہ زلزلے کی زد میں آنے والے تقریباً35ہزار مربع
کلومیٹر علاقے کا تفصیلی ماحولیاتی تجزیہ بے حد ضروری ہے، تاکہ اس سانحے
کے باعث جنگلات،
آبی ذرائع، ماہی پروری، گلہ بانی، اہم ارضی ماحولیاتی نظام کی اکائیوں اور
اُن سے متعلق حیاتیاتی تنوع پر پڑنے والے منفی اثرات پورے طور پر ظاہر ہوسکیں
اور ان وسائل کی ممکنہ از سرِ نوبحالی کے لیے کوششوں کو بہتر انداز میں
مربوط کیا جاسکے۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مقامی آبادی کا بڑا حصہ انہی
قدرتی وسائل
پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ مستقبل قریب میں سب سے
بڑا ماحولیاتی نقصان پہاڑوں پر سے مٹی کے کھسکنے اور پھر ندی نالوں اور
معاون آبی گذرگاہوں کے ذریعے ان کے بڑے آبی ذخائر (ڈیموں) تک پہنچنے کے
باعث پانی
ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں کمی کی شکل میں نکلے گا۔ یوں بھی پہاڑوں پر مٹی
کے نازک نظام کی تشکیل کے لیے بہت ہی طویل عرصہ درکار ہوتاہے اور
جنگلات کا اس نظام میں بنیادی کردار ہے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے اس
نظام کو کمزور
کیا اور زلزلے نے پہاڑوں پر جمی پہلے سے کمزور مٹی کو اس کی جگہ سے ہلادیا۔
یوں مٹی و چٹانی تودوں کے گرنے کا عمل زلزلے کو کئی ماہ گزرجانے کے باوجود
اب بھی جاری ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر صورتِحال پر خصوصی توجہ نہ دی گئی تو اگلے
برسوں میں مٹی کے تودوں کے گرنے کا عمل مزید پیچیدہ ماحولیاتی مسائل کو
جنم دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی خدشہ ہے کہ ایندھن
اور تعمیرِ
نو کے دوران تعمیراتی مقاصد کے لیے لکڑی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے کہیں
بچے کچھے جنگلات کو مزید آڑے ہاتھوں نہ لیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ خودکشی
کے مترادف ہوگا۔ اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مستقبلِ قریب میں بحالی
و تعمیرِ نو کے عمل کو فطری ماحول کے تحفظ سے باہم مربوط کر کے اقدامات
کیے جائیں۔ چونکہ متاثرہ علاقوں میں ایندھن کے لیے لکڑی استعمال ہوتی ہے
اور مقامی
طور پر مروجہ تعمیرات میں بھی بڑی پیمانے پر لکڑی استعمال کی جاتی ہے، اس
لیے جہاں ہم قدرتی ماحول کے تحفظ اور ان کی بحالی کے عمل کو
انسانی بحالی کے عمل سے مشروط کریں، وہیں تعمیرات کے لیے ایسا طرز استعمال
کیا جائے جس
میں لکڑی کا استعمال کم سے کم ہو اور اس میں بھی جہاں جہاں ضرورت پڑے، ملبے
میں موجود لکڑیوں کے شہتیر، دروازوں اور کھڑکیوں کو ہی دوبارہ استعمال میں
لانے کے لیے کارآمد بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ماحول خصوصاً جنگلات کو مزید
کسی خطرے
سے بچانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں متبادل توانائی کے استعمال کو فروغ دیا
جائے۔
اگرچہ ادارہ برائے ترقیاتِ متبادل توانائیThe Alternative Energy Development
Board پاکستان نے اکتوبر زلزلے سے متاثر ہونے والے شمالی پاکستان کے مختلف
علاقوں میں متاثرین کے لیے ایسے گھر تعمیر کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ،
جنہیں روشن کرنے کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کیا گیا ہے۔ نیز اس توانائی
سے
چلنے والے گیزر اور چولہے بھی ان گھروں میں لگائے گئے ہیں۔ مختلف خیمہ بستیوں
میں بھی شمسی توانائی سے روشن ہونے والی لالٹین استعمال کی جارہی ہیں، تاہم
یہ استعمال بہت محدود پیمانے پر ہورہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرہ
علاقوں میں بالخصوص اور شمالی پاکستان کے ان تمام پہاڑی علاقوں میں کہ جہاں
ایندھن
کے لیے لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے، وہاں متبادل توانائی کے انتظام کو
فروغ دینے کے لیے مربوط انتظامات کیے جائیں۔ ان علاقوں میں توانائی کی ضروریات
پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع کارواج پاگیا تو ایندھن کے لیے جنگلات پر
پڑنے
والے دباؤ کو بڑی حد تک کم کیا جاسکے گا۔ ورنہ یاد رہے کہ اگر ہم نے متبادل
تونائی کے ذرائع کو رواج نہ دیا تو ایسے میں فطری ماحول کی بحالی
کے لیے کیے جانے والے اقدامات کاخاطر خواہ فائدہ نہ ہوسکے گا، کیونکہ ایسے
میں ایک
طرف تو ہم بحالیِ ماحول کے لیے اقدامات کررہے ہوں گے، تو دوسری جانب لوگوں
کا ان پر دباؤ برقرار رہے گا۔ ایسے میں کیے گئے اقدامات کے فوائد حاصل ہونے
کی امید ہی فضول ثابت ہوگی۔ البتہ اگر ایک جانب ماحولیاتی بحالی کے اقدامات
کیے جارہے ہوں اور دوسری جانب ان اقدامات کو پروان چڑھنے میں کسی مداخلت
کا سامنا نہ ہو تو پھر امید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں ہم ان کے ثمرات
سے فیضیاب
ہوسکیں گے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کی مشترکہ طور پر تیار کردہ ابتدائی
رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے5ارب ،20کروڑ ڈالر درکار ہوں گے،
جن میں سے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر لاکھوں بے گھر خاندانوں کے لیے درکار
ضروری بنیادی عمارتی ڈھانچوں کی تیاری میں صرف ہوں گے۔ اس سلسلے میں امداد
دینے والے اداروں اور ملکوں کے مندوبین کا ایک اجتماع 19 نومبر 2005 کو اسلام
آباد میں 'ڈونر کانفرنس' کے نام سے منعقدہوا، جس میں مالی ضروریات کی مد میں
تخمینہ شدہ پانچ ارب ڈالر سے زائد کی رقم کے عطیات اور آسان شرائط پر قرضوںکی
صورت میں مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں تعمیرِ نو
اور بحالی کے عمل کے لیے جن رہنما خطوط کو وضع کیا ہے، اُن کے مطابق تیزی
کے ساتھ متاثرہ لوگوں کے لیے ذرائع روزگار کی فراہمی، تاکہ وہ ایک بار پھر
اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں، دوسرے یہ کہ بہت زیادہ متاثرہ خاندانوں کی مناسب
دیکھ بھال اور مدد پر بھرپور توجہ دی جائے اور ساتھ ہی لوگوں کی استعداد کاری
میں اضافہ کرنے کے اقدامات کیے جائیں تاکہ اُن کی بحالی کا عمل پائیدار بنیادوں
پر پورا ہوسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں آئندہ کے لیے ایسے المناک حادثات
کا بہتر طور پرسامنا کرنے کے لیے موثر حکمت عملی کی تیاری بھی پر بھی زور
دیاگیا ہے۔
اعلان نیروبی 1990ء کے مطابق زیادہ تر ممالک بڑی قدرتی آفات کی صورت میں تنہا
صورتِحال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں، لہٰذا علاقائی اور بین الاقوامی
سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ جنیوا فورم نے بھی ایسے سانحات کے
ممکنہ شدید نقصانات سے بچاؤ کے لیے ادارہ جاتی کوششوں کے ذریعے آگے بڑھنے
کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ دنیا بھر میں ماضی کے
مقابلے میں قدرتی آفات و سانحات کی شرح میں آج کئی گُنا اضافہ ہوچکا ہے۔
ہنگامی اقدامات سے وقتی طور پر صورتِحال پر قابو پایا جاسکتا ہے، لیکن پائیدار
بنیادوں پر نتائج کا حصول بے حد مشکل ہوتا ہے۔ اسی احساس کے تحت حکومت پاکستان
نے طویل المدت اور منظم بحالی و تعمیراتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے مرکزی
سطح پر Earthquake Rehabilitation and Reconstruction Authority کے نام سے
ادارہ قائم کردیا ہے۔ یہ اقدام لائقِ تحسین ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری
ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جنہیں ماضی میں زلزلوں کا کافی سامنا رہا ہے ، سے
فنی مدد حاصل کی جائے اور ان کے تجربات سے استفادہ بھی کیا جائے۔ زلزلے کے
مقابلے میں بہتر مدافعتی قوت رکھنے والی تعمیرات سے ہی مستقبل میں نقصانات
کو بڑی حد تک کم کرنے کی ضمانت ہوسکتی ہے۔اسی لیے خود رو تعمیرات کی جگہ باضابطہ
تعمیرات کرنے کے لیے حکومت نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو انتباہ دیا ہے کہ
غیر منظور شدہ تعمیراتی کاموں کے لیے حکومت کسی کو بھی معاونت فراہم نہیں
کرے گی،لیکن فقط یہ ایک ہی راستہ نہیں ہے کہ جو قدرتی آفت سے جنم لینے والی
تباہی و بربادی کی شدت کو کم کرسکتا ہے۔
حالیہ زلزلے کی تباہ کاری کی شدت بڑھانے میں انحطاط پذیر ماحول اور اس کے
لیے انسانی کردار ڈھکی چھپی بات نہیں۔یہی وجہ ہے کہ قدرتی نظام وسیع طور پر
توڑ پھوڑ کا شکار ہے ، اور ہر طرف فطری ماحول انحطاط پذیر نظر آتا ہے۔ہمارے
اطراف جاری بے شمار انسانی سرگرمیوں کو فطری نظام کے اصولوں کے تحت مربوط
کرنے کی جتنی اشد ضرورت آج ہے ، وہ پہلے کبھی محسوس نہیں کی گئی۔ مستقبل میں
زلزلے جیسی غیر متوقع قدرتی آفت سے ہونے والی تباہی کو کم سے کم کرنے کے لیے
ضروری ہے کہ ہم زمین کے فطری ماحول میں اصلاح کے لیے تیز اور مربوط کوششیں
کریں، کیوں کہ قدرتی آفات برسوں میں کی گئی ترقی کے ثمرات کو لمحوں میں ملبے
کا ڈھیر بنادیتی ہے، البتہ متوازن قدرتی ماحول کے ذریعے اس تباہی کو بڑی حد
تک کم کیا جاسکتا ہے۔
ارضی نظام کے توازن میں جنگلات بہت ہی اہمیت حاصل ہے اور اسے بنیادی اکائی
بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اپنے ماحول کو فطرت کے
اصولوں سے ہم آہنگ کرنے اور اسے متوازن رکھنے اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی
روکنے کے لیے سخت قوانین مرتب کررہے ہیں ، جس کے لیے 'دوبارہ جنگل اگاؤ' کی
مہم چلائی جارہی ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کو 'ماحول دوست منصوبوں ' کا نام
دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی کہ جہاں جنگلات کا کُل رقبہ صرف پانچ فیصد کے
لگ بھگ ہے، اب زلزلے کے بعد اس بات کی سنجیدہ ضرورت ہے کہ 'دوبارہ جنگل اُگاؤ'
جیسے اقدامات سختی کے ساتھ کیے جائیں اور کوشش کی جائے کہ اس شجر کاری کی
مہم کو صرف پودا لگانے تک نہیں بلکہ اس کے تناور درخت بن جانے کے مقصد سے
مشروط رکھا جائے، تاکہ ہمارے یہ طویل المدتی اقدامات ماحول کے بگڑے ہوئے توازن
کی اصلاح میںاپنا کردار ادا کرسکے۔
اکتوبر کے زلزلے کو قدرت کا ایک انتباہ سمجھ کر اگرہم نے اپنی روش نہ بدلی
اور ماحول کی اصلاح کے لیے بامقصد کوششیں نہ کیں تو پھر جان لیجیے کہ ہمارا
یہ رویہ تباہی و بربادی کو مستقلاً گھر میں ڈیرے ڈال دینے کی دعوت دینے کے
مترادف ہوگا۔ |