حالیہ زلزلہ شمالی پاکستان میں بے پناہ جانی و مالی نقصان کا سبب بنا تو دوسری طرف انحطاط پذیر قدرتی ماحول بھی اس سے شدید متاثر ہوا ہے-
تحریر: عبدالمناف قائم خانی


 

برسوں پہلے ایک فرانسیسی مصنف کی کتاب '25واں گھنٹہ'25th Hour پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ کتاب میں لکھا تھا کہ دنیا اپنے چوبیس گھنٹوں کی مہلت پوری کرچکی ہے اور اب وہ فیصلہ کن پچیسویں گھنٹے میں داخل ہورہی ہے، جہاں بڑی بربادی اور تباہی اس کے انتظار میں پر پھیلائے کھڑی ہے۔8 اکتوبر 2005ء کی صبح کو 'آٹھ بج کر پچاس منٹ' بھی ایک ایسا ہی لمحہ تھا، جب شمالی پاکستان کے باسیوں نے محسوس کیا کہ وقت کی رفتار انہیں فیصلہ کن لمحے میں لے آئی ہے اور پھر چند لمحوں میں ہی ہزاروں جیتے جاگتے انسان زمین کی خوراک میں تبدیل ہوگئے اور جو بچے وہ برسوںاس فیصلہ کن لمحے کی وسعت میں کھوئے رہیں گے۔

قدرتی آقت کیا ھے؟

لفظ 'آفت ' یا مصیبت کو مختلف معنوں میں بیان کیا جاسکتا ہے، تاہم وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے اس کا مطلب غیر متوقع طور پر جنم لینے والی حادثاتی صورتِحال اور اس کے تباہ کُن نتائج ہوتے ہیں  --- مزيد پڑھيے۔

 

چرند اور پرند آفات سے بچاؤ کا قدرتی اشارہ بھی ھیں؟

باور کیا جاتا ہے کہ جانوروں کی مختلف انواع اپنی مخصوص حسیاتی خصوصیات کی بنا پر زمین یا فضا کے درجئہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی کے اثرات اور آمدہ قدرتی سانحات مثلاً زلزلے جیسی تباہ کن قدرتی آفت کے آثار کئی گھنٹوں پہلے محسوس کرلیتے ہیںاور پھر اپنی غیر معمولی بے چینی سے اس کا اظہار کرتے ہیں --- مزيد پڑھيے

 

زمین اور اس کی اندرونی ہلچل

بیضوی شکل کا ہمارا یہ کرئہ ارض اپنے اندر نہایت پیچیدہ نظام رکھتا ہے۔ ماہرین ارضیات کہتے ہیںکہ کرئہ ارض کی ساخت ایک اُبلے ہوئے لیکن بن چھلے انڈے کی مانند ہے، جس کی تین پرتیں ہیں--- مزيد پڑھيے

 


اگرچہ اس زلزلے کے جھٹکے ملک کے متعدد شہروں اور دور دراز علاقوں تک محسوس کیے گئے، تاہم شمالی پاکستان کے آٹھ اضلاع ملکی تاریخ کی بدترین تباہی کا شکار بنے۔ ان اضلاع میں آزاد جموں و کشمیر کا دارالحکومت مظفر آباد، باغ، پونچھ اور صوبہ سرحد کے اضلاع مانسہرہ، بٹ گرام، کوہستان، شانگلہ اور ایبٹ آباد شامل ہیں۔قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ زراعت، آبپاشی، جنگلات، گلّہ بانی، ذرائع رسل و رسائل، صحت عامہ، تعلیمی ڈھانچے، آب رسانی و نکاسی کانظام، بجلی کی فراہمی سمیت زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو اس تباہی کا شکار ہو کر اب اپنی ازسرِ نو بحالی کا منتظر نہ ہو۔


اکتوبر زلزلے سے متاثرہ آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد ملک کے شمال میں واقع ہیں ، اسی نسبت سے انہیں شمالی پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں آباد ہیں۔ ماحولیاتی لحاظ سے اس جغرافیائی علاقے کو 'مرطوب معتدل ہمالیائی خطّہ' اور 'خشک معتدل ہمالیائی خطہ' میں تقسیم کیا جاتا ہے۔یہ پہاڑی خطّہ پائن اور بڑے پتوں والے درختوں سے ڈھکا ہوا اور قدرتی وسائل و حیاتیاتی تنوع کی دولت سے مالا مال تسلیم کیا جاتاہے۔ اس خطے کی زمین جھیلوں، پُرسکون دریاؤں، ہری بھری ڈھلوانی چراگاہوں، خاموش جھیلوں، برفیلی چوٹیوں والے بُلند و بالا پہاڑوں، گھنے جنگلوں و جنگلی حیات اور ان کے لیے مناسب فطری مساکن کے پیشِ نظر دلفریب فطری ماحول کی عکاس ہے۔

ماحولیاتی اہمیت اور گزشتہ چند دہائیوں میں ماحول کے انحطاط کے پیشِ نظر آزاد جموں وکشمیر کے کُل ارضی رقبے کا چار اور صوبہ سرحد کے کُل ارضی رقبے کا چھ فیصد حصہ 'محفوظ علاقہ' قرار دیا گیا تھا۔ ان محفوظ علاقوں میں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے قریب واقع مچیارہ نیشنل پارک ، جبکہ صوبہ سرحد کے ضلع ایبٹ آباد میں واقع ایوبیہ نیشنل پارک بھی شامل ہے، جو زلزلے کے جھٹکوں کو سہہ چکے ہیں۔ دریائے جہلم اور نیلم آزاد کشمیر کے بدترین تباہی والے علاقوں میں سے بہتے ہوئے گزرتے ہیں، جبکہ دریائے کنہار صوبہ سرحد کے متاثرہ اضلاع میں سے گزرتا ہے، جو بے شمار آبشاروں اور معاون جھرنوں سمیت ان علاقوں کے لوگوں کی آبی ضرورت کے لیے 'شہ رگ' کے مِثل ہے۔


قدرتی آفات کی وقوع پذیری میں انسانی سرگرمیوں کا کردار کسی نہ کسی حوالے سے ضرور ثابت ہوتا ہے اور اسے یکسر نظر انداز کرنا ممکن نہیں، خصوصاً عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں کے عمل میں آج کی تیز رفتار صنعتی زندگی کا بڑا عمل دخل ہے۔ اگرچہ زلزلہ بھی قدرتی آفت کے زمرے میں ہی آتا ہے، تاہم یہ ایک استشنائی معاملہ ہے اور قدرتی آفات میں سب سے کم دورانیے کے باوجود سب سے زیادہ تباہ کن مصیبت ہے۔ اگرچہ زلزلے کا ظہور زیرِ زمین ہونے والی تبدیلیاں ہوتی ہیں، لیکن سطحِ زمین پر اس کے اثرات اتنے سنگین ہوتے ہیں کہ بے پناہ جانی نقصان سے لے کر املاک کی تباہی تک کا گہرا گھاؤ برسوں مندمل نہیں ہونے پاتا اور اگر کہیں اس کا وار فطری ماحولیاتی نظام کی اکائیوں پر ہو تو صورتِحال کا صحیح اندازہ لگانا بھی مشکل ہوجاتاہے۔ بڑے بڑے شہروں سے قطع نظر قدرتی ماحول کے عکاس جغرافیائی خطّوں میں زلزلے کاآنا دو دھاری تلوار کے وار کے مترادف ہوتاہے۔ ایک طرف تو ارضیاتی ہلچل کے سبب انسانی بستیوں میں ہونے والے جانی نقصان کا صدمہ اٹھانا پڑتاہے تو دوسری جانب املاک کی تباہی، نقل مکانی کے بوجھ کے ساتھ ہی متاثرہ لوگوں پر نفسیاتی بدحالی کی صورت میں بھی اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں، جبکہ اطراف کا سارا فطری ماحول اور گرانقدر قدرتی اثاثے کا حلیہ ہی بگڑ کر رہ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ متعدد بار مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ جہاں فطری ماحول کے نظام میں غیر ضروری انسانی مداخلت کم رہی ہو، وہاں زلزلے سے ہونے والی تباہی کا عمل بھی اُسی تناسب سے کم رہتا ہے۔ دسمبر 2004ء میں سونامی اس کی زندہ مثال ہے ۔ جب یہ وقوع پذیر ہوئی تو جہاں جہاں ساحلی جنگلات موجود تھے، اُنہوں نے منہ زور لہروں کے آگے ڈھال کا کام دیا اور یوں بہت سی قیمتی جانیں اور بندرگاہیں بڑی تباہی سے محفوظ رہیں۔