تمیراتی شعبے میں قدرتی آفات کا عنصر نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اگر اب بھی تعمیرات کو درست خطوط پر استوار نہ کیا گیا تو یہ ایک خطرناک عمل ہوگا-

 

تحرير: ایم کمال

 

قدرتی آفات میں زلزلہ ایک کم ترین دورانیے کی آفت شمار ہوتی ہے،مگر دیگر آفات کی نسبت انسانی ہلاکتوں اور املاک کے نقصانات کے سبب اس کے اثرات تادیر رہتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ ''زلزلہ نہیں، عمارتیں انسانوں کو ہلاک کرتی ہیں۔'' ہلاکتوں کی ذمہ دار وہ غفلت ہے، جو دورانِ تعمیر برتی جاتی ہے۔

ماسوائے اسلام آباد ، ملک کے بڑے شہر وںکراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ ، اور فیصل آباد کے بڑے رقبے پر موجود عمارتوں میں 'منصوبہ بندتعمیرات' کا فقدان ہے اور ماہرین انہیں خطرات کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں۔ فرقان احمد طویل عرصہ فنِ تعمیر سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ بڑے شہروں میں ناقص تعمیرات کی وجوہات بتاتے ہیں:

'' اسلام آباد، ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں ایک بالکل نیا اور منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا شہر ہے۔ ملک کے دیگر شہروں کے برعکس یہاں رہائشی و تجارتی ضروریات کے لیے نقشے کے مطابق عمارتوں کی تعمیر ہوتی ہے، جبکہ کراچی، پشاور، لاہور، کوئٹہ اور فیصل آباد وغیرہ پرانے شہروں کے گرد ہی پھیلے ہیں، جس میںمنصوبہ بندی کا فقدان غالب رہاہے۔ شہروں کے غیر منصوبہ بندپھیلاؤ کے دو بڑے اسباب ہیں۔ پہلا معاش کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کا شہروں کی طرف ہجرت کرنا۔ دوسرا رہائشی ضروریات کے لیے رسمی شعبے کے بجائے غیر رسمی شعبے پر انحصار کرنا۔ غیر رسمی شعبے پر انحصار کی وجہ یہ ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت شہروں میں توسیع اور نئے علاقوں کی تعمیر کے لیے ذمہ دار اداروں نے کم آمدنی والے لوگوں کو نظر انداز کرتے ہوئے زیادہ تر ایسے علاقے بنائے، جہاں زمین کی قیمتیں ان کی بساط سے باہر تھیں۔ اس طرح غیر رسمی شعبہ جسے آج کل 'لینڈ مافیا' کہا جاتاہے، وجود میں آیا اور اس نے کم آمدنی والوں کے لیے کچی آبادیاں قائم کیں، حتیٰ کہ آج کراچی کا پچاس سے ساٹھ فیصد زیرِ رہائش رقبہ اُن کچی آبادیوں پر مشتمل ہے جہاں تعمیرات میں تمام حفاظتی اصولوں کو پسِ پشت ڈالا گیا، یوںقدرتی آفات اورحادثے ( زلزلہ یا آتشزدگی )کی صورت میں ان علاقوں میں امدای کاروائیاں کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ حقیقت بالعموم تمام بڑے شہروں پر صادق آتی ہے۔''

فرقان مزید کہتے ہیں'' رسمی شعبے میںمتوسط طبقے کی رہائشی ضروریات کے لیے تعمیر کیے جانے والے کثیرالمنزلہ رہائشی منصوبوں میں بھی زلزلے سے نمٹنے کی قوت کا فقدان ہے۔ کراچی میں گلشنِ اقبال، نیو کراچی، سرجانی ٹاؤن، سہراب گوٹھ ، گلستانِ جوہر وہ گنجان آباد علاقے ہیں کہ جہاںفلیٹوں کے جنگل ہیں۔ رسمی تعمیراتی شعبے اگرچہ کم آمدنی والوں کے لیے رہائشی ضرورت کو تو پوراکر رہے ہیںلیکن یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ان میں قدرتی آفات و حادثات سے نمٹنے کی بھی صلاحیت ہے؟ 'کم لاگت اور زیادہ منافع'کے لیے بلڈر اپنی ذمے داری سے آنکھیں چراتے ہیں ، نیز خریداربھی اس تصدیق کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ جس عمارت کے وہ مکین بننے جارہے ہیں، زلزلہ پروف ہے یا نہیں ،یا آتشزدگی کی صورت میں بچ نکلنے کے راستے تعمیر کیے گئے یا نہیں۔'' یاد رہے کہ کراچی میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ شہر کی متعدد کثیرالمنزلہ رہائشی عمارتیں خطرناک ہیں اور وہ زلزلے کی صورت میں برقرار نہیں رہ سکتیں۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی فنی کمیٹی نے8 اکتوبر کے زلزلے بعد ایک سروے کے نتیجے میں شہر کی 194کثیر المنزلہ عمارتوں کو' خطرناک' قرار دے کر زلزلے کی صوررت میں ان کے انہدام کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ان میں سے 118 عمارتیں مرکزِ شہر صدر میں موجود ہیں اور بدستور زیرِ استعمال ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ کراچی کو زلزلے کی زد میں شمار کیا جاتا ہے اور2005ء میں متعددبار ہلکی نوعیت کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں آبادی کا پھیلاؤ، شہر میں توسیع اور کثیرالمنزلہ رہائشی عمارتوں کی تعمیر میں ایک قدرمشترک ہے کہ قبل از تعمیرارضی تجزیے کا رواج نہیں ہے، جس سے معلوم ہوجاتاہے کہ زمین کتنا وزن اور کتنی شدت کے زلزلے کے جھٹکے سہہ سکتی ہے۔ جہاں بنیادی بات ہی نظر انداز کی جارہی ہو تو پھرزلزلے کی صورت میں ایسی عمارتوں کاثابت قدم رہنا دور کی بات ہے۔

کراچی سمیت لاہور، کوئٹہ ، پشاور اور فیصل آباد بھی گنجان آباد ہو چلے ہیں۔پشاور میںعموماً زلزلوں کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں اور یہاں اندرونِ فصیل شہر پر مشتمل یونین کونسل گنج جہاں22ہزار سے زیادہ نفوس قیام رکھتے ہیں،کو کئی عشروں پہلے زلزلے کی صورت میں'بہت ہی خطرناک' قرار دیا جاچکا ہے، مگر اب بھی یہاں روایتی انداز سے تعمیر کا سلسلہ جارہی ہے۔ ماہرینِ تعمیرات کہتے ہیں کہ شہر میں اب بھی متعدد ایسی بُلند عمارتیں تعمیر ہورہی ہیں جن میں قواعد و ضوابط کو پسِ پشت ڈالاگیا ہے۔ یوں نہ صرف قدیم بلکہ نئی عمارتیں بھی خطرات کی زدمیںہیں۔

لاہور ملک کا دوسرا بڑی آبادی والا شہرہے اور اکتوبر کے زلزلے کی شدت یہاں تک محسوس کی گئی تھی۔ اس صوبائی دارالحکومت میں کثیرالمنزلہ عمارتیںخود رو پودوں کی طرح وجود میں آرہی ہیں۔ موجودہ بلدیاتی نظام کے تحت لاہور نو انتظامی حلقوں (ٹاؤنز) میں تقسیم ہے اور بُلند عمارتوں کی تعمیر میں قواعد و ضوابط کی پابندی کے لیے ان حلقوں کے انتظامی افسران عملے کی شدید قلت کی دہائی دیتے ہیں۔ لاہور کے سٹی ناظم میاں عامر محمود کا موقف ہے کہ''غیر قانونی کثیرالمنزلہ تجارتی مراکز کا قیام ہمارے لیے بڑی پریشانی کا سبب ہے۔ ہم صوبائی حکومت کی مدد چاہتے ہیں کہ وہ غیر قانونی عمارتوں کے خلاف کاروائی کرے۔''

فیصل آباد میں لگ بھگ256اسکول کی عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جاچکا ہے جبکہ یہ بات بھی ریکارڈ پر آچکی ہے کہ گزشتہ چار عشروں کے دوران شہر میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر میں قواعد و ضوابط کو یکسر نظر انداز کیا گیا ۔ انگریزی روزنامہ 'ڈان' کی ایک رپورٹ کے مطابق'' شہر کی385کثیرالمنزلہ عمارتیں نہ صرف تعمیراتی قوانین بلکہ سول انجینئرنگ اور فنِ تعمیرکے تمام اصولوںکی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے تعمیر کی گئی ہیں۔ یہاں نجی شعبے میں تعمیر ہونے والی ایک بھی ایسی عمارت نہیں جس کی تعمیر میں ارضی ساخت کا تجزیہ، زمین کی موزونیت، تعمیراتی سامان کے مقررہ پیمانے، زلزلے،آتشزدگی کے دوران انسانوںکے بچاؤ کا خیال رکھا گیا ہو۔''

صرف یہی نہیں 1935ء میں بدترین زلزلے کا نشانہ بننے والے کوئٹہ میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد ہے ۔1997ء میں بلوچستان کی عدالتِ عالیہ نے شہر میں 30فٹ سے زائدبُلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کی تھی، لیکن آج بھی اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر میںبُلند عمارتیںتعمیر ہورہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آباد ی کے پیشِ نظر کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر روکی نہیں جاسکتی ، البتہ ضروری ہے کہ ان کی تعمیرات میں زلزلے سے مدافعت کی تکنیک، قبل از تعمیر ارضی تجزیے اور زمین کی موزونیت کو یقینی بنایا جائے۔ مزید برآں کنکریٹ کے بجائے اسٹیل اسٹرکچر اور ہلکے فرش کو رواج دیا جائے۔ کنکریٹ کے مقابلے میںاسٹیل اسٹرکچر کے ذریعے بنی عمارت میں جھٹکے برداشت کرنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔تعمیرمیں استعمال کیے جانے والے سامان کے ملک گیر سطح پریکساں پیمانے مقرر کر کے اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ واضح رہے کہ خود کیپٹل ڈویلپمنٹ اٹھارٹی، اسلام آباد کا موقف ہے کہ وہ عمارت تعمیرہوتے وقت تعمیراتی سامان کے مقررہ پیمانوں کے استعمال کی نگرانی کی ذمہ دار نہیں۔یہ ذمہ داری بلڈر اور اسٹرکچرل ڈیزائنر پر عائدہوتی ہے۔

اکتوبر کے زلزلے نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ اگر ہم نے اپنی عمارتوں کواب بھی عالمی طور پرطے شدہ پیمانے کے مطابق تعمیر نہ کیا تو یہ کسی بھی حادثے کی صورت میںبڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعمیرات کے تمام سرکاری و نجی شعبوں کو صوبائی یا علاقائی سطح کے بجائے ملک گیر سطح پرایک محکمے کے زیرِ نگرانی لایا جائے۔ اس ضمن میں ماہرین کی رائے ہے کہ وفاقی سطح پر ایک نیا محکمہ یا ادارہ تشکیل دیاجائے ، جس کے ذیلی دفاتر تمام صوبوں میں قائم کیے جائیں۔ اس ادارے میں محکمہء موسمیات، جیالوجیکل سروے آف پاکستان، پاکستان انجینئرنگ کونسل، واپڈا، نیشنل انجینئرنگ سروسز آف پاکستان (نیسپاک) سمیت تعمیرات اور ڈیزائننگ سمیت ماحولیات سے متعلق شعبوں اور آزاد شہری گروپوں کے نمائندوں کو بطور ارکان شامل کیا جائے اور جاپان و ترکی جیسے زلزلوں کی بڑی تباہی کا سامناکرنے والے ممالک کے ماہرین کی فنی مدد سے ملک میںنئی عمارتوں کی تعمیر ، تعمیراتی سامان کے پیمانے اور قواعد و ضوابط بنائے جائیں۔ نیز یہ ادارہ پہلے سے تعمیر شدہ بُلند عمارتوں کا بھی جائزہ لے اور تصدیق کرے کہ کون سی عمارت زلزلے کے جھٹکے برداشت کرسکتی ہے یا کتنی عمارتیں ایسی ہیں کہ جو کم شدت کے جھٹکوں میں بھی انسانی جانوں کی ہلاکتوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ نیز یہ ادارہ ارکان کی معاونت سے غیر ذمہ دارانہ تعمیرات کرنے والے بلڈرز کے خلاف کاروائی کرنے کا قانونی اختیار بھی رکھتا ہو، اور ناقص تعمیرات کے ذمہ دار بلڈر سے فلیٹ / دکانیں خریدنے والوں کو ہرجانہ ادا کروانے کا بھی۔


ایم کمال فری لانس صحافی ہیں

زلزلے سے بچاؤ کے لیے مکانات کا ڈیزاۂن

بہتر روزگار اور اچھے معیارِ زندگی کی تلاش میںدیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی اکیسویں صدی میں ترقی پذیر ممالک کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس وقت دنیا کے پندرہ بہت بڑی آبادی والے شہروں میں سے صرف چار بڑے شہر ترقی یافتہ صنعتی ممالک میں واقع ہیں، جن میں جاپان کا ٹوکیو، اوساکا کوبے کیوٹو، اور امریکا کے شہر نیویارک اور لاس اینجلس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر تمام گیارہ بڑے شہر ترقی پذیر ممالک میں واقع ہیں۔اقوامِ متحدہ کے پروگرام برائے انسانی بحالی کی 2000ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ان بڑے شہروں میںبرازیل کا شہر ساؤ پاؤلو (آبادی17.9ملین)، بھارت کا دارالحکومت دہلی (آبادی14.1 ملین)، فلپائن کا دارالحکومت منیلا (آبادی13.9ملین) شامل ہیں۔'' خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی بھی ڈیڑھ کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے ، جس میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔

مذکورہ بالا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ''1950ء تک دنیا کی کُل آبادی کا صرف30فیصد حصہ شہروں میں رہائش پذیر تھا، لیکن آج دنیا کی کُل آبادی کا نصف شہروں میں آباد ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو2030ء تک دنیا کی آبادی کا 60 فیصد سے زائد شہروں میں قیام پذیر ہوگا۔

ماہرین کی رائے ہے کہ قدرتی آفت مثلاً زلزلے یا طوفان کی صورت میں سب سے زیادہ جانی نقصان کا خدشہ بڑے بڑے شہروں میں رہنے والی آبادی کو ہی ہوتا ہے۔ جس کا سبب یہ ہے کہ ان شہروں میں رہائشی ضروریات کے لیے قائم کچی آبادیوں میں تعمیرات کے لیے قواعد و ضوابط کو قطعاً نظر اندازکر کے ایسی بے ہنگم بستیاں بسائی جاتی ہیں، جن کی مضبوطی سے زیادہ ان کے ذریعے وجود میں آنے والے' سر چھپانے کا ٹھکانہ' کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ نیز قدرتی آفات یا صنعتی حادثات مثلاً آگ وغیرہ لگ جانے کے سبب ان علاقوں میں امدادی کاروائیاں میں بھی تاخیر ہوتی ہے،جس کی وجہ غیر منصوبہ بند تعمیرات ہوتی ہیں۔ اس طرح بڑے شہروں کی ایک بہت بڑی آبادی ہر وقت خطرے کے قریب رہ کر اپنی زندگی بسر کرتی ہے۔

ایم کمال

 

 

   

زلزلے سے بچاؤ کے لیے مکانات کا ڈیزاۂن