|
بہتر
روزگار اور اچھے معیارِ زندگی کی تلاش میںدیہی علاقوں سے شہروں کی
طرف نقل مکانی اکیسویں صدی میں ترقی پذیر ممالک کا ایک بڑا مسئلہ
ہے۔ اس وقت دنیا کے پندرہ بہت بڑی آبادی والے شہروں میں سے صرف چار
بڑے شہر ترقی یافتہ صنعتی ممالک میں واقع ہیں، جن میں جاپان کا ٹوکیو،
اوساکا کوبے کیوٹو، اور امریکا کے شہر نیویارک اور لاس اینجلس شامل
ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر تمام گیارہ بڑے شہر ترقی پذیر ممالک میں واقع
ہیں۔اقوامِ متحدہ کے پروگرام برائے انسانی بحالی کی 2000ء کی ایک
رپورٹ کے مطابق ان بڑے شہروں میںبرازیل کا شہر ساؤ پاؤلو (آبادی17.9ملین)،
بھارت کا دارالحکومت دہلی (آبادی14.1 ملین)، فلپائن کا دارالحکومت
منیلا (آبادی13.9ملین) شامل ہیں۔'' خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے
سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی بھی ڈیڑھ کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے
، جس میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔
مذکورہ بالا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ''1950ء تک دنیا کی کُل آبادی
کا صرف30فیصد حصہ شہروں میں رہائش پذیر تھا، لیکن آج دنیا کی کُل آبادی
کا نصف شہروں میں آباد ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو2030ء تک دنیا کی
آبادی کا 60 فیصد سے زائد شہروں میں قیام پذیر ہوگا۔
ماہرین کی رائے ہے کہ قدرتی آفت مثلاً زلزلے یا طوفان کی صورت میں سب سے
زیادہ جانی نقصان کا خدشہ بڑے بڑے شہروں میں رہنے والی آبادی کو ہی ہوتا
ہے۔ جس کا سبب یہ ہے کہ ان شہروں میں رہائشی ضروریات کے لیے قائم کچی آبادیوں
میں تعمیرات کے لیے قواعد و ضوابط کو قطعاً نظر اندازکر کے ایسی بے ہنگم
بستیاں بسائی جاتی ہیں، جن کی مضبوطی سے زیادہ ان کے ذریعے وجود میں آنے
والے' سر چھپانے کا ٹھکانہ' کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ نیز قدرتی آفات
یا صنعتی حادثات مثلاً آگ وغیرہ لگ جانے کے سبب ان علاقوں میں امدادی کاروائیاں
میں بھی تاخیر ہوتی ہے،جس کی وجہ غیر منصوبہ بند تعمیرات ہوتی ہیں۔ اس طرح
بڑے شہروں کی ایک بہت بڑی آبادی ہر وقت خطرے کے قریب رہ کر اپنی زندگی بسر
کرتی ہے۔
ایم کمال
|