آب گاہوں کے انتظام میں آبی قلت بڑی رکاوٹ ہے- پائیدار بقا کے لیے ضروری ہے کہ پانی کی تقسیم میں انہیں بطور شراکت دار تسلیم کیا جاۓ

تحرير: ایم کمال


آب گاہیں کرئہ ارض کے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں ۔ آبی حیات کے لیے ساز گار ماحول مہیا کرنے کے علاوہ چرند و پرند کی افزائشِ نسل ا ور بقا میںبھی ان کا اہم کردارہے۔ انسانوں کی ایک بڑی تعدادکے لیے روزگار مہیا کرنے کے علاوہ یہ اپنے اطراف میں تمام عناصرِ حیات کے لیے سازگار ماحول بھی فراہم کرتی ہیں۔

آب گاہوں میں زندگی کے لہراتے رنگ ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دیتے ہیں

پاکستان میں 'آب گاہ' کی عالمی تعریف پر پورا اترنے والے آبی مقامات کی متعدد اقسام موجود ہیں اور بیس مقامات کو رامسر کنوینشن کے تحت محفوظ آب گاہوں کا درجہ بھی دیا جاچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہ رامسر آب گاہیں ہوں یا غیر رامسر ، ان کے پائیدار انتظام میں متعدد رکاوٹیں اور مسائل درپیش ہیں، جن کے سبب آب گاہوں کی حالت اور بقا بدستور خطرات کا شکار ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی، خوراک کی مانگ پورا کرنے کے لیے زراعت پر پڑنے والا دباؤ، صنعتی سرگرمیوں میں روز افزوں اضافے کی شرح اورپانی کی قلت وبڑھتی ہوئی طلب کے سبب اندیشہ ہے کہ مستقبلِ قریب میں پانی کی کمی آب گاہوں کے انتظام اور ان کی بقا کی کوششوں میں حائل سرِ فہرست مسئلہ ہوگا۔ مزیدِ برآںصنعتی، زرعی و گھریلو گندے پانی کی آبی ذخائر و گذرگاہوں میں نکاسی، زمین کے حصول کا بڑھتا ہوا رجحان، آبی حیات بشمول مچھلیوں جیسی اہم پیداواری صنف کے تحفظ و بقا سے متعلق ناکافی کوششیں بھی آب گاہوں کے بہتر انتظام میں ایک رکاوٹ ہیں۔ذیل میں پانی سے متعلق ان مسائل کا جائزہ لیا جارہا ہے جن کے سبب آب گاہوں کے پائیدارانتظام میںرکاوٹیں حائل ہورہی ہیں:

بدقسمتی سے پاکستان میں گنداب کی نکاسی کے لیے موثر انتظام کافقدان ہے، جس کے سبب جنم لینے والی آبی آلودگی سے آب گاہیںبھی نہیں بچ پائی ہیں۔ جس کے باعث آب گاہوںکے انتظا م کوپائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میںرکاوٹیں درپیش ہیں۔ ملک کے تقریباً تمام بڑے شہر دریائے سندھ اور دوسرے چھوٹے چھوٹے دریاؤں و تازہ پانی کی گذرگاہوں کے کنارے آباد ہیں۔ ان کا تمام گنداب بھی انہی آبی گزرگاہوں میں نکاس کردیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیںنکاسی آب کے بڑے منصوبوں کے سبب بھی آب گاہیں اور ان کے پانی کا معیار متاثر ہوا ہے۔

آب گاہوں کی اقتصادی اہمیت اور سماجی خدمات

آب گاہیں کرئہ ارض کے قدرتی ماحولیاتی نظام کا ایک اہم پیداواری عنصر ہیں۔ آب گاہوں کی اقتصادی اہمیت کا اندازہ اس مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر میںموجود مچھلیوں کی بیس ہزار سے زائد اقسام میں سے اس کی تقریباًچالیس فیصد تازہ پانیوں میں ہی پائی جاتی ہیں۔ چاول، جو دنیا بھر کی لگ بھگ نصف آبادی کی خوراک کا ایک اہم ترین حصہ ہے، آب گاہوں میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔طبعیاتی، حیاتیاتی اور کیمیائی عناصر مثلاً زمین، پانی، نباتات، جنگلات و آبی حیات کا باہمی اشتراکِ عمل آب گاہ کو متعدد اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ ان کے بعض کردار عام نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں لیکن یہ بہت بڑی انسانی خدمات کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔سیلاب سے ہونے والی تباہی کے خطرات میں کمی، ساحلوں کے استحکام، ہوا کے دباؤ کو قابو میں رکھنا، موسم کو معتدل بنانا اور بارش کے برسنے میں معاون ثابت ہونا، پانی کے زمینی رساؤ سے زیرِ زمین پانی کو ری چارج کرنا اور اس کی سطح کو نیچے گرنے سے بچانا، پینے کے لیے زمین سے کھینچے جانے والے پانی کو معدنی عناصر سے بھرپور بنانا جیسی یہ بیش بہا خدمات آب گاہیں خاموش رہ کر سرانجام دیتی ہیں۔

ماحولیاتی نظاموں کی اقتصادی قدر کے تعین سے متعلق کی جانے والی بعض تحقیق سے اشارے ملے ہیں کہ کرئہ ارض کا ماحولیاتی نظام سالانہ 33 کھرب امریکی ڈالر مالیت کے مساوی خدمات فراہم کرتا ہے، جس میں آب گاہوں اور ان کے ماحولیاتی نظام کی خدمات کا کُل حصہ4.5 کھرب امریکی ڈالر مالیت کا بنتا ہے۔ آب گاہوں کی معاشی خدمات اور تحفظِ ماحول میں ان کے کردار کے سبب اس وقت دنیا بھر میں بڑی تعداد میں سائنسدان اور ماہرینِ معیشت آب گاہوں کے ماحولیاتی نظام کی انسانوں کے لیے پیش کردہ خدمات پر تحقیق میں مصروف ہیں۔ آب گاہوں کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے اس کی معاشی قدر کا تعین کرنا اگرچہ ایک مشکل ترین کام ہے اور اس راستے میں بے شمار مشکلات بھی حائل ہیں، تاہم اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے کہ انسانی خدمات کے حوالے سے آب گاہوں کی معاشی اقدار کا تعین کیا جائے، تاکہ ان کا تحفظ ماحولیاتی نظام کی بقا کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی مملکتوں، اداروں اور فرد کی سطح تک اپنی تحفظ کی ضرورت کو اور زیادہ موثر طور پر منواسکے۔

ایم کمال

اس ضمن میں لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر آباد شہروںکے صنعتی، زرعی ا ور شور زدہ گنداب کی نکاسی کے لیے ملک کا سب سے بڑا منصوبہ تھا۔ بدقسمتی سے اس کے زہریلے اور ہر قسم کی آلودگی سے لیس پانی کو منچھر جھیل میں نکاس کرنے کی غلطی نے روس کی جھیل بیکال کے بعد ایشیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل کو اس قدر آلودہ کیا کہ اس میں موجود آبی حیات کی درجنوں اقسام ناپید ہوئیں، قدرتی ماحولیاتی نظام تباہ ہوااور اس پر بسیرا کرنے والے ہزاروں کشتی گھر کے مکین بھی بدترین معاشی سانحے کا شکار ہوئے۔

دریائے سندھ کے بائیں کناروں پر آباد شہروں نواب شاہ، سانگھڑ اور میرپور خاص کی زرعی زمینوں کو سیم و تھورسے بچانے کے لیے زیرِ زمین کھارے پانی کو ٹیوب ویلوںکے ذریعے نکال کربڑے سیم نالوں کے ذریعے بدین کے قریب سمندر میں بہائے جانے کا منصوبہ رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (آربی او ڈی) 1986ء میں شروع ہو کر1999ء تک لگ بھگ اپنی تکمیل کوپہنچا۔ باور کیا جاتا ہے کہ منصوبے کی بعض تکنیکی خامیوںکے باعث سیم نالوں کے ذریعے سمندر میں نکاس ہونے والایہ پانی تیزموجوں کے زور سے واپس پلٹنے لگا اور انہی نالوں کے ذریعے سمندر کا یہ پانی آگے بڑھنے لگا، جس سے زیرِ زمین میٹھے پانی کی مقدار گھٹنے لگی اور بڑی تعداد میں زرعی زمینیں تباہ ہوئیں۔ اس صورتِحال سے متعدد آب گاہیں بھی متاثر ہوئیں جن میں بدین (سندھ) کی رامسر آب گاہیں 'جُبھو' اور نرڑی بھی شامل ہیں۔ ماہرینِ آبی حیات کے مطابق اس صورتِ حال کے سبب آب گاہوں میں موجودہ میٹھے پانی کی مچھلیوں کی کم از کم 52 اقسام متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں انسان بھی معاشی بدحالی کا شکار ہوئے۔

آبی آلودگی کے سبب ہی صوبہ سرحد کی آب گاہ 'خیشکی ریزروائر' کو رامسر کی فہرست سے خارج کیا گیا۔ یاد رہے کہ اس جھیل میں شکر کے کارخانے کا زہریلا گنداب نکاس کیا جاتا رہا تھا، جس کے سبب وہ تباہ ہوگئی۔ مزیدِ برآں تونسہ بیراج کے اطراف میں کپاس کی کاشت اور بے تحاشہ زرعی زہر کے استعمال کے باعث بیراج کے تالابوں کو بھی آبی آلودگی کا سامنا ہے۔

زرعی مقاصد کے لیے استعمال شدہ زہریلے مادوں اور کھاد کے تلف نہ ہونے کے سبب کیمیائی اجزابہتے پانی کی مدد سے آب گاہوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ یوں اس میں موجود آکسیجن کی مقدار گھٹنے لگتی ہے تو دوسری جانب کھاد کے اجزا آبی خودرو نباتات کی شرحِ نمو کو تیز کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہ خود رو پودے جھیل کی سطح پر چھانے لگتے ہیں اور پانی کے اندر آکسیجن اتنی کم ہونے لگتی ہے کہ آبی حیات مرنے لگتی ہیں ۔ دوسری طرف زہریلا پانی پینے سے پرندوں اور انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ لاڑکانہ، سندھ کی حمل جھیل اور یہیں واقع رامسر آب گاہ ڈرگھ جھیل اس کی مثال ہیں۔ یاد رہے کہ لگ بھگ دو برس قبل مقامی لوگوں نے حمل جھیل کے آلودہ پانی کو استعمال کیا تو ان میں سے متعدد موت کا شکار ہوئے اور درجنوں کو اسپتال کا رخ کرنا پڑا تھا۔

آب گاہوں اور اس پر انحصار کرنے والی جنگلی حیات کے مسکنوں کے ماحولیاتی نظام میں تنزلی کے اسباب میں پانی کے بہاؤ کے سبب آبی ذخائراور آب گاہوں میں شامل ہونے والی مٹی ، نہری نظامِ آب پاشی کے باعث ہونے والا ارضی کٹاؤ، جنگلات کا خاتمہ، گنداب کی نکاسی اور زرعی مقاصد کے حصول کے لیے آب گاہ کی زمین کا استعمال شامل ہیں۔ بلوچستان میں بند خوش دل خان اور آزاد جمّوں و کشمیر میں منگلا ڈیم مٹی بھرجانے کی واضح مثال ہیں۔ سلسلہ کوئہ نمک کی بھی متعدد آب گاہوں کو زرعی و رہائشی مقاصد کے لیے زمین کے حصول جیسی انسانی سرگرمیوں کے سبب پیش آنے والے خطرے کا سامنا ہے۔

آب گاہوں میں اجنبی یا غیر مقامی حیاتیاتی اور ان کے اطراف نباتاتی اقسام کو بنا تجزیہ و تحقیق متعارف کروایا جانا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جومقامی نوع کی بقا کے لیے خطرات کا سبب بن جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر جھیلوں میں خود رو آبی پودوں کو کم کرنے کے لیے چند سال قبل محکمہ فشریز، سندھ نے 'گراس کارپ' مچھلی متعارف کروائی، جس نے بعد ازا ں مقامی مچھلیوں کو کھانا شروع کردیااور ان کی شرح افزائش و نسل خطرے میں پڑگئی ،جس کی مثال سندھ کی کینجھر جھیل ہے۔ زیادہ تر انسانی سرگرمیاں جو تازہ پانی کے معیار کو آلودہ کرنے کی ذمے دار اور آب گاہوں کے ماحول کی بقا کے لیے خطرہ ہیں، عموماً شراکت داروں کی غفلت اور عدم آگاہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خطرے کے تدارک کے لیے آب گاہ کے تمام شراکت داروں کو ان کی اہمیت سے روشناس کراتے ہوئے انسان اور آب گاہوں کے ماحولیاتی نظام کے مابین مضبوط تعلق کو استوار کروایا جائے۔ آب گاہوں کے اطراف آباد لوگ اس کے فوائد سے برائہ راست فیض یاب ہوتے ہیں۔ اس لیے آب گاہوں کے منتظم سرکاری ادارے و معاون شعبوں کے مابین بہترین تعلقات قائم ہونا اشد ضروری ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ذمے دار ادارے مقامی کمیونٹی کو آب گاہوں کے فوائد اورمعاشی زندگی میں ان کے مثبت اثرات کے بارے میںآگاہی پیدا کریں۔

آب گاہوں کے لیے پانی کی بنیادی اہمیت ہے، لیکن قلتِ آب کی درپیش صورتِ حال میں آب گاہوں کے پائیدار استعمال اور ان کے ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسی کا فقدان بھی نظر آتاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آب گاہوں کے لیے تازہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے اور ان کے تحفظ کے لیے پائیدار استعمال کی پالیسی وضع کی جائے اور اس کا عملی نفاذ بھی ممکن بنایاجائے۔ نیز ملک میں پانی کی تقسیم کے ضمن میں دیگر تمام شعبوں کی طرح آب گاہوں کو بھی ایک شراکت دار تسلیم کیا جائے اور ان کی بقاکے لیے ماہرین کے تجزیے پر مبنی ایک ایسی کم ز کم مقدار کا بھی تعین کیا جائے جو ان کی بقا کے لیے درکار آبی ضرورت کو پورا کرتی ہو ۔ اس مقصد کے لیے پہلے سے موجود قوانین میں ترامیم اور نئی قانون سازی جیسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

 

مزید پڑھیے : رامسر کنوینشن اور پاکستانی آبگاہیں


 

ایم کمال فری لانس صحافی ہیں اور ماحولیات کے موضوع پر تحقیقی مضامین لکھتے ہیں