بلوچستان میں صرف سمبان چشمہ ہی نہیں بلکہ بے شمار قدرتی آبی ماخذ خشک ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں نقل مکانی بھی ہوئ

تحريروتصاوير: سلطان احمد شاہوانی


 

غوث بخش، خضدار سے گذرنے والی آرسی ڈی شاہراہ کے قریب واقع سمبان چشمے کے قرےب آبا و اجداد سے ترکے مےں ملنے والے پانچ ایکڑ پر مشتمل سیب کے باغ کا مالک تھا۔باغ سے اسے سالانہ آٹھ لاکھ کے قریب آمدنی ہوتی تھی۔ یہ آمدنی اس کے بھرے پُرے کنبے کی کفالت کے لیے کافی تھی۔ زندگی نہایت آسودہ گذر رہی تھی۔ پھر چند برس قبل یوں ہوا کہ سمبان چشمہ خشک ہونے لگا۔ اس کے سُوتے سوکھنے لگے تو باغ کو ملنے والے پانی میں بھی کمی آنے لگی۔ پانی میں کمی سے فصل خراب ہونا

فدرتی آبی وسائل کا تحفظ ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے بھی نہایت ضروری ہے

شروع ہوئی تواس نے باغ کو بچانے کے لئے ٹیوب ویل لگالیا لیکن 80ء کی دہائی کے بعد سے ٹیوب ویلوں کی بے تحاشہ تنصیب کے سبب بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی طر ح خضدار مےں بھی زیر زمین پانی کی سطح روز بروز گرتی چلی گئی ۔ حتیٰ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جب ٹیوب ویل چلانے کے لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد ہی پانی نکلنا بندہوجاتا تھا۔ اس کے بعد آٹھ سے نو گھنٹے بعد اس قدر پانی دوبارہ ذخیرہ ہوتا تھا کہ ٹیوب وےل مزےد ایک گھنٹہ تک چل سکے لےکن یہ پانی گھریلو استعمال کے لیے بھی ناکافی تھا چہ جائیکہ باغ سیراب ہوتا ۔ غوث بخش نے زیر زمین پانی کی تلاش میں مختلف جگہوں پر کھدائی بھی کروائی لیکن وقت اور پیسوں کے زیاں کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا ۔۔۔۔۔۔اورتمام کوششوں کے باوجود سیب کا یہ باغ بچ نہ سکا ۔ مالی پریشانی کے عالم میں غوث بخش اس دار فانی سے کوچ کر گیا اورآج ماضیِ قرےب کا یہ ہنستا بستا خاندان نان شبینہ کا بھی محتاج ہے۔آج پورے خاندان کا گزارہ ان باسٹھ بھیڑ ' بکریوں پر مشتمل گلّہ پر ہے جس کی دیکھ بھال غوث بخش کا بڑا بیٹا کریم بخش کر رہا ہے۔ کرےم کہتا ہے!

''جو ہوا، اس مےں رب کی مرضی ہے، لےکن ہم نے بھی خدا کی نعمتوں کی ساتھ ضرور اسراف کیا ہے۔ تبھی تو چشمہ سوکھا۔ باغ اجڑا ور صرف ہم ہی نہیں سمبان کے پانی سے خوشحال زندگی بسر کرنے والے لوگ بہت سارے دربدر ہوئے۔''

سمبان کے سُوتے خشک ہوئے تو اس پر برائہ راست انحصار کرنے والے تقریباًڈیڑھ سو خاندان بد حال ہوئے۔ یہ لوگ سمبان کے پانی سے مجموعی طور پانچ سو ایکڑ کے قریب زمین پر مختلف فصلیں کاشت کر کے خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ جوں جوں چشمے کا پانی خشک ہوتا گیا ،سرسبز کھیت بنجر ہوتے گئے اور یہ لوگ ایک ایک کرکے نقل مکانی کرتے چلے گئے ۔ آج ان کی اکثرےت خضدار شہر میں محنت مزدوری کر کے بڑی مشکل سے اپنے بال بچوں کے لیے دو وقت کی روزی کما رہے ہیں اور جو چند لوگ اب بھی سمبان کے مُردہ چشمے سے جُڑے بیٹھے ہیں، وہ غوث بخش کے پسماندگان کی طرح بیتے دنوں کی ےادیں کلیجے سے لگائے غمِ حےات سے اُلجھے ہوئے ہیں۔

سمبان قدرتی چشمہ تھا، جس کے بارے میں یہ تو کسی کو نہیں معلوم کہ اس نے اپنے حیات بخش سفر کا آغاز کب کیا تھا، البتہ آر۔سی۔ڈی (یا موجودہ ایکو) شاہراہ سے محض دو فرلانگ کے فاصلے پر سنگلاخ پہاڑوں سے نکلنے والے اس چشمے کی تاریخ سے متعلق مقامی بزرگ باشندے بتاتے ہیں کہ تقریبا نصف صدی قبل اس میں اس قدر پانی تھا کہ کوئی بھی بھیڑ بکری اس میں گرجاتی تو اسے نکالناتقریباًنا ممکن تھا ۔ آہستہ آہستہ اس کا پانی کم ہوتا گیا ۔مقامی محکمہ آب پاشی کے ذرائع کے مطابق 1984ء میں اس چشمے میں صرف سات کیوسک پانی باقی رہ گیا تھا ۔

سمبان سے باجوڑی تک کا علاقہ گھنے جنگلات کا ایک وسیع و عریض سلسلہ تھا کہ جسے مقامی لوگ 'رباد جنگل' کے نام سے جانتے تھے۔ یہ جنگل مختلف النوع جنگلی حیات کی پناہ گاہ تھی ، لےکن حصولِ معاش اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث اس جنگل کی بھی بے دریغ کٹائی ہوئی۔ جس کے نتیجے میںجنگل گھٹنے لگا اور جنگلی حیات بھی نئے مسکنوں کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔ بعد ازاںجنگلی کبوتر اور اس قسم کے دوسرے پرندے صرف سمبان چشمے کے پاس نظر آتے تھے لیکن جب یہ چشمہ بھی خشک ہوا تو پھرپرندے بھی ایک ایک کرکے غائب ہوگئے۔ اب پچاس مربع کلومیٹر کے علاقے میں بہت کم جنگلی جانور یا پرندے دکھائی دیتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کا کوئی پالتو جانور مرجائے تووہ اسے دور ویرانے میں پھینک آتے ہیں، لیکن سمبان کے خشک ہوجانے کے بعداب انہیںکھانے کے لیے چرند و پرند بھی نہیںآتے۔ جس کی وجہ سے اطراف میں تعفن پھیلتا رہتا ہے، لہذا مجبوراً مردہ جانوروں کو زمین میں دفناتے ہیں۔

سمبان چشمے پر استوار زندگی کی کہانی بھی بڑی عجیب ہے۔ پہلے بے دردی سے جنگل کٹا،پھر جنگلی حیات گئی اور پھر پانی کچھ اس طرح لوگوں کی خوشحالی کو بھی اپنے ساتھ لیتا چلا گےاکہ جہاں زندگی اپنی بھرپور رعنائیوںکے ساتھ رواں دواں تھی، اب وےرانی راج کرتی ہے اور باقی ماندہ گھروں میں بے انتہا غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔

ماہرینِ جنگلات و آب کے مطابق سمبان چشمے کے خشک ہونے کی وجوہات میں جنگلات کے کٹاؤاوربارشوں میں کمی ہے۔ جس کے سبب زیرِ زمین پانی کا ری چارج عمل متاثر ہوا لیکن سب سے کاری زد چشمے کے اطراف دس کلومیٹر کے علاقوں میں ٹیوب ویلوں کی بڑی تعدادکی تنصیب سے پڑی، جس نے زیرِ زمےن پانی کی سطح کو تشویش ناک حد تک نیچے گرادیا۔ یاد رہے کہ 1986ء میں یہ علاقہ بجلی کی ترسیل کے قومی نظام سے منسلک ہوا جس کے بعد سے یہاںبے شمار ٹیوب ویل لگے اور زرِ تلافی کی سہولت کے باعث بجلی کے بل کی رعایت نے ان ٹیوب ویل مالکان کودن رات زیرِ زمین پانی کے کھینچنے کی کھلی چھوٹ دے دی۔ ابتدا میں چونکہ محض دس سے پندرہ فٹ گہرائی پرپانی دستیاب تھا، اس لیے کروڑوں سال سے زیر زمین ذخیرہ ہونے والے پانی کو لوگوں نے بے دردی سے ٹیوب ویلوںکے ذریعے کھیتی باڑی کے لیے نکالا ۔ پھرپانی کی سطح نیچے گرتی چلی گئی، ری چارج کا عمل تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ یوںآج یہاں پانچ سو فٹ کی گہرائی پربھی پانی دستیاب نہیں ہے۔

سمبان چشمے کے ساتھ ہی دریائے رباد باجوڑی بہتا ہے اور مقامی محکمئہ آب پاشی کے ماہرین کے مطابق اس دریامیں موسمِ برسات کے دوران بڑی مقدار میںپانی آتا ہے۔ چونکہ یہ پانی پہاڑوں پر سے انتہائی تیزی کے ساتھ بہتا ہوا نیچے کی سمت آتا ہے اس لیے تیزی سے بہتا ہوا محض چند گھنٹوں میں ہی دریائے کولاچی کا حصہ بن کر سندھ کے شہر دادو کے قریب دریائے سندھ سے مل جاتا ہے ۔ اس لیے اس سے نہ توزیرِ زمین پانی صحیح معنوں میں ری چارج ہوتا ہے اور نہ ہی پائیدار استفادہ ممکن ہوپاتا ہے۔اس صورتِ حال کے پیشِ نظر محکمہ آب پاشی نے سمبان سے تقریبا دس کلومیٹر دور پیشک کے مقام پر ایک ڈیم بنانے کامنصوبہ بنایا ، جس میں چھ ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کا تخمینہ تھا ۔ اگرچہ فنّی ماہرین نے اس ڈیم کو ہر لحاظ سے قابلِ عمل قرار دیا تھا لیکن تعمیراتی کام کے آغاز کے فوراً بعد سے یہ منصوبہ سیاسی طور پر پیدا شدہ تنازعات کا شکار ہو کراب تک التوا میں ہے ۔

ماہرینِ آب کے مطابق سمبان چشمہ اب بھی پہلے کی طرح حیات بخش بن سکتا ہے لیکن اس کے لیے 'ڈیلے ایکشن ڈیم' بنانے ہونگے ۔ نوغے ' سمبان اور باجوڑی (جو کہ محض دس کلومیٹر کے علاقے کے اندرواقع ہیں )وہ مقامات ہیں جہاں آسانی سے ڈیم بنا کر بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ 'ڈیلے ایکشن ڈیم' کو زیرِ زمین پانی کے ری چارج کے لیے نہایت کارگر سمجھا جاتا ہے۔

اس وقت واپڈا زمینداروں کو رعایتی نرخ پر بجلی فراہم کررہا ہے۔ ٹیوب ویل کنکشن کے تحت استعمال شدہ بجلی کے بل کی مد میں زمیندار سے صرف چار ہزار روپے ماہانہ لیے جاتے ہیں جبکہ باقی رقم صوبائی حکومت بطورِ زرتلافی واپڈا کو فراہم کرتی ہے۔ اس رعایت کی وجہ سے مذکورہ علاقے میں اس وقت ایک ہزار کے قریب ٹیوب ویل صبح شام چل رہے ہیں ۔ ایک عام ٹیوب ویل عام حالت میںصفراعشاریہ پانچ کیوسک پانی زمین سے کھنچتا ہے گویاپانچ سوکیوسک روزانہ زیرِ زمین پانی نکالا جا رہا ہے ۔ یوں زیرِ زمین پانی کے ری چارج کا توازن بری طرح غیر متوازن ہوچکا ہے۔مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ اس سال مارچ سے لے کر جون تک بجلی کے بحران کی وجہ سے جب ٹیوب ویل بند ہوئے تھے تو بہت سے ایسے چھوٹے قدرتی چشمے دوبارہ بہنا شروع ہوگئے جو کہ خشک ہو چکے تھے ۔ ماہرین کے نزدیک ان چشموں کے دوبارہ جاری ہوجانے کاسبب ٹیوب ویلوں سے بے تحاشہ زیرِ زمین پانی کے کھینچے جانے کے عمل میں وقتی تعطل تھا، لیکن چونکہ جون کے آخر میں بجلی کی فراہمی کافی حد تک بحال ہوگئی تھی، اس لئے ٹیوب ویل دوبارہ چلنے لگے اور یوں یہ چشمے پھر خشک ہوگئے ۔

زندگی کے رنگوں کا یوں ماند پڑ جانا صرف سمبان چشمے کا المیہ نہیںبلکہ ایسے بے شمار چشمے اور بھی ہیں جو خشک ہو چکے ہیں ۔ بلوچستان کی معیشت کا لگ بھگ 80 فیصد انحصار، باغبانی، زراعت اور گلہ بانی پر ہے اور نےم خشک و بنجر خطّہ ہونے کی وجہ سے یہاں بارش، برف باری اور چشمے ہمیشہ سے آب پاشی کا بنیادی ماخذ رہے ہیں ، اس لیے ان چشموں کے خشک ہونے کی وجہ سے ہزاروں خاندان در بدر ہوئے ہیں، حالانکہ یہاں کے بنجر اور پہاڑی علاقے کی جغرافیائی ساخت کچھ اس طرز کی ہے جہاں انتہائی کم لاگت سے ڈیم بنا کر بارش کا پانی ذخیرہ کرکے پائیدار بنیادوں پر اسے استعمال کیا جاسکتاہے ۔ بلوچستان میں خشک سالی کے باعث حکومتی سطح پر صوبے میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے نہایت اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ یقیناً ان کے ثمرات فائدہ مند ثابت ہوں گے، تاہم پانی کے درست استعمال سے متعلق ہمیں انفرادی سطح پر بھی سوچ اور رویوں میں تبدیلی لا کر آب پاشی کے جدید سائنسی طریقے اور پائیدار استعمال کی راہ بھی اپنانا ہوگی، تاکہ غوث بخش اور اس کے خاندان کی طرح نہ تو کوئی گھر اجڑے اور نہ ہی سمبان کی طرح کوئی چشمہ سوکھے!!!


 

 


سلطان احمد شاہوانی ریڈیو پاکستان، خضدار سے بطور سینئر پروڈیوسر وابستہ ہیں