پانی اور حیات دونوں کا رشتہ نہایت ہی قریبی اور مضبوط ہے لیکن جب صحت مند پانی نہ ملے توپھر موت مقدر بننے لگتی ہے۔ عالمی سطح پر دیکھیں تو اس وقت دنیا کے کئی ارب افراد کو پینے کے لیے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال سے ہونے والی اموات کی شرح دنیا کی کسی بھی جنگ میںکام آجانے والے افراد کی ہلاکتوں سے مجموعی طور پر سب سے زیادہ ہے۔

صاف پانی انسان کا بنیادی حق ہے- لیکن آج بڑی تعداد میں اموات کا سبب آلودہ پانی ہی ہے

پاکستان میں مختلف اداروں ، غیر سرکاری تنظیموں اور شعبئہ طب سے وابستہ انجمنوں کا اتفاق ہے کہ اس وقت صاف پینے کے پانی تک شہریوں کی رسائی ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے اور پیاس بجھانے کے لیے آلودہ پانی کا استعمال بالخصوص بچوں میں اموات کا ایک اہم سبب ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں کم عمر بچوں کی ہلاکتوں میںلگ بھگ60فیصد تک شرح اموات آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا شدہ امراض ہیں اور لگ بھگ دس ہزار بچے سالانہ اسی سبب سے موت کے منہ میں چلتے جاتے ہیں۔ ماہرینِ طب کے مطابق آلودہ پانی کا استعمال بچوں اور بڑوں میں جِلدی امراض کے علاوہ گیسٹرو، ہیضہ، ٹائیفائیڈ ، ہیپاٹائٹس، یرقان حتیٰ کہ انہیں کینسر تک میں مبتلا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

عالمی ادارئہ صحتW.H.O کے مطابق پاکستان میں آبی آلودگی کے باعث پھیلنے والے امراض کی شرح میں اضافے کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ملک کے تمام سرکاری اسپتالوں میں مجموعی طور پر داخل ہونے والے 25 سے 30 فیصد مریض آبی آلودگی کے سبب پیدا شدہ امراض کی وجہ سے یہاں پہنچتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ بات اس لیے بھی خطرناک ہے کہ اس کے زیرِ زمین آبی وسائل کے آلودہ ہونے کے حوالے سے بھی متعدد تحقیقاتی تجزیے کافی عرصہ پہلے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اس وقت پانی جہاں متعدد اقسام کی آلودگی کا شکار ہے وہیں اس میں آرسینک کی شمولیت کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ یاد رہے کہ سندھ اور پنجاب میں آرسینک کے باعث پانی کی آلودگی ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر فروری2005ء میں ملتان میں بچیوں کے تئیس اسکولوں میں پینے کے لیے فراہم کیے جانے والے پانی کے نمونوں کا جب سائنسی اور کیمیائی تجزیہ کروایا گیا تو اس میں آرسینک کی بڑی مقدار شامل تھی ۔ یہ شرح W.H.O کی طے کردہ مقدار سے آٹھ گُنا زیادہ تھی۔ بات آرسینک تک ہی محدود نہیں۔ 2000ء میں لاہور کے نواحی گاؤںمانگا منڈی کے سینکڑوں باشندوں نے اسپتالوں سے رجوع کیا، جن میں175بچے بھی شامل تھے۔ ان افراد کے جسم کی ہڈیاں کمزور ہو کر مڑنے لگی تھیں۔ تجزیے سے پتا چلا کہ اس کا سبب پینے کے لیے استعمال ہونے والے پانی میں فلورائیڈ کی مقدار کا بہت زیادہ شامل ہونا تھا۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی کراچی ہو یا مانگا منڈی، کوئٹہ ہو یا خضدار۔۔۔ غرضیکہ ہمیں ہر جگہ ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں آلودہ پانی نے لوگوں کو صحت کے سنگین مسائل سے دوچار کیا۔واضح رہے کہ صاف پانی تک رسائی کو اقوامِ متحدہ بنیادی انسانی حقوق کا درجہ دیتی ہے۔

اگرچہ پاکستان بھی اس وقت دنیا کے انہی ممالک میں شامل ہے جہاں آبی آلودگی انسانی صحت کو سنگین خطرات سے دوچار کررہی ہے۔ حکومتِ پاکستان گزشتہ ایک برس سے وعدہ کررہی ہے کہ2007ء تک ملک کے تمام شہریوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کردیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے آئندہ سال کے اختتام تک ملک کی تقریباً ساڑھے چھ ہزار سے زائد یونین کونسلوںمیں فی کونسل پینے کا صاف پانی مہیا کرنے والا ایک پلانٹ نصب ہوگا۔ یہ خوش آئنداقدام ہے لیکن ضرورت ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے ان تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جہاں پائپ لائنوں کے ذریعے پانی فراہم ہوتا ہے، کی ازسرِ نو تنصیب پر بھی توجہ دی جائے۔ خود پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں گزشتہ دو برسوں کے دوران پانی کی پائپ لائنوں میں رساؤ سے گٹر کے گنداب کی شمولیت کے باعث کئی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ اسی طرح لگ بھگ دو برس قبل حیدرآباد میں منچھر جھیل کے دریائے سندھ میں نکاس کیے گئے بدترین آلودہ پانی کو پینے کے لیے ترسیل کیا گیا جو اکتالیس سے زائد انسانوں کی ہلاکت کا سبب بنا تھا۔

 

مختار آزاد