کاریزوں کے حوالے سے مشہور بلوچستان میں واقع بلوزئ ڈیم سے زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے کا کامیاب تجربہ، جس سے مردہ کاریز جی اٹھی

 

تحرير: ایم اے شیخ تصاوير: مختار آزاد

 


فطرت نے ایک استاد کی طرح انسان کو ہر اُس عمل سے روشناس کروایا ہے جو اْس کی بقا اور ترقی کے لیے ضروری ہو سکتاتھا اور اشرف المخلوقات نے بھی ایک ذہین شاگرد کی طرح استفادہ اْٹھانے کے لیے وہ تمام طریقے اور اصول دریافت کیے جو نظامِ قدرت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جیسے جیسے بشری ضروریات میں اضافہ ہو تا چلا گیا ویسے ویسے ہی فطرت اور انسان کے درمیان ہم آہنگی ور مطابقت کا رشتہ کمزور ہوتا چلاگیا۔ لوک دانش پرمبنی ماحول دوست رویے ماضی کی کہانی بنتے گئے اور اُن کی جگہ ایسے طورطریقوں نے لے لی جو قدرتی وسائل کو ان کی ستعدادسے زیادہ استعمال کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوئے اور ایسا ہی کچھ بلوچستان میں پانی کے استعمال کے قدیم طریقہ کار' کاریز'کے ساتھ بھی ہوا۔

'کاریز ' فارسی زبان کا لفظ ہے ہزاروں برس قدیم یہ نظامِ آب پاشی انسانی فہم و فراست کی وہ مثال ہے جس میں اس نے اصولِ فطرت کے عین مطابق ترسیلِ آب کا ایسا نظام وضع کیا جس کی تعمیر ، نگہداشت، استعمال حتیٰ کہ حقِ ملکیت میں بھی اشتراکی فلاح کا تصور موجود تھا۔ اجتماعی فلاح کا یہ تصور اتنا مضبوط تھا کہ آج بھی یہ کاریز نظامِ آب پاشی میں بڑی کامیابی کے ساتھ مستعمل ہے۔

کہتے ہیں کاریزات پر مشتمل نظامِ آب پاشی کا آغاز شمال مغربی ایران سے لگ بھگ تین ہزار سال قبل ہوا۔جہاںسے اسے چین کی طرف تو سیع ملی اور پھر مغرب کی طرف شمالی افریقا، قبرص، کینری آئی لینڈ اورا سپین تک یہ سلسلہ پھیلتا چلاگیا ۔ کراچی کے ممتاز ماہرِ تعمیرات ڈاکٹر تنویر عارف کے مطابق '' اس وقت دنیا کے بائیس ممالک میں کاریز نظامِ آب پاشی رائج ہے اور اسے بیس مختلف ناموں سے پکاراجاتا ہے۔ان میں پاکستان اور ایران کے علاوہ چین ، چلّی، افغانستان، فلسطین، شمالی افریقا اور عرب خطے کے ممالک نمایا ںہیں۔

کاریزات کا نظام پورے پاکستان میں صرف بلوچستان کے علاقے میں ہی موجود ہے اوریہاں پر ایک وسیع و عریض علاقے کی اجتماعی پہچان کے لیے لفظ 'کاریزات' استعمال کیا جاتا ہے۔ ثقافتی لحاظ سے کاریزوں کا اس خطّے کے سماج پر گہرا اثر رہا ہے۔ بلوچستان میں اس کی تاریخ لگ بھگ ایک ہزار سال پرانی ہے جس کی تصدیق مکران کے علاقے میں کھدائی کے دوران ملنے والے ان آثار سے ہوتی ہے جنہیں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے 'کاریز' کے طور پر شناخت کیا ہے۔کاریز نظامِ آب پاشی کوبلوچستان کازیرِ زمین نہری نظام بھی کہا جاسکتا ہے ۔

کششِ ثقل اور نشیب میںبہاؤ کے قدرتی اصولوںپر استوار یہ نظام بلوچستان کے نشیب و فراز سے پُرپہاڑی علاقوں میں رائج ہے۔ جس کے ذریعے زیرِ زمین رساؤسے جمع ہونے والے پانی کو استفادے کے لیے زمین دوز نالیوں کے ذریعے میلوں دور تک پہنچایا جاتا ہے۔ کاریز کی تعمیر کے لیے سب سے پہلے پہاڑکے نشیبی دامن میںہموار سطح پر تنگ لیکن کافی گہرائی والامرکزی کنواں کھوداجاتاہے جس میںزیرِ زمین پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں ۔ اس کے بعد کنویں میں نشیب کی سمت پانی کی ترسیل کے لیے سرنگ نمازمین دوز نالی کھودی جاتی ہے ۔ ہر پچاس فٹ کے بعد کھودے جانے والے کنویںکو سرنگ نما نالی کے ذریعے ایک دوسرے سے ملادیا جاتا ہے۔اس طرح ضرورت اور پانی کی آخری منزل کے فاصلے کے حساب سے ہر پچاس فٹ کے فاصلے پر کنویں کھوکر انہیں ایک دوسرے سے سرنگ نما نالیوں کے ذریعے ملایا جاتا ہے۔ان کنوؤں کی تہ سے پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اس کی کچی دیواروں سے بھی رساؤ جاری رہتا ہے۔ یوں کنوؤں میں آنے والاپانی نشیب کی سمت رواں دواں رہتا ہے۔کاریزکی زمین دوز نالی جوں جوں آگے بڑھتی جاتی ہے، وہ سطح زمین سے قریب تر ہوتی چلی جاتی ہے ۔ جہاں اس کا دہانہ سطحِ زمین پر کھلتا ہے وہاں ترسیل آب کے لیے آبی گزرگاہیں قائم کردی جاتی ہیں اور پھر یہاں سے استفادے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔کاریز کے لیے بنائے گئے کنوؤں کی وقتاًفو قتاً صفائی بھی کی جاتی ہے اس کے علاوہ انہی کنوؤں کے ذریعے تازہ ہوااور سورج کی روشنی بھی ان زمین دوز نالیوں تک پہنچتی ہے۔ جس کے باعث پانی کی صحت اور اس کا معیار برقرار رہتا ہے۔ نیز یہ کنوئیںبارش کے پانی کو بھی بے مصرف بہنے کی بجائے اسے اپنے ڈسچارج کا حصہ بنالیتے ہیں۔

کاریزنظامِ آب پاشی ایسے علاقوں کے لیے انتہائی مفید ہے جہاں سطح زمین پر پانی کا ذخیرہ اور ترسیل کی گنجائش بہت محدود ، آب و ہوا گرم و خشک اورزمین پر موجود پانی کے بخارات میں تبدیل ہونے کا عمل تیز ہو۔ چونکہ کاریز کازمین دوز نظام پانی کو دھوپ کی برائہ راست تمازت سے بچاتا ہے۔ اس لیے پانی بخارات کی شکل اختیار نہیں کرتا اور بغیر کسی زیا ں کے صارف تک پہنچ جاتا ہے ۔بلوچستان کے لیے' پائیدار ترقی کی حکمت عملی 'کی دستاویزکے مطابقــ '' ایک کاریز دو سولِٹر پانی فی سیکنڈ منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پانی دو سوخاندانوں کی آبی ضروریات اور اندازاً دس سے بیس ہیکٹر پر مشتمل زرعی رقبے کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہے۔''

1970ء کی دہائی کے دوران بلوچستان میںڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویل متعارف ہوئے اور پھر بعد کے برسوں میںبجلی اور اس سے چلنے والی مشینیںپہنچتی گئیں۔بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کی بھرمار نے زیر زمین پانی کے ذخائر پر بْرا اثر ڈالا۔ٹیوب ویل کے لیے زرِ تلافی کے سبب بجلی کے نہایت کم اور مقررہ نرخ کے سبب ٹیوب ویل خوب چلتے رہے اور حصولِ آب کے جدید طریقوں سے متعارف ہو کر مقامی لوگوں نے بھی کاریزوں کی جانب سے رخ موڑنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان کی بڑی تعداد خشک و ناکارہ ہو گئی ۔بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کی ایک دستاویز کے مطابق ''2000ء تک بلوچستان میںان کی تعدادمحض 493رہ گئی تھی۔ ''وجہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی اور خود ان کاریزوں کے وارثوںکا اس کی جانب سے منہ موڑ لیا جانا ہے۔ واضح رہے کہ صوبے کا کل زیر آب پاشی رقبہ 32اعشاریہ19 فیصد ہے۔ جس میں کاریزوں اور چشموں کے ذریعے سیراب ہونے والارقبہ 10 اعشاریہ 27 فیصد ہے ۔

بلوچستان کی جغرافیائی صورت حال کے باعث عموماً ہر دس میں سے دو تین سال کم بارش و برف باری کے باعث 'خشک سال' ہوتے ہیں، اوپر سے 1997ء سے 2004 ء تک جاری رہنے والامتواتر خشک سالی اور کم برف باری نے صورت حال کو مزیدسنگین بنادیا۔ خشک سالی کی بدولت زیرِ زمین آبی ذخائر اور ان کی تجدید پر بُرا اثر پڑا، یوں کاریزیں مزید تباہی سے ہمکنار ہوئیں۔ کاریز ات کے علاقے پھلوں اور خشک میوہ جات کی پیداوا کے حوالے سے ملک بھرمیںمشہور ہیں، لہٰذا مقامی باشندوں کی معیشت اور زندگیوں پر آبی قلت کے گہرے اثرات مرتب ہوئے، یوںکاریزات کی اہمیت کو اور زیادہ شدت سے محسوس کیا جانے لگا۔

اس منظر نامے میں 2005ء کے دوران بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان نے اپنے واٹر پروگرام کے تحت بلوچستان میں کاریزات کا علاقہ کہلائے جانے والے ضلع پشین کی تحصیل خانو زئی کے گاؤں بلوزئی کے نواح میں ایک ڈیم میں پانی ذخیرہ کرکے اس کی مدد سے زیرِ زمین آبی سطح کو مصنوعی طریقے سے بُلند کرنے اور خشک کاریزوں کو دوبارہ قابلِ عمل بنانے کے منصوبے پر کام شروع کیا۔ نیدرلینڈ رائل ایمبیسی کے مالی تعاون سے شروع ہونے والے اس منصوبے کے شراکت داروں میں گاؤں بلوزئی کے باشندوں کے علاوہ بلوچستان کے آب پاشی، جنگلات ، زراعت اور ماہی پروری کے محکمے شامل تھے۔ پاکستان کے معروف ماہرِ آب ڈاکٹر عبدالمجید کی سربراہی میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ اس برس کامیابی سے تکمیل پاچکا ہے ۔ جس کے بعد نہ صرف زیرِ زمین پانی کی شرح میں بتدریج بُلندی ریکارڈ کی جارہی ہے بلکہ گاؤں بلوزی اور اس کے آس پاس کی خشک کاریزیں دوبارہ فعال ہوچکی ہیں۔ ویران باغ کے درختوں پر پھل آنے لگے ہیں اورکھیتیاں ایک بار پھر سرسبز ہوکر لوگوں کی مالی آسودگی کا سبب بن گئی ہیں۔


آئی یو سی این واٹر پروگرام، بلوچستان کے ڈپٹی کوآرڈینٹرسلمان علی کے مطابق'' اس منصوبے کے تحت اگرچہ زیرِ زمین آبی سطح کو مصنوعی طریقے سے بُلند کرنے کے نتائج حوصلہ افزا ہیں ، تاہم علاقے کے مکینوں کی معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات ثابت ہوئے ہیں۔ پانی کے کفایتی ،خرچ اور پائیدار استفادے کے لیے بلوزئی میں کاریز کے پانی کو کھیتوں تک پہنچانے والی آبی گذرگاہوں کوپختہ کیا گیا ہے ۔ یقیناً یہ عمل بلوچستان میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے اور مقامی معیشت پر اس کے مثبت اثرات کی واضح مثال ہے۔''سلمان علی مزید بتاتے ہیں ''حال میں یہاں کا دورہ کرنے والے گورنر بلوچستان نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اس کامیاب تجربے کو صوبے کے مزید اضلاع میں دُہرایا جائے۔'' سلمان علی کاکہنا ہے ''کسی توانائی کے بغیرکششِ ثقل کے سادہ اصول پر اُلٹے ٹیوب ویل (یعنی ٹیوب ویلوں سے پانی کھینچنے کے بجائے اسے واپس زمین میں داخل کرنا) چلا کر زیرِ زمین پانی کی تجدید اور علاقے کی ایک بڑی خشک کاریز کو دوبارہ فعال بنائے جانے نے محققین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروائی ہے اور بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ منیجمنٹ سائنسز کے دو طالب علم طاہر درانی اورشبیر احمد ( جو پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں)بلو زئی پر ایم فِل کے لیے تحقیق کررہے ہیں۔''

ماضی کی غلطیوں پر آنسو بہانے کے بجائے اگرحالات پر غور و فِکر کرکے درست راستے کا انتخاب کیا جائے تویقیناً کامیابی دور نہیں رہ پاتی ہے ۔ بلو زئی ڈیم اور اس کے نواح میں موجود گاؤں کی مرکزی کاریز کا دوبارہ کاآمد ہوجانا، سرسبز کھیتیاں اور خوشی کی چمک چہرے پر لیے لوگ اس بات کازندہ ثبوت ہے۔

 
 

 

ایم اے شیخ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں- ماحولیات ان کی تحقیقی صحافت کا شعبہ ہے