|
|
|
||||
قلتِ آب اور امیر ممالک میں استعمالِ آب کے رحجحانات، دریاۓ نیل کے پانی کی تقسیم اور قطبِ شمالی کے برف زاروں تک -- تازہ ترین عالمی حقائق |
||||
انتخاب: ناصر پنہور ترجمہ: ذیشان حیدر |
||||
| عالمی قلتِ آب نقشے میں | ||||
دنیا بھر میں آبی قلت کے بارے میں ایک ایسا نقشہ تیارکیا گیاہے، جس سے اس تشویشناک صورتِ حال کا زیاہ بہتر اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس نقشے میں آبی قلت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک حصہ قلتِ آب کے ظاہری خد و خال کو اجاگر کرتا ہے تو دوسرے میں اس کے عالمی اقتصادیات پر پڑنے والے اثرات کو واضح کیا گیا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک کا تیار کردہ نقشہ انٹرنیشنل واٹر منیجمنٹ انسٹیٹیوٹ IWMI کی ایک رپورٹ میں شامل کرکے استفادے کے لیے پیش کیا گیا ہ0ے۔
رپورٹ میںدنیا کے خشک ، بنجرا ور نیم بنجر خطّوں پر مشتمل ممالک میں قلتِ آب کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے Physical scarcity of water کا نام دیا گیا ہے اور وضاحت کی گئی ہے کہ اس اصطلاح کو وہاں استعمال کیا جاتا ہے جہاں لوگوں کی طلب کے مطابق پانی دستیاب نہیں ہے۔ آگے چل کر رپورٹ میں نقشے کی مدد سے قلتِ آب کی وجوہات کا ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں آبی قلت کا سامنا ہے، وہاں اس کے اسباب میںپانی جیسے اہم قدرتی وسیلے کا بے مہار استعمال ہی اہم وجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق '' قلتِ آب کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پانی کو بے تحاشہ استعمال کیا۔اجناس اُگانے کے لیے زراعت میں اس کا70فیصد تک استعمال کیاجاتا ہے، جبکہ دیگر بنیادی ضرورتوں مثلاً پینے اور گھریلو استعمال کے لیے بھی پانی کے پائیدار استعمال کا فقدان رہا ہے۔'' IWMI کے اہلکار ڈیوڈ مولڈن کا کہنا ہے کہ'' دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے پینے، گھریلواورسب سے بڑھ کر ان کی خوراک کی ضروریات ، نیزملکوں کے معاشی استحکام کے لیے ضرورت کے مطابق پانی کی فراہمی ایک تشویشناک سوال ہے اور وہ ممالک جہاں یہ مسئلہ سنجیدہ شکل اختیار کرگیا ہے۔ اب ان کی حکومتوں اورباشندوں کو یہ دشوار فیصلہ کرنا ہوگا کہ کس طرح وہ پانی کی تقسیم کا ایسا انتظام کرتے ہیںجس سے ان کی انسانی، زرعی اور اقتصادی ترقی، تینوں کی ضروریات کے مطابق پانی مہیا ہوسکے۔'' ڈیوڈ مولڈن کا کہنا ہے کہ'' ہمیں اقتصادی ترقی، خوراک اور
مویشیوں کے لیے چارے سمیت ڈیری مصنوعات میں اضافے کے لیے پانی کے ایک
ایک قطرے کو قیمتی سمجھتے ہوئے استعمال کرنا ہوگا ۔ اب وقت ہے کہ زراعت
کے لیے آب پاشی کے روایتی طریقوں کے بجائے پانی کی فراہمی کے وہ جدید
طریقے اپنائیں جن سے آبی بچت ممکن ہوسکے۔''
|
||||
| دنیا کے امیر ممالک کی آبی فضول خرچی | ||||
''اقتصادی و سماجی لحاظ سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی روز بہ روز پانی کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے۔ یوں یہ ممالک بھی روز بہ روز قلتِ آب کے مسئلے کا شکار ہوتے جارہے ہیں، تاہم اس کا سبب غیر دانشمندانہ استعمال ہے۔''یہ بات ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے دنیا کو درپیش آبی قلت کے حوالے سے مرتب کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔رپورٹ سوئٹرزرلینڈ کے دارالحکومت جنیوا میں حال میں منائے جانے والے 'ہفتئہ آب' کے موقع پر جاری کی گئی ہے۔ پانی کی قلت کے اسباب کو تفصیلاً بیان کرتے ہوئے مذکورہ رپورٹ کا کہنا ہے کہ '' غیر دانشمندانہ استعمال کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیاں اور ناقص ترسیل و فراہمی آب کا نظام اس کا سبب ہے۔قلتِ آب کا مسئلہ اتنی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ آج دنیا کے بعض امیر ترین اور ترقی یافتہ ممالک کو بھی اپنی طلب کے مقابلے میں آبی رسدکی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔'' رپورٹ کا کہنا ہے کہ ''عالمی طور پر درپیش قلتِ آب کے مسئلے کے تناظر میں اس بات کی ضرورت ہے کہ دنیا کے امیر ترین اور ترقی یافتہ ممالک اپنے اپنے ممالک میں آبی ذخائر اور اس کے قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنائیں ۔ نیز ترسیلِ آب کے پرانے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنا کر پائیدار استعمالِ آب کی ایسی مثال قائم کریں جو کم ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک کے لیے قابلِ تقلید مثال بن سکیں ،جنہیں اس وقت قلتِ آب کی سنگینوں کا سامنا ہے۔'' رپورٹ میں مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ '' ہیوسٹن اور سڈنی دنیا کے امیرترین شہروں میں شمار کیے جاتے ہیں لیکن یہاں کے شہری پانی کا استعمال اپنے آبی ذرائع اور ذخائر کی گنجائش سے بڑھ کر کرتے ہیں، حالانکہ یہ اس سے کم پانی میں بھی اپنی ضروریات بہ آسانی اور احسن طریقے سے پورا کرسکتے ہیں۔''دنیا کے امیر ترین ممالک میں ترسیلِ آب کے ناقص نظام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''جھیل لندن سے پانی کی فراہمی کا نظام فرسودہ ہوچکا ہے۔ جس کی بدولت اس جھیل سے روزانہ فراہم کیے جانے والے پانی کا اتنا بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے جس سے تین سو اولمپک سوئمنگ پول بھرے جاسکتے ہیں۔'' اس کے ساتھ ہی موسمیاتی تبدیلیوں سے پانی کی کمی کی مثال دیتے ہوئے رپورٹ کا کہنا ہے کہ ''عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کا ہی اثر ہے کہ جنوبی یورپ خشک ہوتا جارہا ہے اور نارتھ الپائن گلیشیروں کے پگھلنے کے سبب ان کے آبی ذخائر گھٹ رہے ہیں ۔'' رپورٹ کے اختتام میںکہا گیاہے کہ آبی قلت پر قابو پانے کے ہمیںاپنے
رویوں میں بھی تبدیلی لانا ہوگی اور امیر ممالک کواپنی مثال قائم کرکے ترقی
پذیرممالک میں قلتِ آب کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد دینا ہوگی۔
|
||||
| دریاۓ نیل: پانی کی تقسیم کا معاہدہ | ||||
دریائے نیل کے پانی کی تقسیم اور مقدار کے حوالے سے شراکت دار ممالک میں اتفاقِ رائے ہوگیا، معاہدے پر دسمبر میں دستخط ہوجائیں گے ۔مصر کے وزیرِ آب پاشی نے معاہدے پر دستخط کیے جانے کی اطلاع کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ''دریائے نیل کے پانی کی ان نو ممالک کے مابین جہاں سے نیل گذرتا ہے، معاہدئہ تقسیمِ آب طے پانے کے بعد ترقی اور باہمی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔'' ان کا مزید کہنا ہے '' کہ معاہدے پر دسمبر کے آخر تک دستخط کرنے پر اتفاقِ رائے ہوگیا ہے اور یہ تقریب مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقد ہوگی۔'' معاہدے کو Nile Basin Initiative (NBI) کا نام دیا گیا ہے۔ دریائے نیل مصر کا تاریخی
اہمیت کا حامل دریا ہے اور اس پر ملکی معیشت کا بڑی حد تک انحصار ہے۔ خشک
خطّے والے اس ملک میں یہ دریا آبی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مصر ہی وہ مقام
ہے جہا ں یہ دریا اپنا سفر مکمل کرتے ہوئے سمندر سے جا ملتا ہے۔ دریائے نیل
جن افریقی ملکوں سے گذرتا ہے ان میں مصرسمیت نو ممالک شامل ہیں۔ ان میں مصر
کے علاوہ کینیا، جمہوریہ کانگو، ایتھوپیا، روانڈا، سوڈان، تنزانیا، برونڈی
اور یوگنڈا شامل ہیں۔ معاہدے کے لیے متعین ایگزیکٹیو ڈائریکٹرعدیس ڈائزے کا
کہنا ہے کہ ''دریائے نیل کے پانی پر معاہدے کے تحت مزید بہتر اور پائیدار
استفادے کے لیے متعدد منصوبے زیرِ غور ہیں تاکہ پانی کی کفایت کے ساتھ ساتھ
اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ''ان کا کہنا ہے کہ'' اس وقت معاہدے
میں شامل ممالک کو پانی کی قلت کے علاوہ ترسیل کے بہتر انتظام کے ضمن میں
بھی مسائل درپیش ہیں۔ معاہدے کے بعد جہاں طویل المیاد تناظر میںپانی کے حوالے
سے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جائیں گی، وہیں پانی کی
دستیابی سے ایسے منصوبے شروع کیے جائیں گے جس سے رکن ممالک میں غربت کا خاتمہ ہو ۔ نیز اس معاہدے کے پائیدار ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول پر بھی بہتر اثرات
مرتب ہوں۔''
|
||||
| منطقہ قطب شمالی کی برف کے خاتمے کا خطرہ | ||||
''بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب درجئہ حرارت میں یونہی اضافہ ہوتا رہا تو موسمِ گرما کے دوران منطقئہ قطب شمالی Arcticکے گلیشیروں کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہوتا رہے گا اور2040ء تک مکمل طور پر یہاں سے برف کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔''یہ بات امریکا اور کینیڈا کے سائنسدانوں پر مشتمل ایک ٹیم نے تحقیقاتی مطالعے پر مشتمل سائنسی رپورٹ میں کہی ہے، جسے دسمبر 2006ء میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے شائع ہونے والے ایک سائنسی رسالے شامل کیا گیا ہے۔ تحقیق کے نتائج کے حوالے سے رپورٹ میں سائنسدانوں نے خبردار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ''اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی شر ح میں اضافے کا موجود رجحان برقرار رہا تو منطقئہ قطب شمالی کے برف زاروں کامستقبل خطرے میں ہے ۔ یہ برف یونہی پگھلتی رہی تو ایک دن ساری کی ساری برف کا صفایا ہوجائے گا اور بحرِقطب شمالیArctic ocean کا یخ بستہ پانی بڑی حد تک گرم ہوجائے گا۔''رپورٹ کا مزید کہنا ہے '' اگر صورتِ حال میں تبدیلی کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے گئے تو2040ء تک قطب شمالی کی لگ بھگ تمام پگھل چکی ہوگی اور موسمِ گرماکے ایام میں یہاں جو تھوڑی بہت برف دکھائی دے گی وہ بحرِ قطب شمالی کے گرین لینڈ اور کینڈا کے ساحلی علاقوں تک ہی محدود ہوگی۔'' منطقئہ قطب شمالی کے برف زاروں کا سائنسی مطالعہ یونیورسٹی آف واشنگٹن،
امریکا اور مِک گِل یونیورسٹی، کینیڈا کے سائنسدانوں پر مشتل ٹیم نے کیا ہے۔ |
||||
|
||||
ناصر
علی پنہور آئی یو سی این، سندھ پروگرام آفس سے بطورِ کوآرڈینیٹر وابستہ
ہیں۔ |
||||
|
|
||||