ان سطور میں ہم آپ کے لیے آئ یو سی اين کے قومی اور عالمی سطح پر زیرِعمل مختلف منصوبوں اور ماحول سے متعلق معلومات اور خبریں فراہم کرتے ہیں

 

 

''حکومتِ پاکستان پہاڑوں کے ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ اور وہاں رہنے والے باشندوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔'' یہ بات وزیرِ مملکت برائے ماحولیات ملک محمد امین اسلم نے اسلام آباد میں دسمبر میں منائے جانے والے عالمی یومِ پہاڑ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب کا انعقاد بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان نے پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی)کے اشتراک سے کیا تھا۔ ملک امین اسلم نے اس موقع بالخصوص آئی یو سی این کے منصوبہ برائے تحفظِ پہاڑی علاقہ جات کا ذکر کیا اور کہا ''اس کے مثبت نتائج کے پیشِ نظر اس منصوبے کا دوسرا مرحلہ حکومتِ پاکستان اور دیگر امدادی اداروں کے مالی تعاون سے شروع کیا جائے گا۔''

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گیارہ دسمبر کو 'پہاڑوں کا عالمی دن' قرار دیا ہے، جس کا مقصد پہاڑوں اور ان کے ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔اس برس اس عالمی دن کا موضوع' پہاڑی حیاتیاتی تنوع کا انتظام بہتر زندگی کے لیے' تھا۔ آئی یو سی این پاکستان اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے منائے جانے والے 'یومِ پہاڑ' کے موقع پر ایک تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی، جس میں پاکستان اور نیپال کے پہاڑوں کی دلکش منظر کشی کے ساتھ ان کی اہمیت اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ شرکاء نے اس دو روزہ نمائش کو کافی سراہا۔

یومِ پہاڑ کی تقاریب کا آغاز پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے ثقافتی شو سے ہوا، جس میں پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے باشندوں کی ثقافتی زندگی کی عکاس موسیقی کی دھنوں پر ہنزہ، کیلاش اور کشمیر کے روایتی رقص پیش کیے گئے۔

 

 

 

 

 

پاکستان کی پارلیمان کے منتخب ارکان پر مشتمل ایک وفد نے انڈس ڈیلٹا کے خطے میں واقع تیمر کے ساحلی جنگلات کا دورہ کیا ۔ وفد نے دریائے سندھ میں قلتِ آب اور سمندر میں تازہ پانی کی عدم آمیزش کے تیمر اور انڈس ڈیلٹا پر مرتب ہونے والے اثرات اور درپیش ماحولیاتی مسائل کا جائزہ لیا۔ وفد کے اس دورے کا اہتمام حقوقِ صارفین کمیشن، پاکستان نے بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان کے اشتراک سے کیا تھا۔ارکانِ پارلیمان کا وفد سینیٹر نثار میمن، سینیٹر جمال لغاری اور رکنِ قومی اسمبلی فوزیہ وہاب پر مشتمل تھا۔ آئی یو سی این کی نمائندگی انجمن کے نمائندہ مملکت برائے پاکستان سہیل ملک، رفیع الحق اور ناصر پنہور نے کی۔کمیشن کی جانب سے جی این مغل نمائندہ تھے۔ ایک روزہ دورے میں ذرائع ابلاغ کے منتخب نمائندے بھی شامل تھے۔

وفد نے ملیر ندی اور ابراہیم حیدری سے پورٹ قاسم تک کادورہ کرکے مختلف ساحلی مقامات پر موجود آلودگی کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر جی این مغل نے وفد کو آگاہ کیا کہ اس دورے کا مقصد ارکانِ پارلیمان کو ماحولیاتی مسائل کے بارے میں آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ پارلیمان میں ملک کو درپیش ماحولیاتی مسائل خصوصاً ساحلی آلودگی کے حوالے سے فیصلوں اور قانون سازی میں زیادہ مفید کردار ادا کرسکیں۔ آئی یو سی این کے رفیع الحق نے اس موقع پر انڈس ڈیلٹا اور تیمر کے جنگلات کو آلودگی اورتازہ پانی کی قلت کے اثرات کے بارے میں بریفنگ دی۔ آئی یو سی این کے نمائندہ مملکت سہیل ملک نے ارکانِ پارلیمان کوآگاہ کیا کہ مختلف ماحولیاتی اور سماجی وجوہات کی بنا پر پاکستان میں تیمر کے ساحلی جنگلات کے رقبے میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئی ہے۔اس وقت دریائے سندھ سے انڈس ڈیلٹا اور اس کے ذریعے تیمر کے ساحلی جنگلات کو ملنے والے پانی میں نہایت تشویش ناک کمی ہوچکی ہے۔ دوسری طرف صنعتی آلودگی اور شہری گنداب ساحلی علاقوں میں نکاس کیے جانے سے کے باعث مچھلیوں اور سمندری خوراک کی کی نرسری کہلانے والے تیمر اور اس کے ساحلی علاقے اپنی افزائشی صلاحیت کو رفتہ رفتہ کھورہے ہیں۔ ناصر پنہور نے اس موقع پر وفد کو مثال دیتے ہوئے کہا کہ ''محتاط جائزوں کے مطابق اس وقت کراچی شہر کا104ملین گیلن گھریلو جبکہ157ملین گیلن صنعتی گنداب سمندر میں نکاس ہورہا ہے۔ تیمر کے جنگلات پاکستان کے ماحولیاتی نظام اور اقتصادی فوائد میں نہایت اہم مقام رکھتے ہیں، مگر یہ صورتِ حال اس پر منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔

اس موقع پر سینیٹر نثار میمن، سینیٹر جمال لغاری اور رکنِ قومی اسمبلی فوزیہ وہاب نے گفتگو میںحصہ لیتے ہوئے کہا کہ اگر صورتِ حال کا تدارک نہ ہوا تو تیمر کے جنگلات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سمندری خوراک کی برآمد پر مضر اثرات مرتب ہوں گے اور ملک سمندری خوراک کی تجارت سے حاصل شدہ زرِ مبادلہ سے محروم ہوسکتا ہے۔

 
 
 
   

سندھ طاس کے جدید نظامِ آب پاشی کی بدولت جہاں زرعی پیداوار میں اضافہ ہواہے، وہیں نکاسیِ آب کے بحران کے سبب ماحولیاتی اور سماجی مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ روایتی نہری نظامِ آب پاشی کے باعث سیم و تھور کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف اوقات میں مختلف منصوبے سامنے آئے، تاہم دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر آباد زیریں سندھ کے شہروں کے لیے اس حوالے سے لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی اوڈی) قابلِ ذکر ہے۔ 2003ء اور 2006ء میں نکاسی آب کے اس منصوبے کے انتہائی اختتامی حصے میں واقع ضلع بدین پر منصوبے کی بعض تکنیکی خامیوں کے اثرات اس وقت مرتب ہوئے جب تیزبارشوں اور سمندری طوفان کے سبب شور زدہ پانی کی نکاسی کے نالوں میں سمندری موجیں داخل ہوئیں اور ایک بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے کر اس کی زرخیزی کے خاتمے، سماجی ، معاشی اور ماحولیاتی مسائل کو جنم دینے کا سبب بنیں۔

2004ء میں سول سوسائٹی کے ارکان نے عالمی بینک کو اس کی پالیسی کے مطابق منصوبے کاتجزیہ کرنے کی درخواست دی ، جس پر آئندہ سال ایک آزاد تحقیقاتی جائزہ کمیشن تشکیل پایا ۔ جس نے2006ء میں عالمی بینک کو اپنی رپورٹ پیش کردی۔ رپورٹ کی بنیاد پر عالمی بینک نے ایل بی او ڈی منصوبے کی تکنیکی خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے پیدا شدہ سماجی و ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے لیے نومبر2006ء میں 'ایکشن پلان' بنایا۔ اس حوالے سے سندھ میں نکاسی آب کے بحران پر قابو پانے کے لیے غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ ،پاکستان نے حال ہی میں ایک مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کے تین اجلاس منعقد ہوئے۔

کراچی میں منعقدہ مشاورتی ورکشاپ کے پہلے اجلاس میں مسئلے سے نمٹنے کے لیے کارآمد تکنیکی امور پر گفتگو ہوئی۔ اس بحث میں ڈاکٹر علی ارسلان (پائلر)، نصیر میمن (لِیڈ)، منور میمن اور ابرار قاضی نے حصہ لیا۔ دوسرے اجلاس میں ایل بی او ڈی سے پیدا شدہ مسائل پر بات چیت کی گئی۔ اس اجلاس کے دوران ایم ایچ پنہور، خادم تالپر، قمرالزماں شاہ اور عارف حسن بحث میں شامل ہوئے۔ تیسرا اجلاس رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (آر بی اوڈی) کے موضوع پر ہوا۔اس اجلاس کے دوران بحث میں علی گل ، ناصر پنہور (آئی یو سی این)، سابق سیکریٹری آب پاشی سندھ ادریس راجپوت، اظہر لاشاری اور فتح مری نے حصہ لیا اور اس منصوبے کے ماحولیاتی اور سماجی حوالے سے پیدا شدہ نقصانات کو واضح کیا۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اجلاس اور آئندہ اس کا تسلسل ملک میں نکاسیِ آب بالخصوص ایل بی او ڈی اور آر بی او ڈی سے پیدا شدہ ماحولیاتی و سماجی مسائل کے تدارک کے لیے ٹھوس تجاویز سامنے لانے کا موجب بنے گا۔


 
   

سابق امریکی صدر اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی 'بحالی برائے سونامی' بل کلنٹن نے دسمبر میںتھائی لینڈ کے شہر پختPukhet میں بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این اور اقوامِ متحدہ کے پروگرام برائے ترقیات UNDP کے مشترکہ منصوبے 'تیمر مستقبل کے لیے' منصوبے کا افتتاح کیا۔ منصوبے کا مقصد سونامی کے دوران تیمر کے ساحلی جنگلات کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ و بحالی، نیز اس سانحے کے دوران سمندری موجوں کے سامنے تیمر کی ڈھال کے باعث ہونے والے نقصانات میں کمی کے پیشِ نظر مستقبل میں سونامی کی صورت میںتیمرکے ذریعے نقصانات کابڑی حد تک تدارک کے لیے ان ساحلی جنگلات کی بحالی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بل کلنٹن نے کہا ''اب وقت آگیا ہے کہ انسانی ترقی اور اس کے تحفظ کے لیے ہم قدرتی وسائل کی اہمیت کو سمجھیںاور آگے آئیں تاکہ پائیدار استفادہ اور تحفظ کی کوششوں کے ذریعے آگے قدم بڑھائے جاسکیں۔'' انہوں نے مزید کہا ''یہ منصوبہ خطّے میں سونامی کے متاثرین اور قدرتی ماحول کی بحالی کا حصہ ہے جوقدرتی وسائل کی بقا اور پائیدار استفادے کی کوششوں میں معاون ثابت ہوگا۔ تیمرکے تحفظ سے نہ صرف قدرتی آفات کی صورت میں خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے لوگوں کے معاش پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔''
بِل کلنٹن نے تیمر کے جنگلات والے ساحلی علاقوں کا بھی دورہ کیا اور مقامی کمیونٹی سے بھی ملے۔ اس ضمن میں انہوں نے 'موکین' نامی ساحلی خانہ بدوشوں پر مشتمل کمیونٹی سے بھی ملاقات کی۔ یہ کمیونٹی تھائی لینڈ کے ساحلی علاقوں میں مقیم ہے اور سمندری خوراک کے ذریعے اپنا معاش حاصل کرتی ہے۔ سونامی کے دوران اس کمیونٹی کو بھی شدید نقصانات پہنچے اور اب یہ تیمر کی افادیت کے پیشِ نظر حکومت کی شراکت میںتیمرجنگلات کے تحفظ اور بحالی کی کوششوں میں سرگرم ہے۔
'تیمر مستقبل کے لیے' کثیر الملکی منصوبہ ہے جس میں آئی یو سی این اور یو این ڈی پی بحرِ ہند کے ممالک میں ساحلی علاقوں اور مقامی لوگوں کے معاش کے تحفظ کے لیے کوششیں کریں گے۔ اس منصوبے میں جن ممالک کو اولیت حاصل ہے، ان میں2004ء کے تباہ کن سونامی کا شکار بھارت، انڈونیشیا، مالدیپ، سری لنکا اور تھائی لینڈ بالخصوص قابلِ ذکرہیں ۔


   
 

حکومتِ پاکستان نے پاکستانی سیاحت و ثقافت کے فروغ اور ملک میں ثقافتی و سیاحتی اداروں کی ترقی کے لیے آئندہ سال کو '2007ئ: سیاحتِ پاکستان سال' قرار دیتے ہوئے تقریبات کا شیڈول جاری کردیا ہے۔ تقریب کا باقاعدہ افتتاح دسمبر کے وسط میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک رنگا رنگ ثقافتی تقریب سے ہوا جس کی صدارت صدرِ مملکت جنرل پرویز مشرف نے کی۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ کوششیں جہاں ایک طرف ملک کی ہمہ جہتی ثقافت کو دنیا کے سیاحوں سے روشناس کروانے کا سبب بنیں گی ، وہیں اس کے ذریعے پاکستان کے متنوع قدرتی وسائل کے ذریعے ملک میں پائیدار ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دینے میں بھی مددملے گی۔ اس سال کو منانے کی ذمہ داری وفاقی وزارتِ سیاحت اور اس کے ماتحت ادارے پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی ہے جو مختلف اداروں کے اشتراک سے تقاریب کا انعقاد کریں گے۔

2007ء میں سیاحتی سال کے حوالے سے تقریبات کا شیڈول جاری کردیاگیا ہے۔ جس کے مطابق ملک میں جو اہم سیاحتی تقاریب منعقد کی جائیں گی، ان میں ملک کے تمام ثقافتی شعبوں اور مقامات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان تقاریب میں جہاں ایک طرف بلوچستان کا مشہور 'سبّی میلہ ہے، وہیں مالم جبہّ کے حسین مقام پر برف پر پھسلنے کے کھیل اسکی اِنگ کی چمپئن شپ بھی شامل ہے۔ اسی طرح تھر کی ثقافت کے حوالے سے جہاں عمر کوٹ میں'تھر فیسٹیول کے نا م سے رنگا رنگ تقاریب منعقد ہوں گی، وہیں پنجاب میں شامل صحرائے چولستان میں بھی پروگرام منعقد ہوں گے۔ ایک طرف لاہور کے تاریخی جشنِ بہاراں کو اس میں شامل کیا گیا ہے تو دوسری طرف مہم جوؤں کے لیے قراقرم کار ریلی بھی پروگرام میں شامل ہے۔ پہاڑی ماحول اور ثقافت کے دلدادہ سیاحوں کے لیے ہنزہ اور شوگران میں میلہ منعقد ہوگا۔ اسی طرح کاغان میں ماؤنٹین بائیک ریس منعقد ہوگی۔ اس سال کو مزید متنوع بنانے کے لیے تقریبات کی فہرست میں شامل ایک اہم موضوع لاہور میں گرونانک کا جشنِ پیدائش کی تقاریب ہیں جو نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر سے لاکھوں سکھ سیاحوں کو پاکستان کا رُخ کرنے پر مہمیز دے گی۔ اس کے ساتھ ہی سہون میں عظیم روحانی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندرـؒ کے مزار پر صوفی کانفرنس کا انعقاد اور آئندہ سال 24دسمبر کو لاہور میں کرسمس تقاریب بھی اس کا حصہ ہیں۔

'سیاحت ِپاکستان سال ' کی یہ تقاریب پورے سال ملک بھر کے مختلف حصوں میں جاری رہیں گی، جس کا اختتام30دسمبر کو اسلام آباد میں ٹورزم کنوینشن کے ساتھ رنگا رنگ ثقافتی شو سے ہوگا۔اس حوالے سے تقریبات میں شرکت اور شیڈول کے بارے میں تفصیلات اندرون اور بیرونِ ملک پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے کسی بھی قریبی دفتر سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

 
   
 
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے یونائیٹڈ نیشز ڈویلپمنٹ پروگرام (UNDP) نے 2006ء کے دوران عالمی سطح پر انسانی ترقی، فراہمی آب و نکاسیِ گنداب کی صورتِ حال کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کردی ہے۔ دسمبر میں جاری ہونے والی اس رپورٹ کے اعداد و شمارموضوع کے حوالے سے نہایت تشویشناک صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ''دنیا بھر میں سالانہ20لاکھ کے لگ بھگ افراد آلودہ پینے کے پانی اور گنداب کی ناقص نکاسی کے سبب پیدا شدہ وجوہات کی بنا پر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس لیے اور بھی خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے کہ اس وقت دنیا کے1.2ارب افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے ۔ نیز مزید2.6ارب افرادکے پاس گنداب کی نکاسی کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔''

رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے ایک ایکشن پلان بنا کر اس پر عمل کیا جائے تاکہ دنیا کہ غریب اور پسماندہ ملکوں کے انسانوں کے یہ بنیادی مسائل حل ہوسکیں۔ واضح رہے کہ دنیا اس بات کو تسلیم کرچکی ہے کہ پینے کے صاف پانی اور نکاسیِ آب کی سہولتوں کی فراہمی انسانوں کا بنیادی حق ہے۔

رپورٹ کے مندرجات میں عالمی سطح پر قلتِ آب کی صورتِ حال اور انسانی ترقی کو تقابلی نگاہ سے بھی دیکھا گیا ہے ۔ رپورٹ میں بڑھتی ہوئی قلتِ آب کو دنیا کے 'خاموش بحران' سے تشبیہ دی گئی ہے۔ رپورٹ کاکہنا ہے کہ اس وقت آبی آلودگی اور آبی قلت کے سبب جتنے افراد موت کے منہ میں جارہے ہیں، اتنی بڑی تعداد میں انسانی ہلاکتیں بندوق سے لڑی جانے والی جنگوں میں بھی نہیں ہوئی ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو پسماندہ اور غریب انسانوں کو اپنی گھریلو ضروریات کے لیے درکارکافی پانی بھی نہیں ملتا ہے اور جو پانی ملتا ہے وہ ان کی ضروریات کا لگ بھگ پانچ فیصد تک ہوتا ہے۔ رپورٹ کا مزید کہنا ہے'' آسودہ حال اور بڑے شہروں کے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے باشندے وافر مقدار میں پانی حاصل کرتے ہیں اور روزانہ اپنی ضرورت سے کئی سو لِٹر زیادہ پانی بہادیتے ہیں۔ اس کے برعکس کم آمدنی والے پسماندہ شہریوں کو فی کس لگ بھگ20لِٹر پانی ہی حاصل ہوپاتا ہے۔ صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ ہم عالمی سطح پر پانی کی تقسیم کو منصفانہ بنیادوں پر استوار کریں ۔'' رپورٹ کا کہنا ہے کہ ''بعض ملکوںمیں قلتِ آب وہاں کی ان عوامی پالیسیوں کا بھی نتیجہ ہے جو زیادہ پانی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ یعنی کہ وہاں ایسی سہولتیں ہیں جن کے استعمال پر صارفین کو زرِ تلافی اور ارزاں نرخوں کی سہولتیں حاصل ہیں ، جن کے ذریعے پانی کے وافر مقدار میں استعمال کیے جانے کے رجحان کو فروغ ملتا ہے۔