|
|
|
ان سطور میں ہم آپ کے لیے آئ یو سی اين کے قومی اور عالمی سطح پر زیرِعمل مختلف
منصوبوں اور ماحول سے متعلق معلومات اور خبریں فراہم کرتے ہیں |
|||||||||||||||||||
|
|
|||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گیارہ دسمبر کو 'پہاڑوں کا عالمی دن' قرار دیا ہے، جس کا مقصد پہاڑوں اور ان کے ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔اس برس اس عالمی دن کا موضوع' پہاڑی حیاتیاتی تنوع کا انتظام بہتر زندگی کے لیے' تھا۔ آئی یو سی این پاکستان اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے منائے جانے والے 'یومِ پہاڑ' کے موقع پر ایک تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی، جس میں پاکستان اور نیپال کے پہاڑوں کی دلکش منظر کشی کے ساتھ ان کی اہمیت اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ شرکاء نے اس دو روزہ نمائش کو کافی سراہا۔ یومِ پہاڑ کی تقاریب کا آغاز پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے ثقافتی شو سے ہوا، جس میں پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے باشندوں کی ثقافتی زندگی کی عکاس موسیقی کی دھنوں پر ہنزہ، کیلاش اور کشمیر کے روایتی رقص پیش کیے گئے۔
|
|||||||||||||||||||
|
|
|||||||||||||||||||
|
|
|||||||||||||||||||
وفد نے ملیر ندی اور ابراہیم حیدری سے پورٹ قاسم تک کادورہ کرکے مختلف ساحلی مقامات پر موجود آلودگی کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر جی این مغل نے وفد کو آگاہ کیا کہ اس دورے کا مقصد ارکانِ پارلیمان کو ماحولیاتی مسائل کے بارے میں آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ پارلیمان میں ملک کو درپیش ماحولیاتی مسائل خصوصاً ساحلی آلودگی کے حوالے سے فیصلوں اور قانون سازی میں زیادہ مفید کردار ادا کرسکیں۔ آئی یو سی این کے رفیع الحق نے اس موقع پر انڈس ڈیلٹا اور تیمر کے جنگلات کو آلودگی اورتازہ پانی کی قلت کے اثرات کے بارے میں بریفنگ دی۔ آئی یو سی این کے نمائندہ مملکت سہیل ملک نے ارکانِ پارلیمان کوآگاہ کیا کہ مختلف ماحولیاتی اور سماجی وجوہات کی بنا پر پاکستان میں تیمر کے ساحلی جنگلات کے رقبے میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئی ہے۔اس وقت دریائے سندھ سے انڈس ڈیلٹا اور اس کے ذریعے تیمر کے ساحلی جنگلات کو ملنے والے پانی میں نہایت تشویش ناک کمی ہوچکی ہے۔ دوسری طرف صنعتی آلودگی اور شہری گنداب ساحلی علاقوں میں نکاس کیے جانے سے کے باعث مچھلیوں اور سمندری خوراک کی کی نرسری کہلانے والے تیمر اور اس کے ساحلی علاقے اپنی افزائشی صلاحیت کو رفتہ رفتہ کھورہے ہیں۔ ناصر پنہور نے اس موقع پر وفد کو مثال دیتے ہوئے کہا کہ ''محتاط جائزوں کے مطابق اس وقت کراچی شہر کا104ملین گیلن گھریلو جبکہ157ملین گیلن صنعتی گنداب سمندر میں نکاس ہورہا ہے۔ تیمر کے جنگلات پاکستان کے ماحولیاتی نظام اور اقتصادی فوائد میں نہایت اہم مقام رکھتے ہیں، مگر یہ صورتِ حال اس پر منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔ اس موقع پر سینیٹر نثار میمن، سینیٹر جمال لغاری اور رکنِ قومی اسمبلی فوزیہ وہاب نے گفتگو میںحصہ لیتے ہوئے کہا کہ اگر صورتِ حال کا تدارک نہ ہوا تو تیمر کے جنگلات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سمندری خوراک کی برآمد پر مضر اثرات مرتب ہوں گے اور ملک سمندری خوراک کی تجارت سے حاصل شدہ زرِ مبادلہ سے محروم ہوسکتا ہے۔ |
|||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||