آب اور حیات کا تصور الہامی ہے۔ جدید سائنس ہو یا قدیم تہذیبیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کواعتراف ہے کہ کرئہ ارض پر موجود آب اور حیات میں باہم موجود رشتے کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا۔ سائنسی طور پر بھی دیکھیں تو تمام جاندار اجسام بشمول نباتات و انسان، دونوں میں پانی کی ایک خاص مقدار حیات کی دوڑی کو باندھے رکھنے میں معاون نظر آتی ہے۔ ماہرینِ طب کے مطابق ایک انسانی جسم کا لگ بھگ75فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک چوہے میں یہ مقدار65فیصد ہے۔ زمین میں پرورش پانے والے کیڑے کے جسم میں80فیصد تک پانی ہوتا ہے اور ایک ٹماٹرکے ننھے سے وجود میں95فیصد پانی پوشیدہ ہے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو یہ بات بالکل درست نظر آتی ہے کہ پانی کے بغیر حیات کا تصور نا ممکن ہے۔

کرئہ ارض پر پانی کی کمی نہیں، لیکن اس وافر مقدارکا97فیصد ایسے سمندری پانی پر مشتمل ہے کہ جس کی نمکیاتی مقدارکے سبب انسانی ضروریات کے لیے استعمال ممکن نہیں، تاوقتیکہ اسے ایک طویل مرحلے سے گذار کر اتنا شفاف نہ بنالیا جائے کہ اس کی نمکیات انسانی استعمال کے معیار تک آجائیں۔ ایسے میں جو دستیاب پانی انسانی ضروریات کے لیے قابلِ استعمال بچتا ہے اس کی تعداد تین فیصد ہی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے پانی سے بھری بالٹی میں سے تین قطرے آپ لے سکتے ہوں۔ ان تین قطروں میں گلیشیر ، دریاؤں اور زیرِ زمین موجود پانی کی مقدار بھی شامل ہے۔ تین بوندیں اوراتنے بڑے کرئہ ارض پر مشتمل اربوں کی آبادی ۔۔۔سوالیہ نشان تو خود بخود لگ جاتا ہے۔

نسلِ انسانی نے پانی جیسی اہم قدرتی نعمت سے جو بیش بہا لیکن اصراف کے ساتھ ماضی میں جواستفادہ کیا ہے، اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں، لیکن اب طے ہے کہ مستقبل میں پانی کا استعمال اور اس کی دستیابی کی مقدار کسی صورت ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ماضی میں کیے گئے اصراف کا عشرِ عشیر بھی حال یا مستقبل میں دُہراسکیں۔

پاکستان سمیت اس وقت دنیا بھر میں قلتِ آب ایک بحران کی صورت اختیار کررہی ہے۔ یہ صورتِ حال ان ممالک کے لیے اور بھی تشویش ناک ہے جو جغرافیائی لحاظ سے خشک، بنجر اور نیم بنجر خطّوں میںواقع ہے۔ پاکستان کا شمار بھی انہی طرح کے ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان دنیا کے ایک بڑے دریائی اور نہری نظام کاحامل ملک ہے جہاں لگ بھگ دو عشرے قبل تک نہروں اور دریاؤں میں پانی کی روانی ہمیں فکرمند نہیں کرتی تھی لیکن اب صورتِ حال بدل رہی ہے۔ کمیاب ہوتا پانی ہم سے تقاضا کرتاہے کہ اس بدلتے منظر نامے میںدرست راہیں اپنائیں۔ پانی پینے اور کاشت کے علاوہ ماحول کے لیے بھی فراہم کرنا ہوگا۔ اگر اب بھی ہم نے' پائیدار استعمالِ آب وانتظامِ آب' کی راہ اپنائی تو یہ نہ صرف ہمارے دریاؤں میںپانی کی روانی ماحول کی بقا کی ضمانت ہوگی بلکہ قدرتی وسائل سے پائیدار استفادے کے مواقع بھی بہم ہوں ۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو حالات برعکس بھی ہوسکتے ہیں۔

پانی کی اہمیت، افادیت اور قدرتی ماحول پر اس کے اثرات سے انکار ممکن نہیں۔کرئہ ارض کے گھٹتے ہوئے آبی ذخائر اور کمیاب ہوتے ہوئے پانی کے اثرات کے پیشِ نظر اس بار 'جریدہ' کا پورا شمارہ 'پانی' کے نام معنون کیا گیا۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری یہ کاوش 'پانی اور اس کی کمیابی' سے متعلق آگہی کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔


 

مختار آزاد