پاکستان میں جہلم، راوی، چناب سمیت متعدد چھوٹے بڑے دریا بہتے ہیں ، لیکن دریائے سندھ کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں مختلف مقامات پر لگ بھگ تمام دریا آکر گرتے ہیں ۔ اس عظیم دریا کو پاکستان کی اقتصادیات میں آبی وسائل کے حوالے سے مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

روایتی نہری نظامِ آب پاشی میں بھی دریائے سندھ کی مرکزی اہمیت ہے ۔ پاکستان کا نہری نظامِ آب پاشی اس وقت دنیا کے بڑے بڑے آب پاشی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان کے نظامِ آب پاشی میںتین بڑے آبی ذخائر (منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم اور چشمہ بیراج ) ہیں۔ دریاؤں پر16بیراج تعمیر کیے گئے ہیں۔ دریائے سندھ پر بیسویں صدی کی تیسری دہائی میںتعمیر کیا جانے والا سکھر بیراج اس خطے میں بیراجوں کی تعمیر کے حوالے سے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نہری نظامِ آب پاشی میںدو ہیڈ ورکس،12اِنٹر لِنک نہریں جبکہ زراعت اور انسانی ضروریات کے لیے پانی کی فراہمی کی غرض سے44نہریں نکالی گئی ہیں۔ ان میں سے پنجاب میں 23، سندھ میں14، سرحد میں5 اور بلوچستان میں 2نہریں ہیں۔ ان نہروں کی کُل لمبائی56ہزار،73کلومیٹر ہے۔ نہروں سے کھیتوں تک پانی پہنچانے کے لیے آبی رہ گذر(کھالوں )کی تعداد1لاکھ،7ہزار ہے، جن کی مجموعی لمبائی لگ بھگ16لاکھ کلومیٹر بنتی ہے۔ علاوہ ازیں دریاؤں پر دو سائفن بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ ماہرینِ آب و زراعت کا کہنا ہے کہ ملک میں77.1ملین ایکڑ زمین قابلِ کاشت ہے، تاہم اس میں سے فی الوقت44.4فیصد ہی زیرِ کاشت لائی جاسکی ہے۔ یہ صورتِ حال اس لیے مزید تشویش ناک ہے کہ پاکستان کے نہری نظامِ آب پاشی کو قلتِ آب کا سامنا ہے اور روایتی انداز میں کاشت کے لیے پانی کا وافر استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا اگر روایتی آب پاشی کے طریقوں پر عمل کر کے مزید رقبے کو قابلِ کاشت بنانے کی بات کی جائے تواس کے لیے اضافی پانی کی دستیابی نہایت مشکل ہوچکی ہے۔

پاکستان میں پانی کی تقسیم اور حفاظت آج کی بات نہیں بلکہ انیسویں صدی کے نصف سے آج تک اس حوالے سے مختلف قوانین میں حوالے یا مکمل قوانین موجود رہے ہیں۔ موجودہ پاکستان کے آبی وسائل کے حوالے سے جو قوانین بنتے رہے ہیں، ان میں پانی کا تذکرہ سب سے پہلے برطانوی عہد میں تیار ہو کر قیام پاکستان کے بعد نافذ ہونے والے تعزیری قوانین'پاکستان پِینل کوڈ مجریہ1860ء 'میں ملتا ہے۔ پاکستان میں اب تک پانی کے حوالے سے تشکیل پانے والے قوانین کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

پاکستان پِینل کوڈ مجریہ1860 ئ٭ کینال اینڈ ڈرینج ایکٹ مجریہ1873ء ٭سندھ اریگیشن ایکٹ1879ء ٭پنجاب مائنر کینال ایکٹ مجریہ1905ء ٭فیکٹریز ایکٹ مجریہ1934ء ٭ کینال اینڈ ڈرینج ایکٹ، شمال مغربی صوبہ سرحد (ترمیم شدہ ) مجریہ1948ء ٭پنجاب سوائل ری کلیمشن ایکٹ مجریہ1952ء ٭ واپڈا ایکٹ، مجریہ 1958ء ٭ بلوچستان گراؤنڈ واٹر رائٹس ایڈمنسٹریشن آرڈیننس مجریہ1978 ء ٭ واٹر یوزر آرڈیننس، مجریہ1982ء ٭پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ، مجریہ1983ء ٭انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ایکٹ، مجریہ1992 ء ٭ نیشنل انوائرنمنٹل کوالٹی اسٹینڈرڈ، مجریہ1993ء ٭پراونشل اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی ایکٹ، مجریہ1997ء ٭ کمیونٹی اریگیشن فارمرز آرگنائزیشنز ریگولیشن، مجریہ2000ئ۔

مختار آزاد