جدید آبی تکنیک پر استوار کفایتی آبپاشی کے طریقوں پر عمل سے کم پانی کے باوجود بھی اچھی فصل کی کاشت ممکن ہے

تحرير: ڈاکٹر عبدالمجید


 

پاکستان زرعی پس منظر کا حامل ہے، لیکن روایتی نہری نظام کے ذریعے سیراب ہونے والا صرف 18ملین ہیکٹر زیرِ کاشت رقبہ ہی ایسا ہے جو ملک بھر کی تقریباً نوے فیصد زرعی مصنوعات اور خوراک کی طلب کو پورا کرتا ہے، تاہم اگر فصلوںکے لیے مناسب مقدار میں پانی دستیاب دستیاب ہو تو یہ رقبہ 26ملین ہیکٹر تک پہنچ سکتا ہے۔

کمیاب پانی کا تقاضہ ہے کہ خوراک کی طلب پوری کرنے کے لیے کفایتی طریقہ آبپاشی کو رواج دیا جاۓ

اگرچہ پاکستان کے آبی ذخائر کم نہیں ہیں، تاہم فرسودہ خطوط پر تقسیمِ آب کا نظام اور کاشت کے طریقوں کی بدولت اتنی بڑی مقدار میں پانی ضائع ہوجاتا ہے کہ جس سے اگر درست خطوط پر استفادہ کیا جائے تو زیرِ کاشت رقبے میں اضافہ کرکے اجناس اور دیگر زرعی پیداوار میں بہ آسانی اتنا اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کی ضروریات بہ آسانی پوری کی جاسکیں گی۔

دنیا بھر میں قلتِ آب سے بچنے کے لیے متعدد ایسی تکنیک استعمال ہورہی ہیں جن پر عملدرآمدسے فصلوں کو نہ صرف پورا پانی ملتا ہے بلکہ روایتی طریقئہ آب پاشی کے مقابلے میں40 تا 90 فیصد تک پانی کی بچت بھی ہوجاتی ہے۔ یہ طریقے پانی کے کم ذخائر رکھنے والے ملکوں میں زرعی فصلوں اور باغات، دونوں کو سیراب کرنے کے لیے مفید ثابت ہوئے ہیں۔ ان طریقوں میںTrickle, ، Bubbler Irrigation Sprinkler اور System Bed & Furrow Irrigation شامل ہیں۔ پاکستان کے مختلف زراعت، آبی ترقی و تحقیق کے اداروں کے علاوہ بقائے آئی یو سی این، پاکستان کے پروگرامِ آب نے ان چاروں طریقوں کاکامیابی کے ساتھ عملی تجربہ بھی کیا ہے۔ ذیل میں آبی بچت کے ان طریقوں کی تفصیل بیان کی جارہی ہے۔


قطراتی نظامِ آبپاشی Trickle system وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے زمین کو آہستہ آہستہ لیکن بنا رکاوٹ کے پانی قطروں کی صورت میں فراہم کیا جاتا ہے۔ اس وقت ملک میں فصلوں کو سیراب کرنے کے جو طریقے ہیں ،ان میں کھیتوں کو منڈیر تک پانی سے لبا لب بھر دیا جاتا ہے۔ یوں بہت سارا پانی ضائع ہوجاتا ہے مگر قطراتی نظامِ آب پاشی سے کھیتوں کو اتنا ہی پانی دیا جاتا ہے جتنی فصل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح بڑی مقدار میں پانی کی بچت ہوجاتی ہے۔ اس سادہ لیکن بنیادی نظامِ آب پاشی کے اصول پر قائم نظام میںپی وی سی پائپ استعمال کے ذریعے کھیت، باغ یا درخت تک پانی پہنچایا جاتا ہے، جسے سیراب کرنا مقصود ہو۔ اس پائپ میں فصل کی جڑوں کے پاس چھوٹے چھوٹے سوراخ والے Trickkerبنے ہوتے ہیں جن سے مطلوبہ رقبے کو آہستہ آہستہ بنا رکاوٹ قطروں کی صورت میںپانی ملتا رہتا ہے اور وہ سیراب ہو جاتے ہیں۔ اس طریقئہ آب پاشی کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

اول طریقے میں سطحِ زمین پر آب پاشی اور دوئم میں سطحِ زمین کے تھوڑانیچے سے فصلوں کی آبی ضروریات کی تکمیل کی جاتی ہے۔ قسمِ اول کے طریقے سے پودوں، درختوں ، باغوں اور نرسریوں کو بہ آسانی کم پانی سے بھی بھرپور طرح سے سیراب کیا جاسکتا ہے۔ دوسری قسم میں زمینی سطح سے تھوڑا سا نیچے سوراخ والے پائپ دبائے جاتے ہیں۔ اس طریقے کی تحت سبزیوں اور اسٹرابری سمیت دیگر کم پانی والی فصلوں کو بہ آسانی کاشت کیا جاسکتا ہے۔ ان طریقوں کا فائدہ یہ ہے کہ پانی کی مقدار کو کم یا زیادہ بھی کیا جاسکتا ہے، نیز فصلوں کو دی جانے والی کھاد برائہ راست پانی میں شامل کرکے زمین کو فراہم کی جاسکتی ہے۔ نیز روایتی طریقئہ آب پاشی کے باعث پانی اور نمی کے سبب جنم لینے والے فصل دشمن بیکٹیریا، فنگس اور کیڑے مکوڑے پیدا نہیں ہوپاتے ہیں ۔ اس طریقے سے زمین کو پانی دینے کے لیے بہت ہی کم افرادی قوت درکار ہوتی ہے، جس سے وقت اور پیسہ ، دونوں کی بچت ہوتی ہے۔

اس نظام کی تنصیب کے لیے درکار اشیا میں پی وی سی پائپ، المونیم یا جی آئی شیٹ سے بنا کھاد ٹینک، پمپ، ربر سے بنا وہ پرزہ(tricklers/drippers) جس کے سوراخوںسے پانی کا درست بہاؤ کیا جاتا ہے، اور جی آئی شیٹ سے بنا کنٹرول سسٹم۔ یہ تمام اشیا ملکی بازاروں میں دستیاب ہیں۔ اگر اس نظام کو نصب کیا جائے تو پاکستانی روپوں میں فی ہیکڑ60سے80ہزار روپے کی لاگت اس وقت آئے گی جب تمام اشیا درآمدی استعمال کی جائیں۔ مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کے استعمال کی صورت میں خرچ40سے60ہزار روپے کے درمیان رہتا ہے ۔یہ نظامت تقریباًبیس سال تک کام کرسکتاہے، لیکن ابھی تک اس کا معیاربہتر نہیںکیا جاسکا ہے۔


بلبلہ نظامِ آب پاشی Bubbler iIrrigationقطراتی نظام سے جنم لینے والا جدید طریقہ ہے اور اس کی بنیاد بھی قطراتی نظام پر ہی ہے۔ اس طریقے میں سطحِ زمین پر بچھے پائپ کے ذریعے ہر درخت کے پاس Bubbler لگائے جاتے ہیں ، جن کے ذریعے تیزی سے لیکن کم مقدار میںپانی کا اخراج ہوتا ہے کہ وہ باہر نکل کر شفاف چھتری نما بلبلے کی ماند زمین پر گر کر اسے نم کرتا رہتا ہے۔ یہ طریقہ درختوں کی جڑوں بالخصوص پھل دار درختوں کو سیراب کرنے کے لیے موثر ثابت ہوا ہے۔اگر محسوس ہو کہ پانی کی ترسیل درست نہیںتو اسے ایک سادہ سے پیچ کس کی مدد سے حسبِ خواہش کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے۔

اس طریقئہ آب پاشی کے بے شمار فوائد ہیں ۔ مثال کے طور پر درختوں کو بلبلوں کے ذریعے ہونے والے رساؤ کی مدد سے اپنی حدود میں ہی پانی ملتا ہے اور اطراف کا علاقہ کیچڑ سے بھی محفوظ رہتا ہے، جس کی وجہ سے دیکھ بھال یا پھل اتارنے میں کسی قسم کی دشواری نہیں ہوتی ہے۔ پھل دار درخت آمدنی کا ذریعہ ہوتے لیکن وہ علاقے (جیسا بلوچستان) جہاں قلتِ آب کے باعث باغات کو خطرات اور مالکان کو آمدنی میں کمی کا سامنا ہے، ایسے میں یہ طریقہ حسبِ ضرورت پانی فراہم کرکے معاش اور ذریعہ آمدنی دونوں کا تحفظ کرتا ہے۔ اس نظام کو چلانے کے لیے بہت ہی کم توانائی درکار ہوتی ہے جبکہ قطراتی نظامِ آب پاشی کی طرح اِرد گرد کا رقبہ نمی کی کمی کی وجہ فصل دشمن حشرات الارض سے محفوظ رہتا ہے۔ قطراتی نظام میں تھوڑا سا ردّ و بدل کرکے اسے اس نظام میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے، نیز فی ہیکٹر لاگت بھی لگ بھگ اتنی ہی ہے۔


فوارہ نظامِ آب پاشی Sprinkler System ایک انوکھا نظام ہے، جس کی تنصیب آسان اور اس کے استعمال سے ایک طرف تو زیادہ سے زیادہ پانی کی بچت ممکن ہے تو دوسری جانب اس پر اٹھنے والی لاگت نسبتاًکم ہے اورزمین و فصل کی آبی ضروریات بھی بخوبی پوری ہوجاتی ہیں۔ یہ نظام سیلابی یا روایتی طریقئہ آب پاشی(جس میں کھیت کو منڈیروں تک پانی سے لبالب بھردیا جاتا ہے) کے مقابلے میں بہت ہی موثر نعم البدل ہے۔ سیلابی طریقئہ آب پاشی کے مقابلے میں اس نظام کے ذریعے 35تا40فیصد پانی کی بچت ہوتی ہے اور رقبہ کم ہو یا زیادہ، دونوں کو بہ آسانی سیراب کیا جاسکتا ہے۔ دراصل یہ نظام بارش کی طرح پانی زمین پرچھڑکاؤ کرتاہے ، جس میںحسبِ ضرورت پانی کی ترسیل کو بہ آسانی کم اور زیادہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کی متعدد اقسام دستیاب ہیں جن میں اسپرے، rain-gun اور موبائل سسٹم وغیرہ شامل ہیں،جنہیں صارف جغرافیائی حالت، فصل، مقامی موسم اور زمین کی مناسبت سے نصب کرسکتا ہے۔ یہ طریقہ گنّا، تمباکو،گندم، دالوں، سبزیوں، سویا بین، چائے اورکافی کے باغات سمیت ہر قسم کی فصل کے لیے موزوں ہے اور قلتِ آب کے شکاردنیا کے کئی ممالک میں مستعمل ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ نظام حادثاتی آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے بھی استعمال ہورہا ہے۔ جس کے تحت اسے جس عمات میں نصب کیا جائے وہاں خطرے کا الارم بجنے کی صورت میں یہ ازخود پانی کا چھڑکاؤ شروع کردیتا ہے۔ قطراتی نظامِ آب پاشی کے مقابلے میں اس نظام کو چلانا خاصا مہنگا ہے، کیونکہ اس مٰن بجلی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ سادہ سی ایک rain-gun کی قیمت بھی لگ بھگ تیس ہزار روپے تک ہوتی ہے، جسے 'باری نظام ' کے تحت25ایکڑ تک کا رقبہ کاشت کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ایک اور قسم Centere pivotsکی قیمت پچاس لاکھ روپےسے زائدہے۔ یہ خاصی مہنگی تکنیک پر تیار مہنگے آلات ہیں، جس کا پاکستان جیسے ملک میں عام استعمال شاید ممکن نہیں۔


پاکستان کے نہری نظام سے سیراب ہونے والی ہموارزرعی زمینوں کے لیے کھیلیوں پر کاشت Bed & Furrow Irrigation نہایت موثر نظام ہے۔ اس کے تحت نہ صرف پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ فصلوں کی کاشت پر بھی اس کے منفی نتائج نہیں پائے گئے ہیں۔ کپاس سے لے کر سبزیوں تک، سب کے لیے یہ بہترین اور کم قیمت طریقئہ آب پاشی ہے۔ نالی دار کھیت بنا کر ان نالیوں کی درمیانی گزرگاہوں سے ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک لہردار انداز میں پانی پہنچا کرفصلوں کو سیراب کرنے کا یہ طریقہ نہایت سستا، سادہ اور پاکستان کے ہموار میدانی علاقوں کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اس نظام سے استفادہ کرنے پر اٹھنے والی لاگت چند گھنٹوں کے لیے کھیتوں میں ٹریکٹر کے چلنے پر آنے والی لاگت کے برابر ہے۔ اس طریقئہ آب پاشی کا تجربہ چاول کی فصل پر بھی کیا گیااور نتائج حوصلہ افزا رہے۔ یاد رہے کہ چاول کو بہت زیادہ پانی کی ضرورت والی فصل سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ طریقئہ بہت اچھا ہے، تاہم اس میں ایک معمولی خرابی یہ ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پانی کے ساتھ آنے والی ریت اور کھیتوں میں بنی نالیوں پر پڑنے والی دھوپ کے باعث یہ آبی گذرگاہیں پختہ ہوجاتی ہیں لیکن تھوڑی سے توجہ دی جائے تو یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ یہ طریقئہ آب پاشی بھی فصلوں کو کیڑے اور دشمن حشرات الارض سے بڑی حد تک محفوظ رکھتا ہے۔ اس طریقے سے سیراب ہونے والے کھیت میں بیک وقت دو فصلیں اگائی جاسکتی ہیں، مثلا نالی دار گذرگاہوں میں گنّا لگایا جائے اور ان کے برابر بنی منڈیروں پر سبزیاں اگادی جائیں۔

آبی قلت کے حوالے سے پاکستانی منظر نامے میں دو راستے واضح ہیں۔ اول یہ کہ صدیوں پرانے فرسودہ نظامِ آب پاشی پر عمل جاری رکھا جائے، دوئم یہ کہ قدرتی وسائل کے پائیدار اور دانشمندانہ استعمال کے راستے پر چلا جائے۔ پہلے نکتے پر ہم عمل کرچکے ہیں اور اس کے منفی نتائج سامنے ہیں۔ دوسرا راستہ ہماری پیش قدمی کا منتظر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نِت نئی اور آزمودہ آبی تکنیک کو مستعمل کرنے کے لیے زرعی شعبے و آب پاشی سے متعلقہ تمام شراکت دار محکمے مشترکہ حکمتِ عملی اپنا کر موثر کوششیں کریں تاکہ انہیں فروغ حاصل ہو اور آبی ذخائر کو پائیدار بنیادوں پر استعمال کیا جاسکے۔

جدید آبی تکنیک پر استوار کفایتی آبپاشی کے طریقوں پر عمل سے کم پانی کے باوجود بھی اچھی فصل کی کاشت ممکن ہے

 

 


ڈاکٹر عبدالمجید آبی سائنسدان ہیں اور آئی یو سی این پروگرامِ آب اور اس کے ساتھ بلوچستان پروگرام کے بھی سربراہ ہیں