|
|
|
||||
تیمر کے ساحلی جنگلات انسانوں کے ایے بیش بہا خدمات سرانجام دیتے ہیں لیکن سمندر میں تازہ پانی کی عدم آمیزش اس کی بقا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے تحريروتصاوير: رفیع الحق |
||||
تیمرMangrove کے ساحلی جنگلات پاکستان کے جنوب میں صوبہ سندھ اور بلوچستان کی لگ بھگ1046کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اور سندھ ڈیلٹا Indus Delta پر محیط ہیں۔ تیمر کے ساحلی جنگلات کو مچھلیوں اور جھینگوں کی 'افزائشی نرسری' کہا جاتا ہے ۔ ماہرینِ ماحولیات کااس پر اتفاق ہے کہ تیمرکی
موجودگی ساحلوں کو سمندری طوفان اور زمین کو ہوائی کٹاؤ wind-erosionاور زمین بُردگی land-erosion سے بچاتی ہے۔ تیمر کا وجود ساحلی پٹی اور دریاؤں کی سمندر میں میٹھے پانی کی آمیزش سے مشروط ہے۔ دلدلی ساحلی علاقوں میں پروان چڑھنے والے تیمر کے جنگلات دنیا بھر کے اُن 92 ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ تیمر عموماًاِنہی ڈیلٹائی خطّوںمیں نمو پاتے ہیں جہاں دریا کے پانی کے ساتھ بہہ کر آئی ہوئی مٹی سمندر کے پانی سے ہم آغوش ہوجانے کے بعد ساحلوں پر بچھ سی جاتی ہے اور سمندر اپنی تیز اور منہ زورموجوں سے اسے مستقل نم کرتا رہا ہے اور کہیں کہیں پر سمندری پانی کم گہرائی کی صورت میں ہمیشہ موجود رہتا ہے۔اسی لیے میٹھے اور کھارے پانی کے سنگم پرواقع مستقل نم رہنے والے یہ دلدلی رقبے تیمر کے گھنے جنگلات سے ڈھکنے لگتے ہیں۔ رقبے کے اعتبار سے برازیل اور انڈونیشیا میں تیمر کے جنگلات سب سے زیادہ ہیں اور ان میں فی ملک25لاکھ ہیکٹر رقبہ تیمر کے گھنے جنگلات پر مشتمل ہے۔پاکستان کا شمار دنیا کے چودھویں بڑے ملک کے طور پر کیا جاتا ہے۔ 92 ممالک کی فہرست میں سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ ٹوباگو کا شمار بالترتیب54اور 55 نمبر پرہوتا ہے، جہاںفی ملک چار ہزار ہیکٹر رقبے پر یہ جنگل موجود ہیں۔ عام نباتات اور پودوں کی افزائشی رفتار کے مقابلے میں نسبتاً سست رو سمجھے جانے
والے تیمر کی دنیا بھر میں متعدد اقسام پائی جاتی ہیں۔پاکستان میں تیمر
کے جنگلات سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر واقع ہیں، تاہم ڈیلٹا کی بدولت
سندھ مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر سمندری خوراک کی افزائش کی نرسری اورپانی میں گھرے چھتری دار شاخوںاور دور دور تک پھیلی پتلی پتلی جال دار جڑوں والے تیمر کے درختوں کی یہی اقتصادی اہمیت ان کے اطراف لاکھوں باشندوں کی موجودگی کا سبب ہے، جو سمندری خوراک سے اپنے لیے دو وقت کی روٹی اور ملک کے لیے زرِ مبادلہ حاصل کرتے ہیں۔ آئی یو سی این ، پاکستان کے مطابق! ''دنیا بھر کے سمندروں سے سالانہ تقریباً90ملین ٹن مچھلیاں ، جھینگے اور کیکڑے وغیرہ پکڑے جاتے ہیں، جس میں پاکستان کا حصہ0.665ملین ٹن ہے۔ بحیرئہ عرب میں450سمندری انواع ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں سے تیمر کے کناروں والے بحیرئہ عرب کے پاکستانی حصے میں100انواع موجود ہیں، ان میں سے25وہ اقسام ہیں جو تیمر سلسلے والے بحیرئہ عرب کے پاکستانی ساحل سے پکڑی جاتی ہیں اور بڑے پیمانے پر ان کی درآمد ہوتی ہے۔ اس اہمیت کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ پکڑے جانے (یا تیمر کے جنگلات کی تباہی کے سبب افزائشی نرسری کا نظام غیرمتوازن ہونے کے باعث) لنگولا اور پرل آئسٹرسمیت مچھلیوں کی متعدد اقسام پاکستانی سمندر سے غائب ہوچکی ہیں۔'' بیسویں صدی کے اوائل سے 60ء کی دہائی تک دریائے سندھ پر متعدد بیراج تعمیر ہوئے ۔ یوں رفتہ رفتہ اس کا پانی انڈس ڈیلٹا کے راستے سمندر میں گرنا کم ہوتا چلا گیا اورگزشتہ ڈیڑھ عشرے سے دریائی پانی کی قلت کے سبب سمندر میں اس کی آمیزش کا سلسلہ تقریباً منقطع ہوچکا ہے۔ سمندر میں میٹھے پانی کی عدم آمیزش کے نہ صرف تیمر کے جنگلات پرمنفی اثرات مرتب ہوئے بلکہ اس نے سمندر کو بھی آگے بڑھ آنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ایک سرکاری جائزے کے مطابق سمندر کے آگے بڑھنے کے باعث زیریں سندھ کی ساحلی پٹی کی 33 ہزار ہیکٹرسے زائدزمین سمندر بُرد ہوچکی اور ان کے ہزاروں مکین بے گھر ہوچکے ہیں۔ تیمر کے جنگلات میں کمی کی وجوہات میں میٹھے پانی کی قلت کے علاوہ سمندری آلودگی ، قدرتی وسیلے کی استعداد سے زیادہ ڈالا گیا دباؤاور اس پر انحصار کرنے والی کمیونٹی کی آبادی میں ہونے والے تیز رفتار اضافے کو بھی شامل کیاجاتا ہے۔آئی یو سی این ، پاکستان کے اندازوں اور جائزوں کے مطابق! ''پاکستانی ساحلی علاقوں میں روزانہ104ملین گیلن گھریلوگنداب، صنعتی اداروں، چمڑے کے کارخانوں ،بجلی گھروں ، اسٹیل مل، اور بندرگاہوں کا157 ملین گیلن روزانہ آلودہ کیمیائی گنداب، نیز105ملین ٹن سالانہ ناکارہ تیل بحری جہازوں سے سمندر میں نکاس کیا جاتا ہے، جوتیمرکی افزائش پر اثر اندازہونے کے ساتھ ساتھ موجود جنگلات کو تیز ی سے موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ '' مجموعی طور پر سندھ و بلوچستان میںبحیرئہ عرب کی ساحلی پٹی اور سندھ ڈیلٹاکے علاقوں میں 'تیمر کمیونٹی'کی اس وقت موجود آبادی کا اندازہ ڈیڑھ سے دولاکھ نفوس سے زائد لگایا گیاہے۔ ماہی گیری، تیمرکے جنگلات کے قریب آباد لوگوں کا بنیادی ذریعہ معاش ہے۔ تیمر کے جنگلات ان لوگوں کا ذریعہ معاش بننے والی سمندری خوراک کی افزائش کے لیے اگر ایک طرف نرسری ہے تو دوسری طرف ان کی جھونپڑیوں کی تیاری کے لیے لکڑی، جلانے کے لیے ایندھن اور پالتو مویشیوں کے لیے چارے کی فراہمی کا بنیادی ماخذ ہے ۔ یوںوہ قدرت کے فراہم کردہ وسائل سے مفت میں استفادہ کرتے ہیں۔آئی یو سی این کے جائزے کے مطابق''پاکستان کے ساحلی علاقوں میں1لاکھ، 50ہزار تیمر کمیونٹی کے باشندے مجموعی طور پر ماہانہ36ہزار ٹن تیمر کے درخت کی لکڑی کو بطور گھریلو ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ ان کے پالتو 1لاکھ،16 ہزارسے زائد اونٹ،6ہزار بکریاں،3ہزار کے لگ بھگ گائے، بھینس اور دیگر پالتو مویشی اس درخت کے پتوں کو بطورِ چارہ استعمال کرتے ہیں۔'' مگر گزشتہ چند عشروں سے حالات میں واضح تبدیلیاں آرہی ہیں۔کوٹری بیراج سے زیریںڈیلٹائی علاقوں میںپانی کا اخراج تقریباً بند ہوچکا ہے، جس کے سبب سمندر کے آگے بڑھنے کی رفتار خاصی تیز ہو گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل سے استفادے کی شرح میں تیز رفتار اضافے کے سبب تیمر کے جنگلات کا رقبہ بھی تیزی سے گھٹتا جارہا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی مرتب کردہ دستاویز Coastal Environmental Management Plan کے مطابق: ''1966 ء میں پاکستان میں تیمر کے گھنے جنگلات کا رقبہ604,807 ہیکٹرپر مشتمل تھا۔1986 ء میں یہ گھٹ کر440,000 ہزار ہوا۔1992ء کے جائزے کے مطابق اس میں مزید کمی آئی اور یہ مزید گھٹ کر160,00 ہیکٹر تک پہنچ گیا،تاہم2003ء تک یہ کم ہو کر تقریباً16,000ہیکٹر رہ گیا ہے ۔'' آج دنیا بھر میں تیمر کے جو جنگلات موجود ہیں، وہ فطرت کی صدیوں کی ریاضت کا ثمر ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی انسانی آبادی اور غیر متوازن استفادے کے باعث ان کا کم ہوتاہوا رقبہ تشویش کا سبب ہے۔ اس لیے تیمرکے فوائد، انسانی تہذیبوں کے اس پر انحصار اور معاشی اہمیت کے سبب پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کی باضابطہ شجرکاری کی طرف سنجیدہ عملی کوششیں گزشتہ کئی عشروں سے جاری ہیں۔پاکستان میںواقع تیمر کے ساحلی جنگلات دنیا بھر میں اپنے حجم اور نوعیت کے اعتبار سے چودھویں نمبر پر شمار کیے جاتے ہیں، لہٰذا ان کا کم ہوتا ہوا رقبہ عالمی ماحولیاتی اداروں کے لیے تشویش کا سبب رہا ہے ۔ ان جنگلات کی اہمیت و افادیت 2004ء کے آخر میں آنے والے سونامی کے بعد اور واضح ہوچکی ہے۔ اور اسے سونامی کی صورت میں ڈھال کے طور پر لیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے عالمی سطح پر ان کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔گزشتہ دوعشروں سے بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این پاکستان، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان ، وفاقی وزارتِ ماحولیات، پاکستان اور سندھ و بلوچستان کے مختلف متعلقہ سرکاری اداروںکی جانب سے ملک کے ان ساحلی جنگلات کے تحفظ اور نئے جنگلات لگائے جانے کے حوالے سے نہایت سنجیدہ عملی کوششیں کی جارہی ہیں، جن کے نتائج ثمر آور ہیں تاہم ابھی یہ سفر جاری ہیں اور بہت کچھ کرنا، بہت کچھ ہونا باقی ہے۔
| ||||
|
||||
رفیع الحق آئی یو سی این پاکستان سے بطور نیچرل ریسورس مینیجمنٹ کوآرڈینیٹر وابستہ ہیں |
||||
|
|
||||