پاکستان میں پانی کے غیر دانشمندانہ استعمال سے کون کون سے اہم مسائل پیدا
ہوئے نیزاس وقت آبی قلت کے ماحول، معیشت اور انسانوں پر کیا اثرات ہیں۔ان
سوالوں کے جواب کی تلاش میںمندرجہ ذیل حقائق سامنے آتے ہیں:
- پاکستان دنیا میں ایک بڑا دریائی اور نہری نظام رکھتا ہے اور ماضی میں پانی کی
وافر دستیابی کے باعث اس نظام میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ جس کے لیے دریاؤں
پر بڑی تعداد میں بیراج بھی تعمیر کیے گئے اور نہریں بھی نکالی گئیں، مگر
اب ہمارے پاس اتنا وافر پانی نہیں ہے کہ اس روایتی نہری نظام میں آبی بہاؤ
جاری رکھا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی
اب زیریں سندھ میں کوٹری بیراج پرہی روک دیا جاتا ہے۔
- دریائی پانی میں قلت کے سبب سمندر میں تازہ پانی کی عدم آمیزش
لگ بھگ گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے جاری ہے۔ یہ صورتِ حال 'ماحولیاتی آبی بہاؤ'
میں رکاوٹ ثابت ہوئی ہے ، جس کے اثرات ماحول بالخصوص تیمر کے ساحلی جنگلات
اور سندھ ڈیلٹا پر پڑے ہیں۔ اگرچہ بحر عرب میں میٹھے پانی کے اخراج کے حوالے
سے مختلف طبقہ ہائے فکر و نظر مختلف نظریات رکھتے ہیں، لیکن ماہرین ماحول
کا اتفاق ہے کہ سمندر میںدریا کے میٹھے پانی کی شمولیت معیشت کے لیے فائدہ
مند اور ساز گار ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے نا گزیر ہے۔ 'ماحولیاتی
آبی بہاؤ' میں رکاوٹ نے بحرِ عرب کی موجوں کو زیریں سندھ کے وسیع رقبے ،انڈس
ڈیلٹا کے خطّے اور دریائے سندھ کی اُن آبی گذرگاہوں میں داخلے کا موقع فراہم
کردیا، جس کے ذریعے تازہ پانی سمندر میں جا گرتا تھا۔ یوں تیمر کا ماحولیاتی
نظام اور اس میں پروان چڑھنے والے سمندری آبی حیات کے مسکنوں کو نقصان پہنچا
، بلکہ ان سمندری حیات کی نشونما بھی متاثر ہوئی جو سمندری خوراک کے طور
پرہماری برآمدی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس صورتِ حال کے باعث
نہ صرف تیمر کے سازگار قدرتی ماحول پر انحصار کرنے والے، بلکہ زیریں سندھ
کے وہ لاکھوں لوگ بھی معاشی تباہی اور ہجرت کا شکار ہوئے، جن کی زمینوںپر سمندر چڑھ آیا ہے۔
- پاکستان میں مختلف چھوٹے چھوٹے دریا بھی بہتے ہیں جو مختلف
مقامات پر اس میں شامل ہوجاتے ہیں، لیکن بنیادی اعتبار سے ملکی معیشت ،
زرعی شعبے اور انسانی ضروریات کی تکمیل کے لیے سب سے بڑا ذریعہ دریائے سندھ
ہی ہے۔ پاکستان کے برعکس دنیا کے کئی ممالک کا آبی انحصار ایک سے زائد دریاؤں
پر ہے۔ مثال کے طور پر بھارت، جس کی آبی ضروریات ایک سے زائد بڑے بڑے دریاؤں
پر انحصارکرتی ہے۔ اس طرح صرف ایک بڑے دریا کی موجودگی اور اس پر انحصار
، نیز اس میں بھی پانی کے بہاؤ میں کمی ہمارے آبی وسائل کو نہایت محدود
کرچکی ہے اور یہ صورتِ حال قطعاً آبی فضول خرچی کی اجازت نہیں دیتی۔
- روایتی نہری نظامِ آب پاشی میں پانی کی قلت کے باعث زیرِ زمین
پانی کے ذریعے ضروریات کی تکمیل کا رجحان بھی گزشتہ عشروں کے دوران فروغ
پذیر رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کے نتیجے میں زیرِ زمین آبی ذخائر کی مقدار
متاثر ہوئی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق'' گزشتہ چالیس برسوں کے دوران
زیرِ زمین آبی ذخائر سے استفادے کے سبب آج پانی کی سطح خاصی نیچے گرچکی
ہے اور اس لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ بلوچستان ہے، تاہم اس بات کے
حتمی ثبوت فی الوقت دستیاب نہیں کہ ملک میں مجموعی طور پر زیر زمین پانی
کا کتنا استحصال ہوا ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ ملک میںسالانہ دس ہزار ٹیوب
ویل نصب ہوتے ہیں جن کے ذریعے زیرِ زمین پانی کھینچ کر زرعی شعبے کے لیے
استعمال ہوتا ہے۔ اس وقت ٹیوب ویلوں کے ذریعے زیرِ زمین پانی کا زراعت میں
استعمال روایتی نہری نظام کا نصف ہے۔ بے دریغ پانی کے کھینچے جانے سے نہ
صرف اس کی مقدار بلکہ اس کا معیار بھی متاثر ہورہا ہے۔''
- روایتی نہری نظامِ آب پاشی سے بے دریغ استفادے نے ملک میں
سیم و تھور اور نکاسی آب کے مسئلے کو جنم دیا ہے۔ زمین میں شور زدہ پانی
کو ٹیوب ویلوں کے ذریعے نکالنے اور اس کو ٹھکانے لگانے کے مسئلے نے ملک
میں نکاسیِ آب کے مسئلے کو جنم دیا ہے۔ نکاسیِ آب کے ناقص نظام سے ملک میں
پانی کا معیار متاثر ہوا جبکہ تازہ پانی کے ذخائر میں گنداب کی نکاسی نے
آبی آلودگی میں اضافہ کیا ۔ نیز صنعتی ، زرعی اور گھریلوآلودہ پانی کی نکاسی
کے سبب ملک میں تازہ پانی کے کئی ذخائربدترین آلودگی کا شکار ہوئے۔ ان میں
منچھر ، حمّل اور خیشکی ذخیرئہ آب کے علاوہ ہمارے دریا اور نہریں بھی شامل
ہیں اور عموماً بڑے شہروں کا گنداب انہی میں برائہ راست بغیر کسی ٹریٹمنٹ
کے نکاس کردیا جاتا ہے۔ جس کے سبب آبی آلودگی نے انسانی صحت کو بھی بری
طرح متاثر کیا ہے۔ مثال کے طور پر قصور میں چمڑے کے کارخانوں سے کیمیائی
آلودہ پانی کے اخراج کے لیے موثر نظام نہ ہونے کے باعث یہ ا طراف کی زمینوں
پر جوہڑ اور تالاب کی شکل میں پھیلتا چلا گیا۔ نیز زیرِ زمین آبی ذخائر
پر بھی اثر ہوا۔ جس کے نتیجے میں آج بڑی تعداد میں مقامی باشندے کینسر اور
دیگر مہلک جِلدی امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
- پاکستان کے بڑے آبی ذخائر پانی کے ساتھ بہہ کر آنے والی ریت
و مٹی کے تہ میں بھرجانے کے باعث اپنی گنجائش کھوتے جارہے ہیں اور اس کے
باعث قلت کے دوران درکار طلب کے مطابق پانی کی فراہمی نہ صرف مشکل ہورہی
ہے بلکہ بین الصوبائی شراکت داروںمیں بھی تنازع کا سبب ہے، نیز نئے آبی
ذخائر کی تعمیر بھی متنازع ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں
فی کس ذخیرئہ آب کی شرح 150کیوبک میٹر ہے جبکہ امریکا اور آسٹریلیا میں
میں یہ شرح 5 ہزار کیوبک میٹر فی کس سے زائد ہے۔یوں مستقبلِ قریب میںآبی
قلت کے دوران مشکل وقت گزارنے کے لیے پانی کی دستیابی پر سوالیہ نشان ہے۔
- پانی کی کفایت میں ایک اہم کردار ترسیل اور فراہمی کے بنیادی
ڈھانچے کا بھی ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پانی کی ترسیل
کا بنیادی ڈھانچہ پرانا اور کمزور ہوچکا ہے۔ کفایتی آب پاشی کے لیے اس کی
ازسرِ نو تعمیر، مرمت اور دیکھ بھال کی توجہ طلب ہے۔
|