قلتِ آب کے بحران سے حیات، خوراک، ترقی اور قدرتی ماحول پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے، ایسے میں پائیدار استعمالِ آب ہی بقا کا واحد راستہ ہے

تحرير و تصاوير: مختار آزاد


حقیقت پسندی کا تو تقاضا یہی ہے کہ اگر گلاس پانی سے آدھا بھرا ہوا ہے تو اسے آدھا خالی نہیں کہنا چاہیے ۔ ہاں جب گلاس ایک چوتھائی خالی ہو تو حقیقت پسندی کی نظرکے ساتھ دور اندیش فِکر اپناتے ہوئے اسے چوتھائی خالی گلاس کہیں اور ضرورت کے مطابق اسے بھرنے کی فِکر کریں یا پھرجو کچھ بچا ہے اسے سنبھال کر استعمال کریں۔ یہی حالات اس وقت شعبہ آب میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے اکثر ممالک کو درپیش ہیں۔ پاکستان اگرچہ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو سطحِ زمین کے آبی ذخائر، منجمد برف اور زیرِ زمین میٹھے پانی کا وسیع خزانہ رکھتے تھے۔ یہی سبب تھا کہ اس خطّے میں دنیا کا ایک عظیم نہری نظامِ آب پاشی وجود میں آیا، مگر اب حالات اس کے برعکس ہیں۔ آج پاکستان کو بھی دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص خشک، بنجراور نیم بنجر جغرافیائی ساخت رکھنے والی ریاستوں کی طرح قلتِ آب کے مسائل کا سامنا ہے۔ قلتِ آب کا یہ مسئلہ ایک طرف تو انسانی زندگی، خوراک اور صنعتی ترقی پر سوالیہ نشان لگارہاہے تو دوسری جانب قدرتی ماحول کی بقا بھی خطرے سے دوچارہے۔

پاکستان میں پانی کی کم ہوتی ہوئی مقدار کے پیشِ نظر جنوری2006ء میں جاری کردہ رپورٹ Water Economy: Running Dry میں عالمی بینک کا کہنا ہے ''پاکستان اس وقت شدید آبی قلت کے دباؤ کاسامنا کرنے والا ملک ہے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر آبی طلب میں اضافے کا رجحان ہے۔ جس کے سبب اسے سنگین آبی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔''

دریاۓ سندھ کی کہانی

دریائے سندھ کا شمار دنیا کے بڑے بڑے دریاؤں میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس کی مثال خوراک ، معاش اور حیات کے میدان میں شہ رگ کی مانند ہے۔  --- مزيد پڑھيے۔

 

پاکستان کا نہری نظامِ آب پاشی

پاکستان میں جہلم، راوی، چناب سمیت متعدد چھوٹے بڑے دریا بہتے ہیں ، لیکن دریائے سندھ کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں مختلف مقامات پر لگ بھگ تمام دریا آکر گرتے ہیں ۔ --- مزيد پڑھيے

 

بڑے ڈیم اور ماحول

تقسیمِ ہند سے قبل پاکستان کے موجودہ جغرافیائی خطّے میں صرف تین ڈیم تھے، تاہم ان میں سے کوئی بھی دریائے سندھ یا کسی اور بڑے دریا پر تعمیر نہیں کیا گیا تھا --- مزيد پڑھيے

 

آبی آلودگی اور انسانی صحت

پانی اور حیات دونوں کا رشتہ نہایت ہی قریبی اور مضبوط ہے لیکن جب صحت مند پانی نہ ملے توپھر موت مقدر بننے لگتی ہے --- مزيد پڑھيے

جغرافیائی لحاظ سے نیم خشک اور بنجر موسمی حالات کے خانے میں شمار کیے جانے والے پاکستان میں سالانہ بارش کی مجموعی اوسط شرح 240ملی میٹر ہے ، لیکن دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں ملک کے شمال میں واقع برفیلے پہاڑوں اور ہمالیہ اور تبت سے بہہ کر آنے والے پانیوں کے بدولت ملکی معیشت کو'آبی معیشت'بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان اپنے قیام سے ہی زرعی پس منظر کا حامل ملک رہا ہے اور اس وقت بھی قومی شرح پیداوار (جی ڈی پی) میں زرعی شعبے کا حصہ 25فیصد ہے۔ ایسے میں پاکستان میں آبی قلت کا مسئلہ معیشت پر سنگین اثرات کا حامل ہوگا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم خود کو اس طرح تیار کرپائے ہیں کہ اس آبی قلت کے بحران کا سامنا کرسکیں۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی نے 'انسانی ترقی کی رپورٹ2006ئ' میں واضح طور پر کہا ہے کہ ''دنیا میں اس وقت جن ممالک کو سنگین آبی بحران کا سامنا ہے اس کی وجوہات میں غلط پالیسی سازی کا بڑاعمل دخل ہے۔ بعض ریاستیں اپنی غلط پالیسیوں اور زرِ تلافی کی سہولتوںکے سبب آبی اصراف کو فروغ دیتی ہیں، جس کا نتیجہ لا محالہ آبی قلت کی صورت میںہی نکلتا ہے۔''

یہ بات پاکستان پر بھی صادق آتی ہے۔ مثال کے طور پراس وقت رقبے اور خشک جغرافیائی ساخت کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو سنگین آبی قلت کا سامنا ہے۔جس کی وجہ ایک طرف تو1997ء سے2004ء کے آخر تک جاری رہنے والی خشک سالی ہے تو دوسری طرف زرِ تلافی کے سبب ٹیوب ویلوں کے وہ طے شدہ نرخ ہیں، جس نے خشک سالی کے دوران زیرِ زمین پانی کو بُری طرح کھینچنے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کی۔ ماہرینِ آب کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی بدولت اس وقت نہ صرف کوئٹہ بلکہ صوبے کے تقریباً تمام مقامات پر زیرِ زمین پانی کی سطح اس حد تک نیچے گرچکی ہے کہ اس کی دوبارہ بحالی اور ری چارج تشویشناک سوال بن چکاہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کی تنصیب اور استعمال کا رجحان1970ء کے بعد زرِ تلافی کی سہولت کے ساتھ شروع ہوا تھا، مگر متوازن موسمی حالات نے اسے سنبھالے رکھا۔ تاہم حالیہ خشک سالی میں زیرِ زمین پانی کے کھینچنے کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھا اور آج یہ ایک نہایت سنجیدہ مسئلے کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔