دریائے سندھ کا شمار دنیا کے بڑے بڑے دریاؤں میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس کی مثال خوراک ، معاش اور حیات کے میدان میں شہ رگ کی مانند ہے۔ اس کا منبع تبت میں جھیل مانسرور سے لگ بھگ30میل دور کیلاش کے برفانی پانیوں میں ہے۔ یہاں سے بہتا ہوا یہ عظیم دریا ایک چھوٹے سے مقام 'دم چُک' سے لداخ میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہاں اسے 'سنگھے کھبب' کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ 'سنگھے' کا مطلب 'شیر' اور 'کھبب' کا معنیٰ 'منہ 'یا 'دہانہ' کے ہیں۔

اسکردو کے مقام پر دریاۓ سندھ کا ایک منظر -- ریتیلے میدان میں دریا کا چوڑا پاٹ اس کی رفتار کو کم کردیتا ہے

کہنے والے کہتے اور دیکھنے والے بتاتے ہیںکہ لداخ دیکھنے میں خشک، پتھریلا اور ریتیلا نظر آتا ہے، لیکن اس کے بیچوں بیچ چاندی سی رنگت لیے ہوئے چوڑی سی لکیر کی مانند بل کھاتا ہوا یہ دریا جب شمالی علاقہ جات کی تنگ پہاڑی گھاٹیوں اور پنجاب کے میدانوں سے گذر کر سندھ کے ہموار خطّے میں میلوں کی چوڑائی کے ساتھ شاہ بندر سے آگے کھارو چھان تک پہنچتا تھا تو ہتھیلی پھر پھیلی ہوئی لکیروں کی طرح شاخوں میں بٹ کرسمندر سے اتنے جوش سے ٹکراتا تھا کہ نیلگوں موجوں کو میلوں پیچھے ہٹنا پڑتا۔ لداخ میں چاندی کی لکیر کی مانند نظر آنے والادریائے سندھ طویل سفر میں گرد سے اتنا اٹ چکا ہوتا تھا کہ اس کی گدلاہٹ سے بحرِ عرب کی شفاف نیلگوں موجیں بھی دور دور تک مٹیالی ہوجاتی تھیں۔

بہت دور پاکستان کے شمال میں اونچے اونچے برف کی چوٹیوں والے پربت کے دور اُفتادہ اُن گاؤں اور دیہاتوں میں جہاں سے لکیر کی مانند دریائے سندھ گذرتا ہے، آج بھی ایک لوک کتھا کہی جاتی ہے۔ سینہ بہ سینہ منتتقل ہونے والے قصے کو سنانے والے کہتے ہیں !

'' انسانی بستیوں سے صرف دنوں کے نہیں بلکہ مہینوں کے فاصلے پر دشوار گذار ہمالیہ کی پہاڑی گھاٹیوں میں کن پھٹے جوگیوں کا ایک ڈیرہ تھا۔ 'کن پھٹے جوگی' دراصل تپسیّا (ریاضت) کی ایک بہت بڑی منزل ہوتی ہے اور یہ سب جوگی اس منزل کو پالینے کی غرض سے یہاں جمع ہوئے تھے۔ ایک دن ان میں سے بعض جوگیوں نے ایک بہت بڑے سانپ کو دیکھا۔ سانپ چھوٹا ہو یا بڑا، جوگیوں کے لیے تو اسے پکڑنا کھیل کی طرح ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے بین بجائی، تھوڑی سی بھاگ دوڑ کی، کسی منتر کا راگ الاپا۔۔۔اور سانپ ان کے پنجوں میں آگیا۔ اب انہوں نے جب سانپ کو پٹاری میںبندکرنا چاہا تو وہ پوری قوت لگا کر ان کے ہاتھوں سے کھسکا اور پنجوں کا گھیرا توڑ کر بھاگ نکلا۔ جوگیوں کا خوف اور قید سے بچنے کے لیے سانپ پر اتنی ہیبت سوار تھی کہ وہ بھاگتا ہی چلا گیا۔ لہراتا بل کھاتا ہوا سانپ اتنا سرپٹ دوڑا کہ سیکڑوں میل دور جا کر 'سندھ سمندر' میں غائب ہوگیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سانپ جہاں جہاں سے بھی گذرا، جس جس انداز میں لہراتا ہوا دوڑا، اُسی انداز میں انہی راستوں پر ایک بہت بڑا دریا نمودار ہوا اور وہ بھی آگے جاکر اُسی سندھ سمندر میں غائب ہونے لگا، جہاں پر بھگوڑا سانپ گم ہوا تھا۔ اب کسی کو یہ نہیں معلوم کہ یہ دریا حقیقت میں کیا وہ جوگی تھے جن کے ہاتھوں سے سانپ فرار ہوا تھا اوردریا کا روپ دھار کر وہ اصل میں سانپ کا پیچھا کررہے تھے۔''

سانپ کے تعاقب کی لوک کتھا ہو یا کششِ ثقل کے سائنسی اصولوں کے تحت پانی کا بہاؤ۔ ایک بات طے ہے کہ ہزاروں برس سے دریائے سندھ کے پانی کا سندھ سمندر یعنی بحیرہئ عرب سے ٹکراؤ ہوتارہا ہے۔ اسی دریا نے اپنے کناروں پر شاندار تہذیبوں کو جنم دیا اوربحیرہئ عرب سے زمین چھین کر اپنے ساتھ لائی ہوئی مٹی سے ایک بڑا ڈیلٹا تشکیل دیتا رہا۔ مگر اب کہانی بدل رہی ہے۔ 'دریا جوگی' تھکنے لگا ہے، اسی لیے اس کا پانی بحیرہئ عرب میں گرنے کے بجائے اس سے لگ بھگ سو کلومیٹر پہلے ہی کوٹری بیراج کے کے قریب گم ہوجاتا ہے۔ کہانی کا سفر اُلٹے رخ پر چل پڑا ہے۔ اب دریا پیچھے ہٹ رہا ہے اور سمندر اُنہی راستوں پر اس کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھنا شروع ہوگیا ہے، جن پر سے بہتا ہوا یہ 'سانپ دریا 'سمندر کی پنہایوں میں جا سوتا تھا۔

سمندر آگے بڑھے یا پیچھے ہٹے، مگر سانپ، دریا اور سمندر کی کہانی میں سانپ اب بھی موجود ہے۔ مگر اب یہ سانپ سمندر میں نہیں بلکہ اُن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو کبھی تیمر کے زریرِ سایہ سندھ ڈیلٹا میں رہتے اور سمندر سے مچھلی پکڑ کر دو وقت کی روٹی کما کر چین کی بانسری بجاتے تھے۔ دریائے سندھ یہاں سے غائب ہوا تو ڈیلٹا بھی دم توڑنے لگا ہے۔ اب تیمر اور سندھ ڈیلٹا کے متعدد باسی جو کبھی جوگیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے، دکھ کی بانسری تھام کر خوشی کی دھن بجاتے ہیں۔ سانپ کو پکڑ کر بیچتے ہیں ، دو وقت کی روٹی کماتے ہیں اور رات آتی ہے تودکھوں کی چادر اوڑھ کر ماضی کی شان و شوکت کو یاد کرتے ہوئے سوجاتے ہیں، ایک نئی صبح کو جاگنے اور سانپ پکڑنے کے لیے۔۔۔ اُمید ان کے پاس ہے، لیکن قلتِ آب اور دریائے سندھ کے روٹھ جانے سے وہ بھی جاتی جارہی ہے، مٹھی میں بند کھسکتی ریت کی مانند یا پیروں تلے سے چھنتی ہوئی سندھ ڈیلٹا کی زمین کی طرح!!!

مختار آزاد